بحث جے ماتا اور جان کی دھمکیوں کی

- مصنف, سہیل حلیم
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نئی دہلی
دلی کے ایک چھوٹے سے مدرسے میں حافظ قرآن محمد دلکش درد سے کراہ رہے ہیں۔ چند روز قبل وہ اپنے کچھ ساتھیوں کے ساتھ پارک میں گھومنے گئے تھے کہ انھیں کچھ نوجوانوں نے گھیر لیا۔
’انھوں نے پہلےمیرے ساتھی اجمل کو ایک تھپڑ مارا۔ پھر کہا کہ جے ماتا دی بولو ورنہ مار ڈالیں گے۔ پھر ہمارے سر سے ٹوپی اتاری اور پیر سے کچل دی، مجھے اتنا مارا کے میرے ہاتھ کی ہڈی ٹوٹ گئی۔ ہم مشکل سے جان بچا کر بھاگے۔‘
اس واقعہ سے پہلے محمد دلکش اور اجمل نے ہندوستان میں قوم پرستی پر جاری بحث کے بارے میں صرف اخبارات میں ہی پڑھا تھا۔
اب یہ بحث ایک خطرناک رخ اختیار کر رہی ہے۔

یوگا کے گورو بابا رام دیو کا کہنا ہے کہ اگر انھیں قانون کی پاسداری کی فکر نہ ہوتی تو وہ بھارت ماتا کی جے کا نعرہ لگانے سے انکار کرنے والوں کے سر قلم کر دیتے۔ مہارشٹر کے وزیر اعلی کا کہنا ہے کہ نعرہ لگانے سے انکار کرنے والوں کے لیے ملک میں کوئی جگہ نہیں۔
قوم پرستی پر یہ بحث حکمراں جماعت بی جے پی کی سرپرست نظریاتی تنظیم آر ایس ایس نے شروع کی ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ بھارت ماتا کی جے کا نعرہ ’کلچلرل نیشنل ازم‘ کی بہترین مثال ہے اور جو لوگ یہ نعرہ لگانے سے انکار کرتے ہیں، وہ در اصل ملک کے ثقافتی ورثے سے کنارہ کشی کر رہے ہیں۔
آر ایس ایس سے وابستہ راکیش سنہا کہتے ہیں کہ اگر کوئی طبقہ اچانک اس نعرے سے منہہ موڑ لے تو انھیں اس کی وجہ تو بتانا ہوگی۔’کیا انھیں اس میں مذہب کی بو آتی ہے، یا ہندو فسطائیت کی بو آتی ہے۔۔۔ آپ اس نعرے سے انکار کرکے آزادی کی جدو جہد کی پوری روایت اور وراثت کو مسترد کر رہے ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہAFP
لیکن دارالعلوم دیو بند نے ایک فتوے میں کہا ہے کہ بھارت ماتا کی جے کہنا اسلامی عقیدے کے منافی ہے کیونکہ بھارت کو ایک دیوی کے طور پر پیش کیا جاتا ہے اور یہ نعرہ لگانا اس کی پوجا کے مترادف ہے۔ ’دیو بند کے مطابق جے ہند یا ہندوستان زندہ باد کا نعرہ لگار کر بھی وطن سے محبت کا اظہار کیا جاسکتا ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اگرچے آر ایس ایس کا کہنا ہے کہ وہ زور زبردستی کے خلاف ہے لیکن مہارشٹر کی قانون ساز اسمبلی میں یہ نعرہ لگانے سے انکار کرنے پر گزشتہ ماہ کانگریس سمیت تمام سیاسی جماعتوں نے متحد ہوکر مجلس اتحاد المسلمین کے رکن وارث پٹھان کو ایوان سے معطل کرایا۔ اور پھر ریاست کے وزیر اعلی نے کہا کہ جو لوگ یہ نعرہ لگانے کے لیے تیار نہیں، ان کے لیے بھارت میں کوئی جگہ نہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty
سیاسی تجزیہ نگار پرشوتم اگروال کے مطابق یہ خطرناک صورتحال ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ سنگھ پریوار اپنے انداز کی سیاست کی اجارہ داری قائم کرنا چاہتا ہے۔’آر ایس ایس ِخود کو ایک کلچرل تنظیم کہتی ہے کیونکہ اس کے لیے سیاست بھی کلچر کا ایک حصہ ہے۔۔۔ وہ ہندو مذہب کے نام پر ہندوتوا کی سیاسی اور ثقافتی اجارہ داری قائم کرنا چاہتے ہیں۔‘
ان کا کہنا ہے کہ اس بحث سے ملک میں ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان فاصلے بڑھیں گے اور ’آبادی کے ایک بڑے حصے کو، چاہے اس کا مذہب کچھ بھی ہو، اگر مسلسل ڈرا کر رکھا جائے تو یہ بہت خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔‘
ادھر محمد دلکش کے مدرسے میں ان کے استاد محمد اظہر کا کہنا ہے کہ وہ ہندوستان سے محبت کرتے ہیں لیکن بھارت ماتا کی جے کا نعرہ نہیں لگائیں گے۔ ’ہم بھارت ماتا کی جے بالکل نہیں بولیں گے، ہم ہندوستان کا نعرہ لگاتےآئے ہیں اور لگاتے رہیں گے، ہندوستان زندہ باد تھا، ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ یہ ضروری نہیں کہ جو بھارت ماتا کی جے بولتا ہو وہ ہی محب وطن ہے۔ ہم ہندوستان زندہ باد کا نعرہ لگا کر پہلے بھی ہندوستان سے محبت کرنے والے کہلاتے تھے اور اب بھی کہلائیں گے۔‘







