افغان مصالحتی عمل: طالبان کا وفد قطر سے پاکستان پہنچ گیا

،تصویر کا ذریعہARG
- مصنف, خدائے نور ناصر
- عہدہ, بی بی سی، افغان سروس
بی بی سی کو معلوم ہوا ہے کہ قطر میں مقیم افغان طالبان کا ایک وفد افغان حکومت سے براہ راست بات چیت کے لیے کراچی پہنچ گیا ہے تاہم پاکستان کے دفترخارجہ نے اس سے لاعلمی کا اظہار کیا ہے۔
اسلام آباد میں بعض سفارتی ذرائع نے بی بی سی کو بتایا کہ افغان طالبان کا ایک وفد پاکستان آچکا ہے۔ مبصرین کے مطابق افغان دارالحکومت کابل میں گزشتہ ہفتے ہونے والے خودکش دھماکے کے بعد پاکستان کا افغان طالبان پر دباؤ تھا کہ وہ امن مذاکرات میں حصہ لیں۔
ذرائع کے مطابق قطر سے آنے والے افغان طالبان کے وفد میں ملا شہاب الدین دلاور اور ملا جان محمد شامل ہیں، جبکہ کچھ طالبان رہنما پاکستان سے اس مصالحتی عمل میں افغان حکومت کے ساتھ مذاکرات میں شریک ہوں گے۔
امریکہ، چین، پاکستان اور افغانستان کے درمیان افغانستان میں قیام امن کے لیے چار ملکی مصالحتی عمل کا سلسلہ رواں سال جنوری میں اسلام آباد سے شروع ہوا تھا جس کے بعد اب تک چار اجلاس منعقد ہوچکے ہیں، جن میں دو اجلاس اسلام آباد اور دو کابل میں ہوئے۔
یاد رہے کہ افغان طالبان کے وفد میں شامل ملا شہاب الدین دلاور طالبان کے دورِ حکومت میں پشاور میں افغان کونسل کے فرائض سرانجام دیتے رہے ہیں۔ افغان طالبان کے بعض ذرائع بھی اس وفد کے آنے کی تصدیق کرتے ہیں تاہم رسمی طور پر اُن کا کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔
ذرائع کے مطابق رواں ہفتے اسلام آباد ہی میں چار ملکی مذاکرات کا عمل ایک بار پھر شروع ہوگا، لیکن باضابطہ طور پر اس اجلاس کا اعلان تاحال نہیں ہوا ہے۔ افغان طالبان کا یہ وفد ایسے موقع پر پاکستان پہنچ چکا ہے جب افغان صدر نے کابل میں ایک خطاب میں کہا تھا کہ طالبان کے ساتھ مذاکرات کے سلسلے میں اب انھیں پاکستان سے کوئی اُمید نہیں ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پیر کو کابل میں افغان پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے افغان صدر کا کہنا تھا کہ پاکستان کو مصالحتی عمل میں کیے گئے وعدوں پر عمل درآمد کرتے ہوئے افغان طالبان کے خلاف کارروائی کرنی چاہیے۔
صدر اشرف غنی نے اپنے خطاب میں طالبان کے ساتھ امن مذاکرات اور پاکستان کے ساتھ تعلقات پر روشنی ڈالی۔
افغان صدر نے خبردار کیا کہ اگر پاکستان افغانستان سے کیے گئے وعدوں پر عمل نہیں کرتا تو وہ اقوام متحدہ اور بین الاقوامی سطح پر پاکستان کے خلاف آواز اٹھائیں گے۔
افعانستان کے دارالحکومت کابل میں گذشتہ ہفتے ہونے والے خودکش دھماکے کے بعد افغان صدر پر دباؤ تھا کہ وہ طالبان کے ساتھ امن مذاکرات اور پاکستان کے ساتھ تعلقات پر پالیسی بیان دیں۔
اس حملے میں کم از کم چونسٹھ افرد ہلاک اور تین سو سے زیادہ زخمی ہوئے تھے۔
کابل نے افغان طالبان کے سب سے مضبوط نیٹ ورک حقانی نیٹ ورک کو اس حملے کا ذمہ دار ٹھہرایا تھا۔ امریکہ نے بھی پاکستان پر ایک بار پھر زور دیا ہے کہ وہ حقانی نیٹ ورک کے خلاف ٹھوس اقدامات کریں۔
یہ پہلی مرتبہ نہیں کہ امریکہ ایسا مطالبہ کر رہا ہے، بلکہ اس سے پہلے بھی بارہا اس مطالبے کو دہرایا جا چکاہے۔ افغان امور کے ماہر رحیم اللہ یوسفزئی کے مطابق پاکستان اور حقانی نیٹ ورک کے درمیان رابطے بہت پرانے ہیں اور یہ رابطے اب بھی ہیں۔







