’شراب چھوڑنے والے صابن کھانے لگے ہیں‘

،تصویر کا ذریعہ
انڈیا کی شمالی ریاست بہار میں شراب اور تاڑی پر عائد پابندیوں کے نتیجے میں جہاں بہت سے لوگ خوش ہیں وہیں بعض لوگوں کو شدید دقتوں کا سامنا ہے۔
ریاستی دارالحکومت پٹنہ میں شراب کے عادی ایک لڑکے کی والدہ وحیدہ کہتی ہیں کہ حکومت کو یہ کام رفتہ رفتہ کرنا چاہیے تھا۔
وحیدہ نے کہا: ’فرض کریں اگر ابھی پٹنہ میں 50 شراب کی دکانیں تھیں، تو حکومت ان کی تعداد پہلے 25 کرتی۔ پینے والوں کو پریشانی ہوتی تو وہ نشے سے دور ہوتے۔ یکبارگی بند ہونے سے لوگ صابن کھانے لگے ہیں، جسم میں آگ لگانے لگے ہیں۔ میرے بیٹے نے بھی آگ لگانے کی کوشش کی تھی۔‘
وحیدہ کا بیٹا عمران پٹنہ میں نشے کی لت سے چھٹکارا دلانے والے مرکز میں داخل کرایا گیا ہے۔ عمران شراب کا عادی ہے۔ لیکن اچانک کی جانے والی مکمل شراب بندی کے فیصلے کے بعد انھیں مشکلات کا سامنا ہے۔
عمران کے مطابق ’شراب کی فروخت پر رفتہ رفتہ پابندی عائد کرنی چاہیے تھی اور اگر ایسا ہوتا تو ہنگامہ نہیں ہوتا۔‘

،تصویر کا ذریعہbiharpictures.com
بہار میں پانچ اپریل سے شراب کی فروخت پر مکمل پابندی ہے۔ دیسی شراب پر تو یکم اپریل سے ہی روک لگا دی گئی تھی لیکن مکمل پابندی کا فیصلہ اچانک کیا گیا۔
پٹنہ کے رہنے والے گیا سنگھ پڑوسی ریاست مغربی بنگال میں کام کرتے ہیں۔ نشہ چھڑانے والے مرکز میں گیا سنگھ کی بیوی انیتا ان کی دیکھ بھال کر رہی ہیں۔
گیا سنگھ کے مطابق مکمل طور پر شراب پر پابندی کا فیصلہ درست ہے۔ لیکن انیتا کی رائے ان سے مختلف ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انیتا کہتی ہیں: ’دیسی بند ہونے کے بعد بہت سے لوگ انگریزی شراب پینے لگے تھے۔ اگر پہلے سے علم ہوتا تو انگریزی پینے والے بھی اپنے آپ کو تیار کر لیتے۔‘
مرکز میں زیر علاج 45 سال کے سنیل کمار تقریباً 20 سالوں سے شراب پی رہے تھے۔
سنیل بھی سرکار کے اچانک فیصلے کو درست نہیں مانتے۔ ان کا خیال ہے ’رفتہ رفتہ بند کرنا چاہیے تھا۔ بہت سارے ایسے ہوتے ہیں جو شراب یکبارگی نہیں چھوڑ سکتے۔ ایسا ہونے پر وہ کچھ بھی کر سکتے ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہ.
وہیں پڑوس کے ضلع سے مرکز لائے جانے والے ببلو چودھری نے حکومت کے فیصلے کو بالکل صحیح بتایا ہے۔
ان کا کہنا ہے: ’ایک بار میں ہی بند کیا جانا ٹھیک ہے۔ ایسے میں بربادی اور نقصان نہیں ہوگا۔‘
ماہر نفسیات ڈاکٹر سنتوش کمار پٹنہ میں واقع اسٹیٹ ڈی-ایڈکشن ریفرل سینٹر کے نوڈل افسر ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ طبی لحاظ سے حکومت نے مکمل طور پر پابندی لگانے میں کوئی جلد بازی نہیں دکھائی ہے۔
وہ بتاتے ہیں: ’کوئی بھی نشہ آپ جس دن چاہیں، جب چاہیں، چھوڑ سکتے ہیں۔ اس کے بعد ہونے والی دقتوں کے لیے مناسب طبی امداد ملے تو کوئی پریشانی نہیں ہوتی ہے۔‘
پٹنہ کے جانے مانے ماہر نفسیات ڈاکٹر ونے کمار بھی اس سے اتفاق رکھتے ہیں۔ ’جسے شراب چھوڑنا ہے، ایک دم چھوڑنی پڑتی ہے۔‘
لیکن وہ ایک دوسرے مسئلے کے بارے میں بتاتے ہوئے کہتے ہیں، ’گذشتہ قریب دس سالوں میں حکومت نے شراب کو بہت زیادہ فروغ دیا۔ ایسے میں اچانک پابندی کرنے سے ’ودڈراول سمپٹم‘ کے مریضوں کی تعداد بہت زیادہ سامنے آ رہی ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہManish Shandilya
ونے کے مطابق دنیا میں نشہ پر کنٹرول حاصل کے دو ماڈل ہیں، ایک فراہمی میں کمی یا قیمتیں بڑھانا اور مطالبے میں کمی کرنا اور اس کے خلاف بیداری پیدا کرنا۔
ونے کہتے ہیں: ’حکومت کو ان دو ماڈلز کو مرحلہ وار طریقے سے اپناتے ہوئے مکمل پابندی کی جانب بڑھنا چاہیے تھا۔‘
وہیں نشہ چھرانے والے مرکز میں کام کرنے والے چراغ کہتے ہیں: ’لوگوں کو ذہنی طور پر تیار ہونے کا وقت ملتا تو اس فیصلے کے زیادہ بہتر نتائج سامنے آتے۔‘







