کنہیا سب سے محبوب بھی، ناپسندیدہ بھی

،تصویر کا ذریعہReuters
- مصنف, سوتک بسواس
- عہدہ, بی بی سی نیوز، دہلی
بھارت کے شہر دہلی کی اعلیٰ درجے کی درس گاہ جواہر لال نہرو یونیورسٹی میں انقلاب اب بھی کچھ فاصلے پر ہے لیکن انتقامی جذبات سے لبریز موسمِ بہار کیمپس میں قدم جما چکا ہے۔
یونیورسٹی میں خوشگوار ہوا چل رہی ہے، پھول اپنے جوبن پر ہیں اور طوطوں کی آوازوں کا شور صاف سنائی دے رہا ہے۔
ایک پتھریلی چٹان جس پر اساتذہ کی بھڑکیلے سرخ، نارنجی اور سرخ اینٹوں والے گھروں کا گھیرا ہے، بھارت کے سب سے پسندیدہ اور سب سے زیادہ ناپسندیدہ طالبعلم کنہیا کمار نمایاں نظر آ رہے ہیں۔
یہ طلبہ یونین کے صدر ہیں اور اِن کا تعلق کمیونسٹ پارٹی انڈیا سے ہے۔ کنہیا اپنے آپ کو مارکس کے نظریات کا حامی کہتے ہیں۔
بمشکل ایک مہینے پہلے کی بات ہے، جب افریقن سٹیڈیز میں زیر تعلیم پی ایچ ڈی کے 28 سالہ طالبعلم کو پولیس نے گرفتار کر لیا تھا۔ اُن پر کیمپس میں ایک جلسے کے دوران مبینہ طور پر بھارت مخالف نعرے لگانے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ اِسی مقدمے میں دو طالبعلم اب بھی پولیس کی حراست میں ہیں۔
یہ جلسہ سنہ 2013 میں پھانسی پر لٹکائے جانے والے کشمیری علیحدگی پسند افضل گورو کی سزا کے خلاف منعقد کیا گیا تھا، جن پر بھارتی پارلیمان پر حملہ کرنے کا الزام تھا۔
کمار کے بیان پر بھارت میں تقسیم پیدا ہوگئی تھی اور چند لوگوں نے اُنھیں ’ریاست مخالف‘ قرار دیا تھا۔ ایک ہفتے قبل وہ ضمانت پر رہا ہوئے اور کیمپس میں جذباتی تقریر کی، جو جلد ہی جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔

،تصویر کا ذریعہGetty
تاہم کچھ لوگوں نے خدشات کا اظہار کیا ہے۔ جے این یو کے ایک پروفیسر کا کہنا ہے کہ اُن کی تقریر سے فساد پیدا ہو سکتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
گذشتہ ایک مہینے کے دوران کمار وکی پیڈیا پر اُبھرتے ہوئے رہنما کے طور پر سامنے آئے ہیں۔ اخبار ٹیلی گراف نے اُنھیں بھارت کا سرخ ستارہ (کمیونسٹوں کی پہچان) قرار دیا ہے۔ اُن کے دوستوں کو اُنگلیوں پر شمار کیا جا سکتا ہے، لیکن وہ گذشتہ پانچ روز کے دوران 50 انٹرویو دے چکے ہیں۔
معمولی بینک بیلنس والے ایک چھوٹے گروہ کے رہنما نے اُن کے سر پر انعام کا اعلان کر رکھا ہے۔ اُن کا فیس بک اکاؤنٹ ہیک کر لیا گیا ہے جبکہ پولیس نے اُن کا موبائل فون بھی ضبط کر رکھا ہے۔
کمار کے چاہنے والوں کا خیال ہے کہ وزیراعظم نریندر مودی کو اِس جوشیلے طالب علم کی شکل میں اپنا ’جوڑی دار‘ مل گیا ہے۔
وزیر اعظم نریندر مودی کی طرح یہ طالبعلم رہنما بھی ایک متنازع شخصیت ہیں، جیسے کبھی وزیراعظم تھے۔

،تصویر کا ذریعہshivnand Giri
جے این یو میں انگریزی زبان کے پروفیسر ماکارند پارنجیپ کا کہنا ہے کہ وہ اُن کی تقریر میں اشتعال انگیزی اور گھمنڈ کے حوالے سے پریشان ہیں۔
اُنھوں نے خبررساں ادارے فرسٹ پوسٹ کو بتایا کہ ’یہ ایک عجیب بحث ہے، جس میں یہ معلوم ہی نہیں ہے کہ نظام ہمیں کیا دے رہا ہے، یہاں کوئی تعریف نہیں ہے صرف نہ ختم ہونے والی گالیاں ہیں۔‘
ایسا لگتا ہے کہ کمار ذرائع ابلاغ کی چمک میں زندگی بسر کر رہے ہیں۔ جب وہ میڈیا والوں کے ساتھ مصروف نہیں ہوتے ہیں تو وہ دوستوں کے ساتھ ہلکا مذاق کرتے نظر آتے ہیں۔ جب دوست اُنھیں توجہ کا متلاشی کہہ کر چھیڑتے ہیں تو وہ کہتے ہیں کہ ’صرف (وزیراعظم مودی) ہی توجہ کے متلاشی ہونے کی بیماری سے دوچار ہیں۔‘ جس پر ارد گرد بیٹھے دوست قہقہہ لگا دیتے ہیں۔
کمار کہتے ہیں کہ ’میں ہیرو نہیں ہوں۔ شکریہ اُن لوگوں کا جنھوں نے مجھے ہیرو بنایا، جس میں میڈیا کے وہ لوگ بھی شامل ہیں جو مخصوص پارٹی کے لیے کام کر رہے تھے۔ اصلی ہیرو اور ہیروئین وہ افراد ہیں جو آمرانہ حکومت کے خلاف جمہوریت کے لیے لڑ رہے ہیں۔‘
اُن کا کہنا ہے کہ وہ ایک رات میں ہی مشہور نہیں ہوئے ہیں۔ وہ بہار کے گاؤں بیگوسرائے سے جے این یو پہنچے تو یہ سب ’بتدریج عمل‘ کا نتیجہ ہے۔ کمار کے والد ایک چھوٹے کسان تھے جو فالج کے باعث مفلوج ہوگئے اور اب بستر پر ہیں، اُن کی والدہ حکومت کے زیر انتظام بچوں کی دیکھ بھال کرنے والے ادارے میں کام کرتی ہیں۔
ثقافتی جھٹکا
کمار کا کہنا ہے کہ ’جب وہ جے این یو پہنچے تو اُنھیں ثقافتی جھٹکا لگا۔ یہاں 145 ممالک سے تعلق رکھنے والے طالبعلم موجود ہیں۔ گذشتہ سال جب مجھے طالبعلم رہنما کے طور پر منتخب کیا گیا تو میرے خیالات میں اضافہ ہوا۔‘
یونیورسٹی کے طالب علموں کا کہنا ہے کہ نومبر میں یونین کے انتخاب سے ایک روز قبل صدارتی مباحثے میں کمار کی شاندار کارکردگی کی بدولت وہ کیمپس میں مشہور ہو گئے۔
اُن کا کہنا ہے کہ ’یکدم فیس بک پر میرے دوستوں کی تعداد دو ہزار سے بڑھ کر پانچ ہزار پر پہنچ گئی۔ ہزار لوگوں نے مجھے فالو کیا۔ اب جب آپ اپنا سٹیٹس اپ ڈیٹ نہیں کر پاتے تو لوگوں کی طرف سے دباؤ آتا ہے۔ اب آپ کے سٹیٹس یا پیغام کو پسند کرنے والوں کی تعداد 20 سے بڑھ 400 تک پہنچ چکی ہے۔‘
’میری گرفتاری کے بعد حالات تیزی سے تبدیل ہوئے ہیں۔ جب میرا فیس بک کا اکاؤنٹ ہیک کیا گیا، تو لوگوں نے میرے نام پر رقم جمع کی تو مجھے تھوڑی بے چینی محسوس ہوئی۔‘
کمار کا کہنا ہے کہ ’ناقدین جو مجھے سیاست میں شوقیہ کے طور پر بیان کرتے ہیں، وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ میں نے اِس کا آغاز بہت پہلے اُس وقت کیا تھا، جب میں پٹنہ کے ایک کالج میں زیرتعلیم تھا۔
’میں کالج میں اُس گروہ کا حصہ تھا، جو کلاسیں نہ ہونے، خواتین کو پریشان کرنے، اور کیمپس میں سیاست دانوں کے بچوں کی بدتمیزی کے خلاف آواز بلند کرتا تھا۔‘
’تو آپ کو یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ میری سیاست میری زندگی کے تجربات پر مشتمل ہے، یہ سب راتوں رات نہیں ہوا۔‘
میں نے اُن سے سیاست کے بارے میں سوال کیا۔
اِن کی سیاست لبرل اِزم اور بائیں بازو کا مرکب ہے۔ بھارت میں جنگ ’جمہوریت کے حامیوں اور مخالفین، عوام اور کاروباریوں کے درمیان‘ ہے۔ سیکیولر جماعتوں کو مذہبی سیاست کی لعنت کے خلاف یکجا ہونا چاہیے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ ’ترقی پسندوں‘ نے دائیں بازو کی جماعتوں کے لیے خلا چھوڑ دیا ہے، سیاسی جماعتوں کو اپنے طالبعلم گروہوں کو آزادانہ چھوڑ کر ترقی کرنے دینا چاہیے۔

،تصویر کا ذریعہAP
گذشتہ مہینے پیش آنے والے واقعات کے باوجود کمار غیر معمولی طور پر پرسکون لگتے ہیں۔ اِن کو اُکسانا آسان بات نہیں ہے۔ یہ معلوم کرنا بہت مشکل ہے کہ وہ شوخ ہیں یا سنجیدہ، کیونکہ وہ نریندر مودی کی حمایت کرنے والے دو اداکاروں پریش راول اور انوپم کھیر کو پسند کرتے ہیں۔
تو یہاں سیاست سے باہر بھی زندگی ہے۔ نعرے لگانے کی وجہ سے سلاخوں کے پیچھے جانے سے قبل اُنھوں نے لیونارڈو ڈی کیپریو کو دریافت کیا تھا۔ اِس حوالے سے بھی اطلاعات ہیں کہ چند ٹی وی چینلوں پر نشر ہونے والے ویڈیو اصلی نہیں ہے۔
’میں اپنی انگریزی بہتر کر رہا تھا تو میں ہالی وڈ فلم ’ریویننٹ‘ دیکھنے چلا گیا، مجھے وہ بہت اچھی لگی، بنیادی طور پر مرکزی اداکار لیو کی وجہ سے۔ میرے دوستوں نے مجھے کہا کہ اِس کو بہت پہلے آسکر مل جانا چاہیے تھا۔ مجھے گذشتہ ہفتے تک اِس کا اندازہ نہیں تھا۔‘
’جب میں جیل میں تھا تو میں نے سنا کہ لیو نے آسکر جیت لیا۔ میں بہت خوش ہوا تھا۔‘







