’مذاکرات ایک بار پھر ناکام، ایرانی حج نہیں کریں گے‘

،تصویر کا ذریعہAP

ایران نے سعودی عرب سے دوسری بار مذاکرات ناکام ہونے کے بعد کہا ہے کہ وہ اس سال حج کے لیے اپنے شہریوں کو سعودی عرب نہیں بھیجے گا۔

ایران کی جانب سے سعودی عرب پر صورتحال کو ’سبوثاژ‘ کرنے اور حاجیوں کو تحفظ فراہم کرنے کی ضمانت نہ دینے کا الزام بھی عائد کیا گیا ہے۔

٭ <link type="page"><caption> افغانیوں کےلیےعمر کی شرط، ایرانیوں کےلیےالیکٹرانک ویزا</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/regional/2016/05/160527_afghan_umrah_fz" platform="highweb"/></link>

٭ <link type="page"><caption> ’شہریوں کو حج سےمحروم کرنے کی ذمہ داری ایران کی ہے‘</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/regional/2016/05/160514_iran_haji_saudi_arabia_ra.shtml" platform="highweb"/></link>

خیال رہے کہ دونوں ممالک کے درمیان گذشتہ سال حج کے دوران بھگڈر مچنے سے ہونے والی ہلاکتوں کے بعد سے حالات کشیدہ ہیں۔

بھگڈر میں ہلاک ہونے والے افراد میں <link type="page"><caption> زیادہ تعداد ایرانیوں کی تھی۔</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/regional/2015/10/151001_iran_hajj_death_toll_hk.shtml" platform="highweb"/></link>

جبکہ اس سال جنوری میں تہران میں سعودی عرب کے سفارت خانے پر طالبہ کے حملے کے بعد سے سعودی عرب اور ایران میں سفارتی تعلقات منقطع ہیں۔ اس واقعہ کے بعد سے دونوں ملکوں کے درمیان براہ راست فضائی رابطے بھی منقطع کر دیے گئے تھے۔

اتوار کو ایران کے سرکاری ذرائع ابلاغ میں ادارہ برائے حج اور زیارت کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ ’سعودی حکومت کی جانب سے جاری سبوتاژ کی وجہ ہے یہ اعلان کیا جاتا ہے ایرانی زائرین کو اس سال فریضہ حج ادا نہیں کرنے دیا جا رہا اور اس کی ذمہ داری سعودی عرب کی حکومت پر عائد ہوتی ہے۔‘

گذشتہ سال حج کے موقع پر بھگڈر میں ہلاک ہونے والے افراد میں زیادہ تعداد ایرانیوں کی تھی

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنگذشتہ سال حج کے موقع پر بھگڈر میں ہلاک ہونے والے افراد میں زیادہ تعداد ایرانیوں کی تھی

اس سے قبل سعودی ذرائع ابلاغ کا کہنا تھا کہ ایرانی وفد حج کے حوالے سے کسی معاہدے پر پہنچے بغیر ملک سے چلا گیا ہے۔

ایسا دوسری مرتبہ ہوا ہے کہ دونوں ممالک کے مابین حاجیوں کے حوالے سے کوئی معاہدہ طے نہیں پایا جا سکا۔

خبررساں ادارے روئٹرز کے مطابق ایران کے وزیرثقافت علی جنتی نے ایران کے سرکاری ٹی وی کو بتایا کہ ’سعودی حکومت کے گذشتہ سال کے اقدامات اور ایران اور دیگر ممالک کے بہت سارے حاجیوں کی شہادت کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے حاجیوں کے تحفظ کا معاملہ ہمارے لیے بہت اہم ہے۔‘

اس سے پہلے گذشتہ ماہ ایران نے اعلان کیا تھا کہ سعودی عرب سے حج کے دوران ایرانی شہریوں کے انتظامات کے حوالے سے معاہدے پر مذاکرات ناکام ہو گئے ہیں۔

اس کے بعد سعودی عرب نے کہا تھا کہ ایران کے’ناقابلِ قبول مطالبات‘ کی وجہ سے دونوں ملکوں کے مابین حج انتظامات کے حوالے سے معاہدہ طے نہیں پا سکا ہے۔

سعودی عرب کے وزیر عمرہ و جج ڈاکٹر محمد طاہر بینتن نے کہا تھا کہ ایران کا مطالبہ تھا کہ ایرانی شہریوں کو ایران میں ہی ویزہ جاری کیا جائے اور ان کےلیے ٹرانسپورٹ کے علیحدہ انتظامات کیےجائے۔

تہران میں سعودی عرب کا سفارتی عملہ موجود نہیں ہے اور وہ چاہتا ہے کہ ایران شہری حج کے لیے کسی تیسرے ملک سے ویزا کی درخواست دیں۔

تاہم ایران چاہتا ہے کہ سعودی عرب تہران میں قائم سوئٹزرلینڈ کے سفارت خانے کے ذریعے ویزے جاری کرے۔ تہران کے ساتھ ریاض کے تعلقات کے خاتمے کے بعد سوئس سفارتخانہ سعودی معاملات کی نگرانی کر رہا ہے۔