قحط زدہ لاتور میں پانی کی تلاش

    • مصنف, سوتک بسواس
    • عہدہ, بی بی سی، دہلی

اس وقت چھاؤں میں بھی درجہ حرارت 42 ڈگری سینٹی گریڈ ہے۔ لیکن یہ گرمی دس سالہ انجلی پاٹول کو روزانہ ریاست مہارا شٹر کے شہر لاتور کے تپتے ہوئے راستے پر پانی کے ٹینک کے پاس قطار میں کھڑے ہونے سے نہیں روک سکتی۔

یہاں انجلی اور اس کے چچا کو اپنے 15 برتنوں کو 150 لیٹر پانی سے بھرنے کے لیے آگ برساتے سورج کے نیچے تقریباً تین گھنٹے تک کھڑا رہنا ہوگا۔ ان کے برتنوں میں چمکتی ہوئی دھات اور رنگ برنگے پلاسٹک سے بنے کین شامل تھے۔

انجلی کے باپ روزی کی تلاش میں پونا چلے گئے ہیں جبکہ ان کی ماں سبزیوں کا ٹھیلا لگاتی ہیں۔ ان کے گھروں کے نلوں میں گزشتہ تین ماہ سے پانی نہیں آ رہا ہے۔ ہر آٹھویں دن میونسپل کے واٹر ٹینکر انجلی کی سڑک پر آتے ہیں اور ہر خاندان کو 200 لیٹر پانی فراہم کرتے ہیں۔

لاتور

،تصویر کا ذریعہSoutik Biswas Twitter

،تصویر کا کیپشنلاتور میں خواتین کا زیادہ تر وقت پانی کے لیے برتن اٹھائے گزرتا ہے

یہ پانی ان کے خاندان کے لیے ہمیشہ ناکافی رہا ہے۔ اس لیے کمزور اور دبلی پتلی انجلی اپنی گرمیوں کی چھٹیاں اس تپتی گرمی میں اضافی پانی جمع کرنے میں گزار رہی ہیں۔

میں نے انجلی کے چچا سے پوچھا کہ کیا آپ کو ڈر نہیں لگتا کہ کہیں انجلی ہیٹ سٹروک کا شکار نہ ہو جائے؟

’مجبوری‘

اس ہفتے کے شروع میں قریبی ضلع بیڈ میں ایک 12 سالہ لڑکی چار گھنٹے تک شدید گرمی میں ہینڈ پمپ سے پانی نکالنے کے نتیجے میں ہیٹ سٹروک کا شکار ہونے کے بعد ہلاک ہوگئی تھی۔

جب میں انجلی سے ملا تو وہ پہلے ہی دو گھنٹے دھوپ میں گزار چکی تھی۔ اور انجلی کے چچانے بھی میرے سوال کو نظر انداز کردیا تھا۔

انھوں نے بڑبڑاتے ہوئے کہا کہ ’مجبوری، مجبوری‘۔ ہمارے پاس اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے۔‘

برتن

،تصویر کا ذریعہNarayan Pawle

،تصویر کا کیپشنپانی حاصل کرنے کے لیے برتنوں کی لمبی لمبی قطاریں کوئی عجب نظارہ نہیں

پانی کے بحران کی وجہ سے لاتور کے لوگوں کے پاس بہت کم راستے بچے ہیں۔ بھارت کے 256 اضلاع سے تعلق رکھنے والے 330 ملین یا 33 کروڑ افراد میں شامل لاتور کے رہائشی گزشتہ تین سال سے بارش نہ ہونے کی وجہ سے قحط سالی کا شکار ہیں۔

اور اس بات میں کوئی حیرت نہیں ہونی چاہیے کہ ڈسٹرکٹ کے پانچ لاکھ لوگوں کی زندگی کا محور صرف پانی کا حصول ہی ہے۔ ان کو ہر وقت پانی حاصل کرنے کی فکر لاحق رہتی ہے۔

’کیا میں ٹینکر کا انتظار کروں یا پھر قطار میں لگوں؟ یا پھر میں سڑک پر لگے ہینڈ پمپ میں پانی تلاش کروں؟‘

گھروں پر بھی حالات اس سے مختلف نہیں۔

’کیا مجھے اس تپتی ہوئی گرمی میں دوسری مرتبہ نہانا چاہیے؟ کیا میں کوئی ایسی چیز پکاؤں جس میں کم سے کم پانی استعمال ہو؟ کیا میں دوستوں کو کھانے پر بلاؤں؟ کیا میں اپنا آپریشن ملتوی کر کے پانی خریدنے کے لیے پیسے بچالوں؟‘

اکیسویں صدی میں پانی کے لیے لڑی جانے والی جنگ کی پیشن گوئی یہاں سچ ہوتی دکھائی دیتی ہے۔ اس شہر میں لوگ ہر وقت خوف اور شک کا شکار رہتے ہیں۔

ان کو شک ہے کہ کہیں میونسپل کونسلر اپنے حلقے میں زیادہ پانی تو لے کر نہیں جا رہا؟ کیا میرا ہمسایہ ٹینکر ڈرائیور کو رشوت دے کر زیادہ پانی تو حاصل نہیں کر رہا؟

،تصویر کا ذریعہManoj Aakhade

پانی

،تصویر کا ذریعہManoj Aakhade

،تصویر کا کیپشنپانی ٹینکروں سے پہنچتا ہے اور اس پر بھی سیاسی پارٹیاں سیاست چمکا رہی ہیں

پانی کی اس خوفناک جنگ میں اب تک دو افراد دل کا دورہ پڑنے کی وجہ سے ہلاک ہوچکے ہیں۔ ان میں ایک پانی کے لیے لگائی جانے والی قطار پر کھڑا رضاکار اور دوسری گھنٹوں دھوپ میں پانی حاصل کرنے کے لیے کھڑی رہنے والی ایک عورت شامل ہیں۔

یہاں قطار میں لگے لوگ تنگ آ کر ایک دوسرے پر برس پڑتے ہیں۔ حکام نے گزشتہ ماہ سے پانی کے جھگڑوں سے بچنے کے لیے پانی کے ذخیرے والے مقامات پر زیادہ افراد کے مجمعے پر پابندی عائد کر دی تھی۔

’زندگی کا نیا معمول‘

پانی کا ذخیرہ کرنے والے ٹینکوں کے باہر احتجاج کیے گئے ہیں۔ شہر کا مرکزی پولیس سٹیشن پانی کے جھگڑے کی تقریباً 20 شکایات نمٹاتا ہے۔

پولیس سٹیشن کے انچارج سدھا کار بوکرنےکا کہنا ہے کہ ’لوگ یہاں پانی حاصل کرنے کے لیے بہت محنت کرتے ہیں۔‘

علاقے کے متمول لوگ پینے کے لیے بوتلوں میں بند منرل واٹر اور صفائی ستھرائی کے لیے ٹینکر کا پانی استعمال کرتے ہیں۔ لیکن غریب اور درمیانی حیثیت کے لوگ اپنا زیادہ تر وقت میونسپل کے ٹینکر کے انتظار میں صرف کرتے ہیں یا پھر پانی کے ٹینکوں کے باہر قطار میں کھڑے رہتے ہیں۔

علاقے کے کونسلر شالیش سوامی کا کہنا ہے کہ ’گزشتہ آٹھ ماہ کے دوران یہ چیزیں ان کی زندگی کا حصہ بن چکی ہیں۔ حلات تب بہت خراب ہوگئے تھے جب چارماہ قبل نلوں میں پانی آنا بالکل بند ہوگیا تھا۔‘

،تصویر کا ذریعہManoj Aakhade

پانی کو ٹرینیوں کے ذریعے بھی لایا جاتا ہے

،تصویر کا ذریعہManoj Aakhade

،تصویر کا کیپشنپانی کو ٹرینیوں کے ذریعے بھی لایا جاتا ہے

ایک پرسکون گرم رات کو شہر کےمرکز میں واقع پانی کا ذخیرہ کرنے والے ٹینکر کے باہر ایک لمبی قطار لگی ہوئی ہے۔ سڑکیں خالی ہیں لیکن ذخیرہ ٹینکر کے باہر بنے راستوں پر لوگوں کا ہجوم موجود ہے۔

پانی کی تلاش میں پریشان حال لوگ ٹمٹماتی ہوئی سٹریٹ لائٹ کی روشنی میں اپنے برتن لیے قطار میں کھڑے ہیں۔

آدھی رات کے وقت فیکٹری کارکن رابندرا مرکال دو پہیوں والی گاڑی پر 12 برتن لادے اپنے بھتیجے کے ساتھ موجود ہیں۔

یہ مرکل کے لیے ایک طویل رات ہے اور انھوں نےاندازہ لگایا ہوا ہے کہ چھ گھنٹے کے بعد صبح ہونے تک وہ اپنے حصے کا 20 لیٹر پانی حاصل کر لیں گے۔ مرکل نےکہا کہ ’میں سارا دن کام کرتا ہوں اور رات میں پانی جمع کرتا ہوں۔ میری کوئی زندگی نہیں ہے۔‘

ادھر شیخ معین الدین اپنی سائیکل پر 20 برتن لادے چلے آرہے ہیں۔ وہ اس شدید گرمی میں ایک کلومیٹر کا فاصلہ پیدل طے کرکے آئے ہیں۔ ان کے گھر میں تقریباً ایک درجن افراد موجود ہیں۔ پانی کے لیے قطار میں لگے ہوئے کہتے ہیں کہ ’ہفتے میں ایک مرتبہ واٹر ٹینکر کا آنا ہمارے لیے کافی نہیں۔‘

جیسے جیسے لوگ قطار میں شامل ہو رہے ہیں ویسے ہی قطار میں تناؤ میں بھی اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ ایک پریشان حال ماں نے اپنی باری کے انتظار میں اپنے بچے کو قریب ہی ذخیرہ ٹینک پر سلایا ہوا ہے۔ ٹینک کے بالکل پاس ہی کچرا جلایا جا رہا ہے جس کی وجہ سے گرمی مزید بڑھ گئی ہے۔ اچانک ہی ٹرانسفارمر پھٹ جاتا ہے اور پورا علاقہ اندھیرے میں ڈوب جاتا ہے۔

’مشکل صورت حال‘

حکام کا کہنا ہے کہ وہ علاقے کے رہائشیوں کے لیے روزانہ 125 ٹینکر لاتے ہیں۔ لاتور کے سب سے سینیئر افسر پانڈورانگ پول نے مجھے بتایا کہ اس فروری میں پانی کے قحط کے عروج کے وقت شہر کو اپنی روزانہ کی ضرورت 25 ملین لیٹر کا ایک چوتھائی مل رہا تھا۔

دو سال سے انتہائی کم بارش کے سبب لاتور میں پانی حاصل کرنے کا مرکزی ذریعہ منجارا دریا مٹی اور پتھر میں تبدیل ہوگیا ہے۔

پول کہتے ہیں کہ شہر کی انتظامیہ اس فرق کو کم کرنے کے لیے ہر خاندان کو روزانہ 20 لیٹر پانی دینے کے علاوہ دو ڈیم، ایک بیراج، 150 بور کے کنویں بنا چکی ہے۔

انھوں نےکہا کہ ’یہ ایک مشکل صورت حال ہے۔ ہمارے پاس جولائی تک کا ذخیرہ موجود ہے اور ہم امید کر ہے ہیں کہ اس سال زیادہ بارشیں ہوں گی۔‘

شہر کے باہر حالات مزید خراب ہیں۔

ٹینکر تقریباً 800 دیہات میں سے 150 کو پانی فراہم کر رہے ہیں۔ زمین کے اندر پانی کی سطح 500 فٹ نیچے جا چکی ہے۔ مجبور گاؤں والوں کو پانی لینے کے لیے کنوؤں کے اندر اترنا پڑتا ہے۔

لیکن لوگوں میں ابھی بھی بہت تحمل ہے اور انھوں نے ہمت نہیں ہاری
،تصویر کا کیپشنلیکن لوگوں میں ابھی بھی بہت تحمل ہے اور انھوں نے ہمت نہیں ہاری

تقریباً پنتالیس لاکھ نفوس پر مشتمل اس قحط زدہ ڈسٹرکٹ میں گنے اور کپاس جیسی فصلیں اگانے کا تصور ہی محال ہے جن کو زیادہ پانی درکار ہوتا ہے۔ اس سال قرضوں میں جکڑے ہوئے تقریباً 30 کسان خود کشی کر چکے ہیں۔

لیکن اس قحط سالی میں بھی امید کی کرنیں نظر آتی ہیں۔

اس علاقے کے زیادہ تر لوگ بے حد تحمل مزاج ہیں اور کافی برداشت رکھتے ہے۔ اس وقت بھی جب سیاستدان پانی کی ٹینکروں پر اپنی پارٹیوں کے پوسٹر لگا کر پانی پہنچانے میں بھی اپنی سیاست چمکانے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں۔

رسوائی

اس شور اور ہنگامے سے دور مقامی لوگوں نے آرٹ آف لیونگ فاؤنڈیشن سے حوصلہ حاصل کرتے ہوئے دریا منجارا میں 8 کلومیٹر لمبی کھدائی کر کے پانی نکالنے کی کوشش میں تین کروڑ روپے خرچ کیے ہیں۔ اس وقت مزید مشینیں زمین کھودنے میں مصروف ہیں۔

تنظیم سے تعلق رکھنے والے مہادیو گومار کہتے ہیں کہ ’اس دریا کے سوکھنے سے لاتور کے لوگ رسوا ہوگئے ہیں ۔ قدرت نے ہمیں پانی دیا ہے ہمیں اس کی حفاظت کرنی چاہیے۔‘

. ایک 31 نوجوان کسان وکاس مانک راؤ جنھوں نے اپنے 10 ایکڑ فارم پر مکئی کی فصل اگانےکے لیے ایک بور والا کنواں خریدا تھا اب اس پانی کو فصلوں کی بوائی میں استعمال کرنے کے بجائے علاقے کے لوگوں میں روزانہ دو گھنٹے مفت تقسیم کر رہے ہیں۔

وکاس جو ایک وکیل بھی ہیں کہتے ہیں کہ ’فصلیں انتظار کرسکتی ہیں۔ لیکن متاثرہ خاندانوں کو پانی دینا زیادہ اہم ہے۔ قحط کے ان دنوں میں آپ کو اپنے نفع کے بارے میں نہیں سوچنا چاہیے۔‘

لاتور کو اپنے پانی کو محفوظ کرنے اور اس سے فصلیں اگانے کے لیے بہتر انتظام کرنا پڑے گا۔ لیکن اس کے لیے بارش کا ہونا لازمی ہے۔

شلیش سوامی بادلوں سے صاف آسمان کو دیکھتے ہوئےکہتے ہیں کہ ’مجھے ہمیشہ پیاس محسوس ہوتی رہتی ہے۔ کیا کئی برسوں تک پارش نہ ہو تو آپ کے ساتھ ایسا ہی ہوتاہے؟‘