بنگلہ دیش کہاں جانا چاہتا ہے؟

 مطیع الرحمان نظامی سنہ 1971 میں جماعت اسلامی کی ایک ذیلی تنظیم سے منسلک تھے
،تصویر کا کیپشن مطیع الرحمان نظامی سنہ 1971 میں جماعت اسلامی کی ایک ذیلی تنظیم سے منسلک تھے
    • مصنف, وسعت اللہ خان
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

نو اپریل سنہ 1974 کو بنگلہ دیش کے وزیرِ خارجہ ڈاکٹر کمال حسین، پاکستانی وزیرِ مملکت برائے امورِ خارجہ عزیز احمد اور بھارتی وزیرِ خارجہ سورن سنگھ نے دہلی میں سہہ فریقی سمجھوتے پر دستخط کیے۔

اس کے تحت پاکستان اور بنگلہ دیش نے ایک دوسرے کے ہاں پھنسے ہوئے شہریوں کی آبادکاری و واپسی پر اتفاق کیا۔

اس سمجھوتے میں یہ بھی طے پایا کہ بنگلہ دیش ماضی کی تلخیوں کو نظرانداز کرنے کے جذبے کے تحت 195 پاکستانی فوجی افسروں پر انسانیت سوز جرائم کی پاداش میں جنگی جرائم کے ٹریبونل میں مقدمہ نہیں چلائے گا اور سنہ 1973 میں اس مقصد کے لیے جو خصوصی ٹریبونل قائم کیا گیا ہے وہ توڑ دیا جائے گا۔

اس موقع پر بنگلہ دیش کے اس وقت کے وزیرِ اعظم شیخ مجیب الرحمان نے کہا کہ ان کی خواہش ہے لوگ ماضی کو فراموش کرتے ہوئے نئے دور کا آغاز کریں۔ بنگلہ دیش کے لوگ معاف کرنا جانتے ہیں۔

چنانچہ سہہ فریقی سمجھوتے کے تحت 195 جنگی قیدیوں کی پاکستان واپسی کی راہ ہموار ہوگئی اور یہ سمجھا گیا کہ جب جنگی جرائم کے محرکین کو معاف کردیا گیا ہے تو اس رعایت کا اطلاق ان محرکین کے مقامی مدد گاروں پر بھی ہوگا جنھیں پاکستان نواز عنصر کہا جاتا تھا۔ ان میں جماعتِ اسلامی اور اس کی ذیلی تنظیمیں البدر، الشمس کے رضاکار اور فوجی حمایت یافتہ مقامی تنظیم انصار کے کارکن شامل تھے۔ ان کے لیے بنگلہ دیشی تاریخ میں کولوبریٹرز یعنی ’غدار‘ کی اصطلاح استعمال کی گئی۔

صحافتی آزادی کے عالمی معیار پر نگاہ رکھنے والی تنظیم فریڈم ہاؤس کی رپورٹ کے مطابق گذشتہ برس بنگلہ دیش میڈیا کے تعلق سے نیم آزاد ملکوں کی کیٹگری سے پھسل کے پابند میڈیا والے ممالک کی فہرست میں شامل ہو چکا ہے

،تصویر کا ذریعہfocusbangla

،تصویر کا کیپشنصحافتی آزادی کے عالمی معیار پر نگاہ رکھنے والی تنظیم فریڈم ہاؤس کی رپورٹ کے مطابق گذشتہ برس بنگلہ دیش میڈیا کے تعلق سے نیم آزاد ملکوں کی کیٹگری سے پھسل کے پابند میڈیا والے ممالک کی فہرست میں شامل ہو چکا ہے

بنگلہ دیش وجود میں آنے کے فوراً بعد جماعتِ اسلامی اور ذیلی تنظیموں کو کالعدم قرار دے دیا گیا اور امیرِ جماعتِ اسلامی پروفیسر غلام اعظم، مطیع الرحمان نظامی اور دیگر اعلیٰ قیادت بیرونِ ملک فرار ہوگئی۔

سنہ 1979 میں جنرل ضیا الرحمان کی حکومت نے جماعتِ اسلامی کو بحال کردیا اور جماعتِ کی قیادت دھیرے دھیرے بنگلہ دیشی سیاست کے مرکزی دھارے میں شامل ہوتی گئی۔ سنہ 1980 کے عشرے میں جنرل حسین محمد ارشاد کی فوجی آمریت کے خلاف شیخ حسینہ واجد کی عوامی لیگ، خالدہ ضیا کی بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی، دائیں اور بائیں بازو کی دیگر سیاسی تنظیموں بشمول جماعتِ اسلامی نے ایک متحدہ و مشترکہ تحریک چلائی۔

جنرل ارشاد کی آمریت کے خاتمے کے بعد جماعتِ اسلامی کے سیکریٹری جنرل مطیع الرحمان نظامی نے سنہ 1991 کے عام انتخابات میں اپنے آبائی علاقے پبنہ میں عوامی لیگ کے امیدوار کے مقابلے میں لگ بھگ 57 فیصد ووٹ حاصل کیے اور پانچ برس تک پارلیمان کے ممبر رہے۔

سنہ 1996 میں خالدہ ضیا اور ان کی اتحادی جماعتوں بشمول جماعتِ اسلامی کی انتخابی شکست کے بعد عوامی لیگ 20 برس کے وقفے کے بعد دوسری بار برسرِ اقتدار آ گئی مگر اس وقت سنہ 1971 کے جنگی جرائم کا حساب کتاب عوامی لیگ کو یاد نہیں آیا۔ اس کا ایک سبب شاید یہ تھا کہ عوامی لیگ کو دو تہائی اکثریت حاصل نہیں تھی اور پارلیمانی اپوزیشن بھی طاقت ور تھی۔ سنہ 2001 میں پروفیسر غلام اعظم ضعیفی کے سبب جماعت کی امارت سے سبکدوش ہوگئے اور مطیع الرحمان نظامی نے ان کی جگہ لے لی۔

سنہ 2013 سے اب تک بنگلہ دیش کا متنازع وار کرائمز ٹریبونل اپوزیشن کی 13 ممتاز سیاسی شخصیات کو سزائے موت دے چکا ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنسنہ 2013 سے اب تک بنگلہ دیش کا متنازع وار کرائمز ٹریبونل اپوزیشن کی 13 ممتاز سیاسی شخصیات کو سزائے موت دے چکا ہے

سنہ 2001 کے عام انتخابات میں ایک بار پھر بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کی قیادت میں چار جماعتی اتحاد کامیاب ہوا۔ مطیع الرحمان نظامی اس حکومت میں پہلے زراعت اور پھر صنعت کے وزیر رہے۔ سنہ 2006 میں بنگلہ دیش میں فوج کی حمایت سے برسرِ اقتدار آنے والے عبوری سیٹ اپ نے سیاسی جماعتوں کے احتساب اور کرپشن کے تدارک کا جھنڈا بلند کیا۔

بنگلہ دیش میں سنہ 2009 میں عبوری دور ختم ہوا اور انتخابات میں عوامی لیگ دو تہائی اکثریت سے کامیاب ہوئی۔ انتخابی مہم کے دوران شیخ حسینہ نے سنہ 1971 کے جنگی مجرموں کے احتساب کا نعرہ پہلی بار لگایا۔

شیخ حسینہ واجد نے سنہ 1974 کے سہہ فریقی بین الاقوامی سمجھوتے کے نتیجے میں توڑے جانے والے وار کرائمز ٹریبونلز قانون کو ایک ترمیم کے ذریعے زندہ کردیا۔ شروع شروع میں تو ان ٹریبونلز کا خیر مقدم ہوا لیکن پھر انصاف کے بین الاقوامی تقاضوں سے رو گردانی اور انتقام کی بو آنے لگی تو ہیومین رائٹس واچ اور ایمنسٹی انٹرنیشنل جیسی تنظیموں نے ان ٹریبونلز کی دی جانے والی سزاؤں پر سوالات اٹھانے شروع کردیے۔

سنہ 2014 کے عام انتخابات میں عوامی لیگ نے دو تہائی اکثریت تو حاصل کر لی تاہم حزبِ اختلاف کے اجتماعی بائیکاٹ کے سبب یہ کامیابی مشکوک ہوگئی۔

سنہ 2013 سے اب تک متنازع وار کرائمز ٹریبونل بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کے دو رہنماؤں محمد قیصر اور صلاح الدین قادر چوہدری، جماعتِ اسلامی کے جنرل سیکریٹری علی احسن محمد مجاہد، نائب امیر قمر الزماں، میر قاسم علی، نائب سیکریٹری جنرل اظہر الاسلام اور امیرِ جماعتِ اسلامی مطیع الرحمان نظامی سمیت اپوزیشن کی 13 ممتاز سیاسی شخصیات کو سزائے موت دے چکا ہے۔

جماعت کے واحد رہنما دلاور حسین سعیدی ہیں جن کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل کی گئی جبکہ سابق امیر پروفیسر غلام اعظم کو 90 برس قید کی سزا سنائی گئی۔ ان کا انتقال اکتوبر سنہ 2014 91 برس کی عمر میں جیل میں ہوا۔

شیخ حسینہ واجد نے سنہ 1974 کے سہہ فریقی بین الاقوامی سمجھوتے کے نتیجے میں توڑے جانے والے وار کرائمز ٹریبونلز قانون کو ایک ترمیم کے ذریعے زندہ کردیا

،تصویر کا ذریعہfocus bangla

،تصویر کا کیپشنشیخ حسینہ واجد نے سنہ 1974 کے سہہ فریقی بین الاقوامی سمجھوتے کے نتیجے میں توڑے جانے والے وار کرائمز ٹریبونلز قانون کو ایک ترمیم کے ذریعے زندہ کردیا

سوال یہ ہے کہ آزادی کے 45 برس بعد جبکہ بنگلہ دیش میں تیسری نسل پروان چڑھ چکی اور دنیا سر تا پا بدل گئی ان سزاؤں سے بنگلہ دیشی سماج قریب آ رہا ہے یا بکھر رہا ہے۔

جماعتِ اسلامی سنہ 2013 میں دوبارہ کالعدم قرار دے دی گئی۔ بنگلہ دیش میں گذشتہ پانچ برس کے دوران نئے شدت پسند گروہ سامنے آئے ہیں، ان میں سے بہت سے گروہ القاعدہ یا داعش سے متاثر ہیں اور سیاسی عمل کے بجائے اول تا آخر تشدد پر یقین رکھتے ہیں۔ ان میں سب سے نمایاں انصار اللہ بنگلہ ٹیم اور جماعت المجاہدین ہیں جن کے حامیوں نے گذشتہ 14 ماہ کے دوران نو لکھاریوں، بلاگرز، صحافیوں اور اساتذہ کو قتل کیا۔ شیعہ امام بارگاہوں پر بھی پہلی بار حملے ہوئے اور متعدد بم دھماکے بھی کیےگئے۔

نصف صدی پہلے کے واقعات کی بنیاد پر پرامن سیاست کے مرکزی دھارے سے جماعتِ اسلامی جیسی تنظیموں کے اخراج سے جو خلا پیدا ہو رہا ہے اسے کوئی بائیں بازو کی جماعت نہیں بلکہ متشدد دائیں بازو کے غیر سیاسی گروہوں نے بھرنا شروع کردیا ہے۔

کالعدم جماعتِ اسلامی کے سینکڑوں برگشتہ نوجوان ان شدت پسند گروہوں کے لیے افرادی قوت کی کان ثابت ہوں گے۔

مرے پے سوواں درہ یہ ہے کہ آزاد میڈیا کو نہ صرف مذہبی شدت پسندوں بلکہ سخت حکومتی قوانین سے بھی برابر کا خطرہ ہے۔

صحافتی آزادی کے عالمی معیار پر نگاہ رکھنے والی تنظیم فریڈم ہاؤس کی رپورٹ کے مطابق گذشتہ برس بنگلہ دیش میڈیا کے تعلق سے نیم آزاد ملکوں کی کیٹگری سے پھسل کے پابند میڈیا والے ممالک کی فہرست میں شامل ہو چکا ہے۔