سات ہزار خفیہ پولیس اہلکار، ایرانیوں کا غصہ

،تصویر کا ذریعہReuters

مشتعل ایرانیوں نے سوشل میڈیا پر اس حکومتی فیصلے کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے جس کے مطابق سات ہمار خفیہ پولیس کو تعینات کیا جائے گا تاکہ اسلامی لباس کے نفاذ پر عملدرآمد کرایا جا سکے۔

تہران کی پولیس کے سربراہ نے پیر کو اعلان کیا کہ پولیس کے نئے یونٹ کی ذمہ داریوں میں:

  • ان عورتوں کی رپورٹ کریں جو حجاب ٹھیک طریقے سے نہیں کرتیں
  • جو عورتوں کو ہراساں کرتا ہے
  • ان افراد کے بارے میں رپورٹ کریں جو گاڑی میں اونچا میوزک لگاتا ہے اور ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہیں

یہ پولیس یونٹ کئی دہائیوں سے کام کر رہی ہے لیکن اس کی نفری میں اتنا اضافہ کئی لوگوں کے حیران کن ہے۔ اس یونٹ میں خواتین اہلکار بھی شامل ہیں۔

ایک ایرانی نے ٹویٹ میں کہا ’کے جی بی کے بھی دنیا بھر میں سات ہزار جاسوس نہیں تھے۔‘

ان سات ہزار اہلکاروں کی رپورٹ پر یا تو لوگوں کو تنبیہہ کی جائے گی یا پھر حراست میں لے لیا جائے گا۔

،تصویر کا ذریعہReuters

سوشل میڈیا پر لوگوں نے اس اقدام کو ’انسانی وسائل کو ضائع کرنا کہا ہے۔‘

بہت سے لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ وسائل دیگر اہم کاموں میں لگائے جانے چاہییں جیسے کہ انسداد بدعنوانی اور رشوت خوری۔

کچھ ایرانی خواتین کا کہنا ہے کہ یہ کام الٹا بھی پڑ سکتا ہے اور اجنبی افراد تنگ بھی کر سکتے ہیں۔

ایک اور ٹویٹر صارف نے کہا ’اس کا مطلب یہ ہوا کہ کوئی بھی اس یونٹ کا ممبر بن کر خواتین اور بچوں کو سڑکوں پر تنگ کرنا شروع کر سکتا ہے۔‘

فیس بک پر صارف مترا نے لکھا ’یہ اقدام لوگوں کو خوف زدہ کرنے کے لیے ہے۔ وہ لوگوں کو یہ احساس دلانا چاہتے ہیں کہ ان کو ہر وقت کوئی نا کوئی دیکھ رہا ہے۔ اور وہ چاہتے ہیں کہ لوگوں میں ایک دوسرے پر اعتماد نہ رہے۔‘

جیودتھ سمتھ نے فیس بک پر لکھا ’مجھے سمجھ نہیں آتی کہ خواتین سے اتنا ڈر کیوں۔ یہی سات ہزار افراد کسی مثبت کام کے لیے استعمال کیے جا سکتے ہیں جس سے معاشرے کا بھی بھلا ہو۔‘