بہار میں آتشزدگی،’دن میں کھانا پکانے پر پابندی‘

بہار میں صرف گذشتہ ماہ آگ لگنے کے واقعات کے نتیجے میں 67 افراد ہلاک ہو گئے تھے

،تصویر کا ذریعہRaju Jaisawal

،تصویر کا کیپشنبہار میں صرف گذشتہ ماہ آگ لگنے کے واقعات کے نتیجے میں 67 افراد ہلاک ہو گئے تھے

بھارت کی ریاست بہار میں حکام نے دیہاتیوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ موسم گرما کے دوران صبح نو بجے سے شام چھ بجے تک کھانے پکانے سے گریز کریں۔

آفات سے نمٹنے کے ادارے کی جانب سے یہ ہدایت آتشزدگی کے متعدد واقعات کے بعد ریاست کے وزیراعلیٰ کے حکم پر دی گئی۔

اس کے علاوہ لوگوں سے کہا گیا ہے کہ وہ خشک فصلوں کو مذہبی رسومات کے لیے جلانے سے بھی اجتناب کریں۔

بہار میں صرف گذشتہ ماہ آگ لگنے کے واقعات کے نتیجے میں 67 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

آفات سے نمٹنے کے ادارے کے اہلکار ویاس نے بی بی سی کو بتایا’آگ لگنے کے واقعات کا جائزہ لینے سے معلوم ہوا کہ زیادہ تر واقعات چولہے کی آگ سے نکلنے والی چنگاری سے پیش آئے ہیں۔اس لیے مشورہ دیا گیا کہ دیہات میں چولہے کی آگ سے کھانا بنانے والے صبح نو بجے سے پہلے کھانا بنا کر آگ بجھا دیں۔‘

آتشزدگی کے کئی واقعات خشک فصلوں کو جلانے کے نتیجے میں پیش آئے

،تصویر کا ذریعہRANJEET KUMAR

،تصویر کا کیپشنآتشزدگی کے کئی واقعات خشک فصلوں کو جلانے کے نتیجے میں پیش آئے

تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا کہ مذہبی رسومات کے لیے خشک فصلوں کو جلانے کی وجہ سے بھی آگ لگنے کے واقعات پیش آئے۔

بہار کے اورنگ آباد ضلع میں ایک مذہبی تہوار کے موقعے پر آتشزدگی کے ایک واقعے میں کم سے کم 13 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

حکام کا کہنا ہے کہ ہدایت کی خلاف ورزی کرنے پر آگ لگنے کے کسی واقعے کی تحقیقات میں ذمہ دار کو محکمے کے قوانین کے تحت جرمانہ بھی کیا جا سکتا ہے تاہم نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ حکام نے واضح نہیں کیا کہ ایک غریب دیہاتی اگر آگ میں سب کچھ کھو دیتا ہے تو اس سے جرمانہ کیسے لیا جائے گا۔

خیال رہے کہ بھارت میں بہار سمیت دیگر کئی علاقوں میں گرمی کی شدید لہر جاری ہے اور اس کے نتیجے میں آگ لگنے کے واقعات بھی پیش آئے ہیں۔