محبوبہ مفتی: کشمیر کی پہلی خاتون وزیر اعلیٰ

،تصویر کا ذریعہEPA
- مصنف, شجاعت بخاری اور ریاض مسرور
- عہدہ, بی بی سی ڈاٹ کام، سرینگر
خاتون سیاستدان محبوبہ مفتی نے بھارت کے زیر انتظام کشمیر کی پہلی خاتون وزیر اعلیٰ کے حیثیت سے حلف اُٹھا لیا ہے۔
56 سالہ خاتون رہنما، سابق وزیر اعلیٰ مفتی محمد سعید کی صاحبزادی ہیں۔ مفتی سعید رواں برس جنوری میں انتقال کرگئے تھے۔
اُن والد کی موت کے بعد محبوبہ مفتی اور بھارت کی حکمران بی جے پی کے درمیان اتحادی حکومت کے مستقبل کے حوالے سے کئی ہفتوں کشمکش جاری رہی۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ محبوبہ مفتی کو اُن کی اپنی علاقائی جماعت کے اندر اور اُس کے ساتھ ساتھ اتحادیوں کی جانب سے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔
اپنے والد کی وفات کے تین مہینے بعد محبوبہ مفتی نے عہدے کا حلف اُٹھایا ہے۔
23 مارچ کو وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ ملاقات میں دو مخالف سیاسی جماعتوں کے ’غیرمعمولی‘ اتحاد کے دوبارہ ملاپ کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ محبوبہ مفتی کی پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) اور انڈیا کی حکمراں جماعت بی جے پی۔
گذشتہ سال مفتی سعید نے بی جے پی اور پی ڈی پی کے اتحاد کو شمال اور جنوب کا ملاپ قرار دیا تھا۔
بی جے پی کے برعکس پی ڈی پی مکمل طور پر کشمیر نواز جماعت ہے اور ناقدین اِس پر پاکستان اور کشمیر میں بھارتی حکومت کے خلاف برسرپیکار علیحدگی پسند گروہوں کے ساتھ مفاہمت کا الزام لگاتے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بیشتر بھارتی شہری محبوبہ مفتی کو ’مرکزی دھارے میں شامل عسکریت پسند سیاستدان‘ تصور کرتے ہیں، جو ماضی میں جنگجوؤں کے اہلخانہ سے اپنی ہمدردی کا اظہار کرتی رہی ہیں۔
لیکن اب وہ ہاٹ سیٹ پر موجود ہیں۔
والد کی وفات کے فوری بعد محبوبہ مفتی نے اقتدار سنبھالنے سے انکار کردیا تھا اور وہ ’اعتماد سازی کے حوالے سے اقدامات‘ پر اصرار کررہی تھی۔ آخر کار حالیہ ملاقات میں وہ انڈیا کے وزیراعظم مودی کے ساتھ ایک ’خفیہ‘ سودا طے کرنے میں کامیاب ہوگئی ہیں۔
اُنھوں نے اِس ملاقات کو ’مثبت اور تسلی بخش‘ قرار دیا ہے تاہم اُنھوں نے اِس کی کوئی تفصیلات فراہم نہیں کی ہیں۔
فتح کے معمار

،تصویر کا ذریعہAP
پی ڈی پی کا آغاز سنہ 1999 ہوا تھا، اِس جماعت کے صدر مفتی سعید اور اُن کی صاحبزادی محبوبہ مفتی نائب صدر تھی۔ جماعت کی تنظیم نو کا سہرا بھی محبوبہ مفتی کے سر جاتا ہے۔
اُنھوں نے جماعت کے عہدوں کو منظم کیا اور براہ راست پارلیمانی انتخابات کی مہم چلائی۔
دسمبر میں اپنی آخری پریس کانفرنس میں مفتی سعید نے اپنی صاحبزادی کو ذمہ داری منتقل کرنے کا اشاراہ بھی دیا تھا۔
اُن کا کہنا تھا کہ ’وہ (محبوبہ مفتی) قابل ہیں۔ اُنھوں جماعت بنائی اور اُن کے عوام کے ساتھ بہترین تعلقات ہیں۔ میرے خیال میں وہ ریاست کی ذمہ داریاں اُٹھانے کے لیے کافی ذہین ہیں۔‘
محبوبہ مفتی نے سنہ 1996 کے انتخابات میں کانگریس پارٹی کے امیدوار کی حیثیت سے سیاست میں قدم رکھا تھا۔
سادہ مزاج اور نرم گو محبوبہ مفتی کو انتخابات کے لیے کاغذات نامزدگی داخل کرانے سے قبل کوئی نہیں جانتا تھا۔
گیم چینجر
اُنھوں نے دھمکیوں کا مقابلہ کیا اور شورش زدہ کشمیر کی وادی میں سیاست کے امتحان کے ذریعے سے آگے قدم بڑھائے، جہاں 1980 کی دہائی کے آخر سے انڈیا سے علیحدگی کی تحریک چل رہی ہے۔
کشمیر جیسے قدامت پسند معاشرے اُن کا اتنخاب بہت اہم تھا۔
کشمیر یونیورسٹی سے قانون کی ڈگری حاصل کرنے والی محبوبہ مفتی نے سنہ 2014 میں اپنے والد کے ریاست کے وزیر اعلیٰ بننے کے خواب کو حقیقت میں تبدیل کرنے میں مدد کی۔
سنہ 1996 میں مفتی سعید کانگریس پارٹی کا حصہ تھے، جب عوام کی بڑی تعداد بھارتی آئین کے تحت انتخابات لڑنے کے حوالے سے تذبذب کا شکار تھی اور بہت سارے کشمیر میں ایک قومی پارٹی کے زیراہتمام بھی۔ اُنھوں نے اپنی اہلیہ گُلشن بیگم کو پہلگام اور اپنی صاحبزادی کو بیجبہرا کے انتخابی حلقوں سے انتخاب لڑنے کے لیے راضی کیا۔
انتخابات میں محبوبہ کو فتح جبکہ اُن کی والدہ کو شکست کا سامنا کرنا پڑا، جس کے بعد اُنھوں نے مڑ کے پیچھے نہیں دیکھا۔
محبوبہ اِس بات کو تسلیم کرتی ہیں کہ وہ حادثاتی طور پر سیاست میں آئی ہیں۔
وہ کہتی ہے کہ ’جب میں سیاست میں داخل ہوئی، تو مجھے لگا یہی وہ جگہ ہے کہ جہاں میں عوام کی زندگی بہتر بنانے کے لیے کام کرسکتی ہوں۔‘
جس دور میں انڈیا کی مسلح افواج انسانی حقوق کی پامالی کے الزامات کی زد میں تھی، تو محبوبہ مارے جانے والے جنگجوؤں کے گھروں پر جاکر اُن کے اہلخانہ کا غم بانٹ رہی تھی۔
اُنھوں نے نذر آتش کیے جانے والے دیہاتوں میں غمزدہ خواتین کے ہمراہ ماتم کیا اور اُن کے ساتھ بیٹھ کر روئیں، جس کے باعث اُنھوں نے عوام کے ’دل‘ میں راستہ بنا لیا۔
’بے مثال لگن‘
سنہ 1999 میں محبوبہ مفتی اور اُن کے والد نے کانگریس کو خیرباد کہہ دیا، اُنھیں اِس بات کا احساس تھا کہ انڈیا سے علحیدگی کی جنگ لڑنے والے کشمیری عوام اب اِس جماعت کو مزید قبول نہیں کرنا چاہتے۔
اِس کے بعد اُنھوں نے اپنی جماعت پی ڈی پی کی بنیاد رکھی۔
سنہ 2002 میں پی ڈے پی نے کانگریس سے مل کر حکومت بنائی اور مفتی سعید اتحادی حکومت کے وزیر اعلیٰ منتخب ہوئے۔
صرف تین سال بعد سنہ 2005 میں وہ اپنے عہدے سے مستعفیٰ ہو گئے اور وزارت اعلیٰ کا عہدہ کانگریس کے حوالے کردیا۔
جنوری 2009 میں کانگریس کے عمر عبداللہ کی جماعت نیشنل کانفرنس پارٹی سے اتحاد کے بعد پی ڈی پی حزب اختلاف میں آگئی۔
سنہ 2014 کے انتخابات میں محبوبہ مفتی نے براہ راست انتخابی مہم چلائی، اُنھوں نے گھر گھر جاکر عوام سے ملاقات کی اور پی ڈے پی کے اُمیدواروں کےلیے حمایت کی درخواست کی۔
جماعت کے ایک کارکن کا کہنا تھا کہ ’اُن کی محنت اور لگن بے مثال تھی،‘ وہ صبح آٹھ بجے مہم کا آغاز کرتی اور رات نو بجے واپس گھر جاتی تھی۔
انتخابات میں بڑی تعداد میں نشستوں پر فتح حاصل کرنے کے بعد سب محنت وصول ہوگئی اور اُن کی جماعت نے مودی کی جماعت بی جے پی سے مل کر حکومت تشکیل دی۔
محبوبہ مفتی نے 22 مئی سنہ 1959 کو جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ میں آنکھ کھولی، محبوبہ کو طلاق ہوچکی ہے۔
اُن کی دو صاحبزادیاں ہیں ، جو امریکہ میں زیر تعلیم ہیں۔
سنہ 2014 کے انتخابات کے دوران اُنھیں صرف اِس بات کا افسوس تھا کہ وہ اپنی بیٹیوں کو زیادہ وقت نہیں دے سکیں۔
اُن کا کہنا تھا کہ ’لیکن اُنھیں (بیٹیوں کو) معلوم ہے کہ ایسا ممکن نہیں ہے، میں ایک کُل وقتی سیاسی کارکن ہوں۔‘







