کشمیر پولیس کی حب الوطنی پر ’شکوک‘

حکومت ہند نے این آئی ٹی کے غیرکشمیری طلبا کے کہنے پر کالج کیمپس سے کشمیر پولیس کو ہٹا کر وہاں نیم فوجی سی آر پی ایف کی دو کمپنیوں کو تعینات کیا ہے

،تصویر کا ذریعہ

،تصویر کا کیپشنحکومت ہند نے این آئی ٹی کے غیرکشمیری طلبا کے کہنے پر کالج کیمپس سے کشمیر پولیس کو ہٹا کر وہاں نیم فوجی سی آر پی ایف کی دو کمپنیوں کو تعینات کیا ہے
    • مصنف, ریاض مسرور
    • عہدہ, بی بی سی اُردو ڈاٹ کام، سرینگر

بھارتی حکومت کے براہ راست کنٹرول والے تعلیمی ادارے نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی یا این آئی ٹی میں دس روز سے جاری بحران نے کشمیر کی مقامی پولیس کو اخلاقی مخمصےمیں ڈال دیا ہے۔ کالج میں زیرتعلیم ڈیڑھ ہزار سے زائد غیرکشمیریوں کا الزام ہے کہ کشمیر پولیس جانبدار ہے، اور پولیس والوں نے ان پر تشدد کیا ہے۔

دوسری جانب گزشتہ بیس سال کے دوران کشمیر پولیس نے یہاں کی سیاسی یا مسلح مزاحمت کے خلاف جو کام کیا ہے، اس کے باعث یہ فورس اب سماجی اعتبار کھوچکی ہے اور اسے علیحدگی پسند حلقے ’بھارتی تسلط کا ایک آلہ‘ سمجھتے ہیں۔

این آئی ٹی کا تنازعہ اکتیس مارچ کو کرکٹ مقابلے میں بھارتی شکست کے بعداُس وقت شروع ہوا جب کالج میں مقیم کشمیری طلبا نے بھارت کی ہار کا جشن منایا اور غیرکشمیریوں نے ردعمل میں اشتعال انگیز نعرے بازی کی۔

چند روز بعد پانچ اپریل کو جب غیرکشمیریوں نے کیمپس میں ترنگا لہرانے اور بھارت ماتا کی جے کے نعرے لگانے کے بعد جلوس نکالنے کی کوشش تو پولیس نے انھیں روکا۔ جواب میں طلبا نے توڑپھوڑ کی اور پتھراؤ کیا اور پولیس نے حسب روایت لاٹھی چارج کیا۔ اس میں سات طلبا زخمی ہوگئے۔ تب سے کالج میں درس وتدریس کا عمل معطل ہے اور کالج کے غیرکشمیری طلبا کالج کو جموں منتقل کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

دوسری طرف بی جے پی کے ہمدرد سوشل میڈیا پرکشمیر پولیس کو’پاکستانی‘ ہونے کا طعنہ دیتے ہوئے کشمیر کو فوج کے حوالے کرنے کی تجاویز پیش کر رہے ہیں۔ کالم نگار اور مبصر اشوک پنڈت نے اپنے تازہ ٹویٹ میں لکھا ہے ’ ہم نے ہمشہ کہا تھا جموں کشمیر پولیس وردی میں ملبوس دہشت گردوں کا ٹولہ ہے۔ ان لوگوں کا دل ہمیشہ پاکستان کےلیےدھڑکتا ہے۔‘

کشمیر پولیس کے بارے میں سوشل میڈیا پر ایسے سینکڑوں تاثرات پر کشمیری حلقوں نے پولیس کو طنز کا نشانہ بنایا۔ انسانی حقوق کےلیےسرگرم کولیشن آف سول سوسائیٹیز کے ترجمان خرم پرویز نے فیس بک پر پولیس کو مخاطب کرکے کہا لکھاہے کہ ’بھارت آپ سے کشمیریوں کو قتل کرنے اور ان کی تذلیل کرنے کا کام لے رہا ہے جس کےلیےآپ کو انعامات سے نوازا جاتا ہے۔ آپ اپنے آقا کے بچوں کو نہیں مارسکتے، ایسا کیا تو آپ کو اپنی اوقات دکھائی جائے گی۔‘

واضح رہے حکومت ہند نے این آئی ٹی کے غیرکشمیری طلبا کے کہنے پر کالج کیمپس سے کشمیر پولیس کو ہٹا کر وہاں نیم فوجی سی آر پی ایف کی دو کمپنیوں کو تعینات کیا ہے۔ کشمیر پولیس کے چند اہلکار فقط صدردروازے پر آمدورفت کو کنٹرول کرنے پر مامور ہیں۔ سابق وزیراعلی عمرعبداللہ نے بھی کشمیر پولیس کی قوم پرستی شبہات کے برملا اظہار پر وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ علاوہ ازیں بھارتی میڈیا پر ہونے والے مباحثوں میں کشمیر پولیس کو قوم دشمن قرار دیا جا رہا ہے۔

سینیئر پولیس افسر امتیاز حسین نے ٹویٹ کے ذریعہ اس صورتحال پر افسوس کا اظہار یوں کیا ’ہمارے سینکڑوں جوان مسلح جھڑپوں میں مارے جاتے ہیں۔ ان کی میت اُسی ترنگے میں لپیٹ کر ان کے گھر پہنچائی جاتی ہے، جس ترنگے کے وقار کی خاطر وہ جان دیتے ہیں۔‘ اس پوسٹ پر کئے گئے اکثر تبصروں میں لکھا گیا ’پھر بھی یہ لوگ آپ پر بھروسہ نہیں کریں گے۔‘

کشمیر پولیس کے بارے میں سوشل میڈیا پر ایسے سینکڑوں تاثرات پر کشمیری حلقوں نے پولیس کو طنز کا نشانہ بنایا

،تصویر کا ذریعہ

،تصویر کا کیپشنکشمیر پولیس کے بارے میں سوشل میڈیا پر ایسے سینکڑوں تاثرات پر کشمیری حلقوں نے پولیس کو طنز کا نشانہ بنایا

ایک ریٹائرڑ پولیس افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ’میں نے پولیس محکمہ کو زندگی کی اڑتیس بہاریں دی ہیں۔ اس دوران میں نے اپنے ساتھیوں کی لاشوں کو کندھا دیا۔ آج دلّی میں بیٹھ کر کوئی لیپ ٹاپ قوم پرست ہم لوگوں کو قوم پرستی کا سبق نہیں پڑھاسکتا ہے۔‘

پولیس افسر کا کہنا ہے کہ کسی شہری کی قوم پرستی کا ثبوت لیپ ٹاپ یا فون کے ذریعہ سوشل میڈیا پر شورشرابہ نہیں بلکہ عملی میدان میں اس کا کارنامہ یا اس کی قربانی ہے، جو پولیس نے دی ہے۔

فی الوقت این آئی ٹی بحران کے ضمن میں جس انداز سے بھارتی میڈیا اور بی جے پی مقامی پولیس کو پاکستانی ایجنٹ قرار دے رہے ہیں، وہ کشمیر پولیس کی متضاد تاریخ کی یاد دہانی کرتا ہے۔ مبصرین کہتے ہیں کہ پولیس اور عوام کے درمیان جو خلیج پولیس کی کاروائی سے پیدا ہوئی ہے، وہ شاید بھارت میں جاری قوم پرستی کی لہر سے ایک بار پھر پوری ہونے کو ہے۔ سیاسی حلقے کہتے ہیں کہ حکومت ہند کی کشمیر سے متعلق براہ راست مداخلت کی پالیسی سے کشمیر پولیس ڈیمارلائز ہوگئی ہے۔