’ایرانی شہری حج کے لیے نہیں جا سکیں گے‘

،تصویر کا ذریعہGetty
ایران کا کہنا ہے کہ سعودی عرب سے حج کے دوران ایرانی شہریوں کے انتظامات کے حوالے سے معاہدے پر مذاکرات ناکام ہو گئے ہیں۔
ایرانی خبررساں ادارے ارنا کے مطابق وزیر ثقافت اور مذہبی امور علی جنتی کا کہنا ہے کہ سعودی عرب نے مذاکرات میں ’تباہ کن‘ کردار ادا کیا ہے۔
٭ <link type="page"><caption> ’سعودی عرب واقعے کی ذمہ داری قبول کرے اور معافی مانگے‘</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/world/2015/09/150926_iran_saudi_arabia_hajj_stampede_sh" platform="highweb"/></link>
سعودی عرب نے علی جنتی کے اس بیان پر ردعمل کا اظہار نہیں کیا ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق ایرانی شہریوں کی اس سال حج میں عدم شرکت دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں تلخی واضح ہوتی ہے۔
اے ایف پی کے مطابق ایران نے حاجیوں کے انتظامات کے معاہدے میں ناکامی کی تمام ذمہ داری سعودی عرب پر عائد کی ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق سعودی عرب نے مذاکرات میں سردمہری دکھائی اور اس کا رویہ غیر مناسب اور منفی تھا۔

،تصویر کا ذریعہAFP
واضح رہے کہ تہران میں سعودی عرب کا سفارتی عملہ موجود نہیں ہے اور وہ چاہتا ہے کہ ایران شہری حج کے لیے کسی تیسرے ملک سے ویزا کی درخواست دیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
تاہم ایران چاہتا ہے کہ سعودی عرب تہران میں قائم سوئٹزرلینڈ کے سفارت خانے کے ذریعے ویزے جاری کرے۔ تہران کے ساتھ ریاض کے تعلقات کے خاتمے کے بعد سوئس سفارتخانہ سعودی معاملات کی نگرانی کر رہا ہے۔
علی جنتی کا کہنا تھا کہ سعودی عرب نے ایران کی جانب سے ایرانی حاجیوں کو سکیورٹی اور ٹرانسپورٹ فراہم کرنے کی تجویز بھی قبول نہیں ہے۔
خیال رہے کہ ایران اور سعودی عرب خطے میں حریف ہیں اور دونوں کے درمیان شام اور یمن کے بحران پر تعلقات پہلے سے کشیدہ تھے اور ان میں مزید تلخی اس وقت آئی جب گذشتہ برس حج کے موقعے پر بھگدڑ مچنے سے سینکڑوں حاجی ہلاک ہو گئے اور ان میں اکثریت ایرانی شہریوں کی تھی۔

،تصویر کا ذریعہAP
اس واقعے پر ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے سعودی حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ واقعے کی ذمہ داری قبول کرے اور معافی مانگے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’ادھر اُدھر الزام تراشیاں کرنے کے بجائے، سعودی عرب کو ذمہ داری قبول کرنی چاہیے اور مسلمانوں اور متاثرہ خاندانوں سے معافی مانگنی چاہیے۔‘
اس حادثے پر ایران نے شدید احتجاج کیا تھا لیکن اس واقعے کے بعد جنوری میں سعودی عرب میں معروف شیعہ عالم شیخ نمر النمر کو پھانسی دے جانے کے بعد ایران میں سعودی عرب کے سفارت خانے پر مظاہرین نے دھاوا بول دیا اور اس کے جواب میں سعودی عرب نے ایران سے اپنے سفارتی تعلقات توڑ دیے۔







