سرینگر میں تصادم، لاٹھی چارج میں 12 طلبہ زخمی

انسٹی ٹیوٹ میں بھارت ویسٹ انڈیز کے درمیان میچ کے بعد ہونے والے تنازعے کے بعد چند دنوں کے لیے بند کر دیا گيا تھا

،تصویر کا ذریعہBilal Bahadur

،تصویر کا کیپشنانسٹی ٹیوٹ میں بھارت ویسٹ انڈیز کے درمیان میچ کے بعد ہونے والے تنازعے کے بعد چند دنوں کے لیے بند کر دیا گيا تھا

انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے سرینگر میں نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے کیمپس میں انڈین قومی پرچم نہ لہرانے دینے پر مشتعل طالب علموں پر پولیس نے لاٹھی چارج کیا ہے۔

لاٹھی چارج میں کم از کم 12 طلبہ زخمی ہوئے ہیں۔ سری نگر کے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی میں بھارت کی دیگر ریاستوں کے طلبہ زیادہ تعداد میں ہیں۔

پولیس کے ایک ترجمان نے بتایا کہ تقریبا 500 طالب علموں نے ایک ریلی نکالنے کی کوشش کی اور جب انھیں انسٹی ٹیوٹ کے مرکزی دروازے پر روکا گیا تو وہ پرتشدد ہو گئے۔

پولیس ترجمان کے مطابق، ’طالب علموں کی بھیڑ نے پولیس والوں پر پتھراؤ کیا۔ اس سے سرکاری املاک کو بھی نقصان پہنچا۔ پولیس نے طالب علموں کو منتشر کرنے کی کوشش کی جس کی وجہ سے کچھ طلبہ زخمی ہو گئے اور انھیں ابتدائی طبی امداد فراہم کی گئی ہے۔‘

جموں کشمیر کے نائب وزیر اعلی نرمل سنگھ نے کہا ہے، ’معمولی جھپڑپ ہوئی ہے اور چیزیں کنٹرول میں ہیں۔‘

انڈیا کے وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے وزیر اعلی محبوبہ مفتی کو فون کرکے معاملے پر غور کرنے کے لیے کہا ہے۔

سرینگر میں واقع این آئی آئی ٹی کے کیمپس میں مشتعل طلبہ پر پولیس نے لاٹھی چارج کی ہے

،تصویر کا ذریعہ

،تصویر کا کیپشنسرینگر میں واقع این آئی آئی ٹی کے کیمپس میں مشتعل طلبہ پر پولیس نے لاٹھی چارج کی ہے

سرینگر کے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی میں چار دن کے وقفے کے بعد گذشتہ پیر کو معمول کی تعلیمی سرگرمی شروع ہوئي تھی۔

گذشتہ ہفتے اس ادارے کو حکام نے اس وقت بند کر دیا تھا جب نعرے بازی کی وجہ سے طالب علموں کے درمیان جھڑپ ہوئی تھی۔

نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ایک افسر نے بتایا، ’31 مارچ کو بھارت-ویسٹ انڈیز کے درمیان کرکٹ میچ کے دوران مقامی طلبہ نے ویسٹ انڈیز کی جیت کا جشن منایا جس پر جھگڑا ہو گیا۔ زیادہ تر طالب علموں نے ’بھارت ماتا کی جے‘ کے نعرے لگائے۔ بات بڑھتی ہوئی دیکھ کر ہم نے کلاسز بند کر دی تھی۔‘

انڈیا میں طلبہ اور سیاست سے وابستہ لوگ انسٹی ٹیوٹ میں طالب علموں پر ہونے والے مبینہ ظلم و ستم پر غصے سے پر ٹویٹ کر رہے ہیں، وہیں کشمیری طالب علموں کا الزام ہے کہ افسر مقامی طلبہ کو نظر انداز کر رہے ہیں۔