’ویزا منسوخ ہی کرنا تھا تو جاری کیوں کیا؟‘

،تصویر کا ذریعہTwitter
- مصنف, شکیل اختر
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نئی دہلی
بھارت کی حکومت نے چین کے سخت ردعمل کے بعد چین کے علیحدگی پسند اویغور رہنما ڈولکن عیسیٰ کا بھارتی ویزا منسوخ کردیا ہے۔
عیسیٰ اس مہینےکے آخر میں امریکہ کےایک جمہوریت نواز ادارے کے زیرِ اہتمام دھرم شالہ میں منعقد ہونےوالی ایک کانفرنس میں شرکت کے لیے آنے والے تھے۔
ڈولکن عیسٰی عالمی اویغور کانفرنس کے سربراہ ہیں اور جرمنی کےشہری ہیں۔ انھوں نے ویزا منسوخ کیے جانے پر مایوسی کا اظہار کیا ہے۔
انھوں نے ایک بیان میں کہا کہ بھارت نےایک اہم کانفرنس میں شرکت کے لیے انھیں سیاحتی ویزا جاری کیا تھا لیکن بھارتی میڈیا میں اس کی بڑے پیمانے پر تشہیر ہونے کے بعد اسے منسوخ کر دیا گیا۔
انھوں نے کہا ’ویزا جاری کرنے سے بھارت کے لیے جو مشکل حالات پیدا ہوئی ہیں میں ان کو سمجھتا ہوں۔ مجھےاس بات پر افسوس ہے کہ میرے مجوزہ دورے سے ایک غیر ضروری تنازع کھڑا ہو گیا۔‘
یہاں دلی میں سرکاری طور پر ویزا منسوخ کیے جانے پر کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا ہے لیکن دو روز قبل میڈیا میں چین کے مسلم اکثریتی صوبے سنکیانگ سےتعلق رکھنے والے علیحدگی پسند رہنما کو اچانک ویزا دیے جانے کے بارے میں تفصیلی خبریں شائع ہوئی تھیں۔
عام خیال یہی ہے کہ بھارت نے یہ قدم اقوام متحدہ میں پاکستان کےشدت پسند رہنما مولانا مسعود اظہر کو دہشت گرد قرار دینےاور ان پر پابندی عائد کرنےکی قرارداد کو دو بار چین کےذریعے ویٹو کیے جانے کے جواب میں اٹھایا تھا۔
گذشتہ دنوں بھارت کی وزیر خارجہ سشما سوراج نے اپنے چینی ہم منصب وانگ یی سے اپنی بات چیت میں مسعود اظہر کا سوال اٹھایا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بھارت کے قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈووال نے بھی سرحدی تنازع پر اپنے ہم منصب بانگ جی چی سے بات چیت میں چینی ویٹو کا سوال اٹھایا تھا۔
چین کا موقف ہے کہ اس نے ویٹو نہیں کیا بلکہ تکنیکی بنیادوں پر قرارداد روکی ہے۔ لیکن بھارت نے دو بار کی ناکامی کے بعد جوابی کارروائی کرنےکا فیصلہ کیا تھا۔ یہاں میڈیا کی بعض خبروں میں بتایا گیا ہے کہ اویغور رہنما کو ویزا دینےکا فیصلہ اعلی ترین سطح پر کیا گیا تھا۔
چین کی وزارت خارجہ کےترجمان نے عیسیٰ کو ویزا دیے جانے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’میں بتانا چاہتا ہوں کہ ڈولکن ایک دہشت گرد ہیں اور انٹرپول کے ریڈ کارنر نوٹس پر ہیں وہ چین کی پولیس کو مطلوب ہیں۔ متعلقہ ملک کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ ڈولکن کو قانون کے حوالے کرے۔‘
چین 1990 کے اوائل سے سنیکیانگ صوبے میں مسلم علیحدگی پسندوں سےبرسر پیکار ہے۔ صوبے میں اویغور سب سے بڑے ترک نسل کےگروپ ہیں۔
ڈولکن عیسی کو چین ایک دہشتگرد تصور کرتا ہے۔ ڈولکن چین میں جمہوریت کے فروغ کے لیے سرگرم رہے ہیں۔ وہ چین میں حقوق انسانی کی خلاف ورزیوں کے خلاف اکثر آواز اٹھاتے رہے ہیں۔ 2006 سے وہ جرمنی کےشہری ہیں۔
انہیں بھارت کے شہر دھرم شالہ میں ایک کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی گئی تھی۔ اس کانفرنس سے تبت کےجلا وطن روحانی پیشوا دلائی لامہ بھی خطاب کرنے والے ہیں جنہیں چین اپنا سب سے بڑا دشمن تصور کرتا ہے۔
اس کانفرنس کا اہتمام امریکہ کا ایک جمہوریت نوازگروپ کر رہا ہے جس کے صدر یانگ جیان لی ہیں جو ان طلبہ میں شامل تھے جنہوں نے 1989 میں بیجنگ کے تیان من اسکوئر پر حکومت کے خلاف احتجاج کیا تھا ۔
ڈولکن عیسیٰ کو ویزا جاری کیے جانے پر بھارتی میڈیا میں حکومت کے فیصلےکو جرات مندانہ سفارت کاری سے تعبیر کیا جا رہا تھا۔
بعض سفارتکاروں کا کہنا تھا کہ کسی حکومت نے پہلی بار چین کے سامنا کرنے کی جرات کی ہے۔ لیکن اب اچانک اویغور رہنما کا ویزا منسوخ کیے جانے کے بعد یہاں یہی نتیجہ نکالا جا رہا ہے کہ بھارت نےچین کےدباؤ میں یہ قدم اٹھایا ہے۔
سفارتی حلقوں میں یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ آئندہ ماہ بھارت کے صدر مملکت پرنب مکھرجی چین کا دورہ کرنے والے ہیں اس لیے بھارت اس طرح کا سفارتی ٹکراؤ کا راستہ اختیار کرنے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔
حقیقت جو بھی ہو آنے والےدنوں میں ڈولکن عیسی کو ویزا دے کر چین کو چیلنج کرنے کا فیصلہ کرنے اور صرف ایک دن بعد پیچھے ہٹ جانے کے فیصلے پر سیاسی جماعتوں اور میڈیا میں مودی حکومت کی نکتہ چینی ضرور ہوگی۔
لوگ یہ جاننا چاہیں گے کہ کہ اگر ویزا منسوخ ہی کرنا تھا تو پھر جاری ہی کیوں کیا تھا۔







