کشمیر: مبینہ جنسی حملے کی شکار لڑکی پولیس حراست میں

،تصویر کا ذریعہEPA
- مصنف, ریاض مسرور
- عہدہ, بی بی سی اُردو ڈاٹ کام، سرینگر
انڈیا کے زیرانتظام کشمیر کے شمالی ضلع کپوارہ میں مبینہ جنسی زیادتی کی شکار ایک 17 سالہ لڑکی کو پولیس نے حراست میں لے لیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ان کے ساتھ ان کی خالہ ہیں اور انھیں والدین کی درخواست پر ہی پولیس کی احتیاطی حراست میں رکھا گیا۔
تاہم اس معاملہ پر انسانی حقوق کے لیے سرگرم حلقوں نے احتجاج کیا ہے۔ واضح رہے 12 اپریل کو جنسی زیادتی کے ایک واقعے کے خلاف مظاہرہ کرنے والوں پر فورسز کی فائرنگ میں عمررسیدہ خاتون سمیت چار شہرہ ہلاک ہوگئے۔
اس دوران انٹرنیٹ پر پابندی، بستیوں کی ناکہ بندی اور بیشتر علاقوں میں مسلسل کرفیو سے حالات کشیدہ ہیں۔
عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ ایک سکول طالبہ جب ہندوارہ چوک میں واقعہ بیت الخلا میں گئیں تو ایک فوجی اہلکار نے ان پر جنسی حملہ کیا جس کے بعد لوگوں نے مظاہرے کئے۔ ہلاکتوں اور کشیدگی کے دوران ہی پولیس نے ایک ویڈیو جاری کردی تھی جس میں لڑکی نے بتایا کہ انھیں کسی وردی والے نوجوان نے تھپڑ مارا اور ان کے ساتھ بدتمیزی کی۔
اس واقعے کے خلاف احتجاج کے دوران تین کم سن نوجوان اور ایک خاتون پولیس کارروائی میں مارے گئے۔
انسانی حقوق کے لیے سرگرم کئی تنظیموں کے اتحاد کولیشن آف سول سوسائیٹیز کے ترجمان خرم پرویز نے بتایا: ’پولیس نے متاثر لڑکی کی شناخت ظاہر کر کے ایک غیرقانونی کام کیا ہے، اور اس پر یہ کہ اب اسے پولیس تھانہ میں رکھاگیا ہے اور ان تک کسی وکیل اور رضاکار کو رسائی نہیں دی جارہی ہے۔‘
اس دوران کپوارہ کےایک شہری نے نام مخفی رکھنے کی شرط پر بتایا کہ ویڈیو بیان کے بعد کپوارہ میں رائے عامہ لڑکی کے خلاف ہے، کیونکہ لوگوں کو لگتا ہے کہ لڑکی نے اپنے بیان فوج یا پولیس کی مدد کی ہے۔

،تصویر کا ذریعہAP
دریں اثنا تین دن سے مسلسل ہڑتال اور کرفیو سے عام زندگی معطل ہے۔ حکومت نے مظاہروں کو روکنے کے لیے 13 اپریل کی رات سے ہی وادی بھر میں انٹرنیٹ پر پابندی عائد کردی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
علیحدگی پسند رہنماؤں نے جمعے کے روز لوگوں سے کہا تھا کہ پولیس ایکشن میں ہلاک ہونے والے شہریوں کی تعزیت کے لیے سرینگر سے ہندوارہ تک احتجاجی مارچ کیا جائے، لیکن پولیس نے ان رہنماؤں کو گھروں میں نظربند یا جیلوں میں قید کردیا۔ مارچ کو ناکام بنانے کے لیے سرینگر، ہندوارہ اور دوسرے حساس قصبوں میں کرفیو نافذ کردیا گیا ہے۔
چار ہلاکتوں کے بارے میں فوجی حکام نے افسوس کا اظہار کیا ہے اور اپنی سطح پر واقعات کی تفتیش کا وعدہ کیا۔ دوسری جانب وزیراعلی محبوبہ مفتی نے بھارتی وزیر دفاع سے اپیل کی ہے کہ قصورواروں کو سزا دی جائے۔
غور طلب ہے چار اپریل کو کشمیر کی پہلی خاتون وزیراعلی کے طور پر حلف لیتے ہی محبوبہ مفتی کو وادی میں کشیدہ صورتحال کا سامنا ہے۔اقتدار کے فقط دس روز کے اندر این آئی ٹی میں غیرکشمیری طلبا کے طویل احتجاج کا تنازعہ پیدا ہوا اور اب کپوارہ میں چار شہریوں کی ہلاکت کے بعد عوامی حلقوں میں حکومت مخالف لہر پائی جاتی ہے۔







