’حج کے نام پر فراڈ سے ہوشیار رہیں‘

،تصویر کا ذریعہGetty
- مصنف, گروندر گِل
- عہدہ, بی بی سی ایشیا نیٹ ورک، لندن
ہرسال 25 ہزار سے زائد برطانوی مسلمان سعودی عرب کے شہر مکہ میں حج کی ادائیگی کے لیے جاتے ہیں۔ بہت سارے ایسے افراد بھی ہیں جو زندگی میں صرف ایک بار ہی جا سکتے ہیں۔
وہ کئی سال اس کے لیے رقم جمع کرتے ہیں اور مہینوں پہلے بکنگ کرواتے ہیں۔ لیکن ہرسال کچھ مسلمان اس وقت حج کے لیےدی گئی ہزاروں پاؤنڈ کی رقم سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں کیونکہ انھوں نے کسی ایسی کمپنی کے ساتھ بکنگ کروائی ہوتی تھی جو رجسٹرڈ نہیں تھی۔
برطانیہ میں اس سال پولیس ملک بھر میں لوگوں کو ایسے دھوکے بازوں سے بچنے کی تنبیہ کر رہی ہے۔
یہی وہ وقت ہے، اپریل اور اگست کے مہینوں کے درمیان جب لوگ اپنے سفر کی بکنگ کراتے ہیں۔ لیکن ہرسال بہت سے مسلمان حج فراڈ کا نشانہ بن کر مالی بدحالی کا شکار ہوجاتے ہیں۔
کونسل آف برٹش حاجیز کے راشد موغرادیا کہتے ہیں: ’صارفین عموماً سستی ڈیل چاہیں گے۔ یہیں ہمیں سفر کرنے والے کی حوصلہ افزائی اور انھیں بتانے کی ضرورت ہے کہ وہ سمجھ سکیں کہ ان کے لیے کیا بہترین ہوسکتا ہے؟‘
جیسا کہ پولیس کئی برسوں سے حج کے حوالے سے لوگوں کو فراڈ کے خطرات کے بارے میں آگاہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

لندن پولیس کی جانب سے حج فراڈ سے بچنے کے لیے ایک ویڈیو بھی جاری کی گئی ہے جس میں لوگوں کو ایسی دھوکہ دہی کے بارے میں متنبہ کیا گیا ہے۔ اس ویڈیو میں ایک زائر محمد اس حوالے سے بتاتے ہیں کہ کیسے انھوں نے چار ہزار سے زائد پاؤنڈ کھو دیے۔
ان کے ساتھ ہونے والے فراد میں کچھ ایسا ہوا کہ دھوکہ باز شخص نے ان سے ’حج پروگرام سے خاصا پہلے رقم طلب کی تھی۔‘ وہ بتاتے ہیں کہ ’جب میں نے رقم پہلے ادا کر دی، اس نے مجھے یہ رسیدیں دیں۔ اور میں نے کوئی سوال نہیں اٹھایا کیونکہ میں اس سے قبل بھی ایسے ہی رقم کی ادائیگی کر چکا تھا۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
گذشتہ سال لندن پولیس کا کہنا تھا کہ انھیں 49 افراد کی جانب سے شکایت موصول ہوئی کہ ان کے ساتھ دھوکہ ہوا ہے۔
تفتیشی کانسٹیبل سٹیون کیٹل تسلیم کرتے ہیں اصل اعداد شمار شاید اس سے کہیں زیادہ ہیں اور بہت سارے لوگ اس حوالے سے رپورٹ نہیں کرتے۔
کانسٹیبل کیٹل کہتے ہیں کہ ہم مسلمان کمیونٹی میں جو کام کرتے ہیں ’اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اصل اعدادوشمار کہیں زیادہ ہے اور اس میں کمی ظاہر ہونے کی بظاہر ایک وجہ یہ بھی ہے لوگ اس کو رپوٹ نہیں کر رہے۔‘
پولیس کی جانب سے جاری کردہ ویڈیو میں محمد اپنے ساتھ ہونے والے واقعے پر شرمندگی کے بارے میں بات کرتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAP
کونسل آف برٹس حاجیز کے خدشات صرف فراڈ یا دھوکہ دہی تک محدود نہیں ہے۔ وہ لوگوں کے تحفظ کے بارے میں بھی بات کرتے ہیں۔
گذشتہ سال مکہ میں مسجد الحرام میں کرین گرنے سے ایک سو سے زائد افراد ہلاک ہوگئے تھے اور اس کے کچھ ہفتے کے بعد بھگڈر میں 700 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
راشد موغرادیا زور دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ سعودی حکومت نے اس کو محفوظ بنانے کے لیے بہت کچھ کیا ہے۔
وہ کہتے ہیں: ’انھوں نے سہولیات کو بہتر بنایا ہے اور مسجد الحرام میں سیفٹی کے معیار کو بہتر کیا ہے۔‘
سعودی حکام نے ایسے واقعات سے بچنے کے لیے ٹرانسپورٹ اور دیگر انفراسٹرکچر پر اربوں ڈالر خرچ کیے ہیں۔
سعودی عرب کے مرکزی محکمہ برائے شماریات اور اطلاعات کے مطابق حج کے لیے آنے والوں کی تعداد سنہ 1921 میں 57 ہزار سے تین سال قبل 30 لاکھ 20 ہزار تک پہنچ چکی تھی۔







