مطیع نظامی کی پھانسی پر احتجاج کا کال، سکیورٹی سخت

بنگلہ دیش میں بدھ کے صبح جماعتِ اسلامی کے امیر مطیع الرحمان نظامی کی پھانسی کے بعد ملک بھر میں سکیورٹی کے سخت انتظام کیے گئے ہیں جب کہ جماعتِ اسلامی نے جمعرات کو ملک گیر ہڑتال کی کال دی ہے۔
بنگلہ دیش کے وزیر قانون انیس الحق کے مطابق جماعت اسلامی کے امیر مطیع الرحمان نظامی کو سنہ 1971 کی جنگ آزادی کے دوران جنگی جرائم کے ارتکاب پر پھانسی دے دی گئی ہے۔
خبررساں ادارے روئٹرز نے وزیرِ داخلہ اسدالزمان خان کے حوالے سے بتایا کہ جماعتِ اسلامی کے 73 سالہ رہنما کو بدھ کی صبح 12:10 بجے ڈھاکہ سینٹرل جیل میں پھانسی دی گئی۔ جیل کے باہر بہت سے لوگ جمع تھے جنھوں نے اس خبر پر خوشی منائی۔
خبررساں ادارے اے ایف پی کے مطابق پولیس نے ڈھاکہ کی بڑی سڑکوں پر چوکیاں بنا دی ہیں تاکہ پرتشدد مظاہروں کی راہ روکی جا سکے، جب کہ فوری عمل کرنے والی ٹیمیں سڑکوں پر گشت کر رہی ہیں۔
پھانسی سے تھوڑی دیر قبل مطیع الرحمان کے خاندان کو ان سے آخری بار ملنے کی اجازت دی گئی۔ ان کی نعش کو خاندان والوں کے حوالے کر دیا گیا، جنھوں نے اسے شمال مغربے ضلعے پبنہ میں دفن کر دیا۔
مطیع الرحمان کے کزن عبداللہ المنون نے روئٹرز کو بتایا: ’ہم نے انھیں آج صبح دفن کر دیا ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس موقع پر دارالحکومت ڈھاکہ سمیت ملک بھر میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔
جماعت اسلامی بنگلہ دیش نے ایک بیان جاری کیا ہے جس میں انھوں نے اس پھانسی کی مذمت کرتے ہوئے جمعرات کو ایک روزہ ملک گیر ہڑتال کی کال دی ہے۔ تاہم ماضی میں عوام کی جانب ایسی ہڑتالوں کی اپیل پر کچھ زیادہ عمل نہیں کیا گیا۔
ملک کی سب سے بڑی اسلام پسند جماعت کے سربراہ کو جنگی جرائم کے خصوصی ٹرائبیونل نے گذشتہ برس نسل کشی، قتل، تشدد اور ریپ کے 16 الزامات کے تحت سزائے موت دینے کا حکم دیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہAFP
گذشتہ ہفتے بنگلہ دیش کی سپریم کورٹ نے جماعت اسلامی کے امیر مطیع الرحمان نظامی کو سنائی گئی سزائے موت برقرار رکھنے کے فیصلے پر نظرِ ثانی کی اپیل مسترد کر دی تھی۔
مطیع الرحمان نظامی سنہ 1971 میں جماعت اسلامی کی ایک ذیلی تنظیم سے منسلک تھے اور ان پر الزام تھا کہ انھوں نے ’البدر‘ نامی ملیشیا کے کمانڈر کے حیثیت میں آزادی پسند بنگالی کارکنوں کی نشاندہی کرنے اور انھیں ہلاک کرنے میں پاکستانی فوج کی اعانت کی تھی۔
سنہ 2010 میں قائم ہونے والے جنگی جرائم کے ٹریبیونل نے مطیع الرحمان نظامی کے علاوہ جماعت اسلامی کے دیگر اہم رہنماؤں کو بھی پھانسی کی سزا سنائی تھی جن میں سے عبدالقادر ملّا، قمر الزماں سمیت کئی افراد کو تختہ دار پر لٹکایا بھی جا چکا ہے۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ حکومت جنگی جرائم کے ٹریبیونل کو اپنے سیاسی مخالفین کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ انسانی حقوق کے بین الاقوامی تنظیم ’ہیومن رائٹس واچ‘ بھی کہہ چکی ہے کہ اس عدالت کا طریقۂ کار بین الاقوامی معیار کے مطابق نہیں ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
دوسری جانب برسرِ اقتدار جماعت ’عوامی لیگ‘ کا کہنا ہے ملک کے ماضی کو دفن کرنے کے لیے جنگی جرائم کی تفتیش ضروری ہے۔
واضح رہے کہ مطیع الرحمان نظامی کو ایسے وقت میں پھانسی دی گئی ہے جب ملک میں لبرل، سیکولر، غیرملکیوں اور مذہبی اقلیتوں کے قتل کے متعدد واقعات پیش آچکے ہیں جبکہ حکومت اس کا الزام اسلامی شدت پسندوں پر عائد کرتی ہے۔







