کشمیر: فوج سے جھڑپ میں تین مبینہ شدت پسند ہلاک

انڈین فوج کے ترجمان کے مطابق یہ مبینہ شدت پسند حزب مجاہدین سے وابستہ تھے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنانڈین فوج کے ترجمان کے مطابق یہ مبینہ شدت پسند حزب مجاہدین سے وابستہ تھے

انڈیا کے زیر انتظام جموں و کشمیر کے ضلع پلوامہ میں فوج نے انڈین فوج اور مبینہ شدت پسندوں کے درمیان تصادم میں تین شدت پسندوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

فوج کے ترجمان ینیم جوشی کے مطابق یہ جھڑپ سنیچر کے صبح چار بجے سری نگر سے تقریباً 40 کلومیٹر دور پلوامہ ضلعے میں ہوئی۔

ترجمان کے مطابق یہ مبینہ شدت پسند حزب مجاہدین سے وابستہ تھے۔

فوج کے مطابق تینوں مبینہ شدت پسند مقامی تھے اور ان کے پاس سے ہتھیار بھی برآمد کئے گئے ہیں۔ پولیس اور فوج کو ملنے والی خفیہ معلومات کے بعد سنیچر کی صبح چار بجے سکیورٹی فورسز اور مبینہ شدت پسندوں کے درمیان تصادم ہوا۔

تصادم تقریباً دو گھنٹے جاری رہا اور اب دونوں طرف سے فائرنگ بند ہے، لیکن سکیورٹی فورسز کی جانب سے علاقے میں سرچ آپریشن جاری ہے۔

واضح رہے گذشتہ دہائی کےدوران کشمیر میں مسلح تشدد کی سطح بہت کم ہوگئی ہے، لیکن مقامی نوجوان زیر زمین کارروائیوں میں حصہ لے رہے ہیں جسے سکیورٹی ایجنسیاں ایک نیا چیلنج قرار دے رہی ہیں۔

پولیس کے مطابق رواں برس کے ابتدائی تین ماہ کے دوران مختلف تصادموں کے دوران 30 سے زائد مسلح شدت پسند مارے گئے جو سنہ 2011 کے بعد سب سے بڑی تعداد ہے۔

فوج کا کہنا ہے کہ کشمیر میں فی الوقت 150 مسلح شدت پسند سرگرم ہیں جن میں 85 مقامی نوجوان شامل ہیں۔