’پہلے ہم سے بات کریں اور ہماری بات سنیں‘

- مصنف, سنجے مجمدار
- عہدہ, بی بی سی نیوز، دہلی
بھارت کے دارالحکومت دہلی کے مغربی کی جانب بہادر گڑھ میں صبح آٹھ بجے ہیں۔ اس وقت اس عام شاہراہ پر رش سے ٹریفک بلاک ہونا چاہیے لیکن سڑک خالی پڑی ہے۔
سڑک کی دونوں جانب ٹرک لائن میں کھڑے ہیں۔
بیچ سڑک میں لوگوں کا ایک گروپ شامیانے لگا کر بیٹھا ہوا ہے۔ اس گروپ میں کچھ معمر حضرات حقہ پی رہے ہیں۔
یہ لوگ بیچ سڑک میں پچھلے چند روز سے بیٹھے ہیں اور ٹریفک بحال نہیں ہونے دے رہے۔
ان لوگوں کا تعلق جاٹ برادری سے ہے جو مطالبہ کر رہے ہیں کہ سرکاری نوکریوں اور تعلیمی اداروں میں ان کا کوٹہ مختص کیا جائے۔
جوان لڑکوں پر مشتمل ایک گروہ ہاتھوں میں لاٹھیاں اٹھائے جارحانہ انداز میں روڈ پر گشت کر رہا ہے۔ صرف پیدل آنے جانے والوں کو گزرنے دیا جا رہا ہے۔
موٹر سائیکل پر سوار ایک شخص کو گزرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ اس مایوس نوجوان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ’مجھے جانا ضروری ہے کیونکہ آج میرا نئی نوکری پر پہلا دن ہے لیکن یہ مجھے گزرنے نہیں دے رہے۔‘
مظاہرین ہمیں بغور دیکھ رہے تھے جب ہم سڑکوں پر رکھی رکاوٹوں کی ویڈیو بنا رہے تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
دو مظاہرین آگے بڑھے اور کہا ’میڈیا ہمارے ساتھ ناانصافی کر رہا ہے۔ آپ لوگ ہمیں شر انگیز قرار دے رہے ہیں جبکہ ہم تو یہاں پرامن طریقے سے جمع ہیں۔‘

میں نے جب کیمرہ آن کر کے بات کرنی چاہی تو ایک لڑکے نے کیمرے کے سامنے ہاتھ رکھ دیا۔
’پہلے ہم سے بات کریں اور ہماری بات سنیں اور پھر ہم آپ کو آپ کا کام کرنے دیں گے۔‘
مظاہروں میں شامل سخرم دھنکر نے کہا ’ہم یہاں اتنے روز سے مظاہرے کر رہے ہیں لیکن اب تک کوئی سیاستدان یہاں نہیں آیا۔ پولیس بے جا طور پر مشتعل کر رہی ہے۔ پولیس نے طاقت کا استعمال بھی کیا ہے جس کے باعث بہت سے لوگ زخمی بھی ہوئے ہیں۔‘
سخرم نے جیسے ہی بات ختم کی مسلح پولیس پہنچ گئی۔ ان کے افسر کے حکم پر پولیس نے روڈ پر کھڑے ٹرکوں کو ہٹانا شروع کر دیا تاکہ روڈ کلیئر کی جا سکے۔
شامیانے کو اکھاڑ دیا گیا اور مظاہرین کو جانے کے لیے کہا لیکن کوئی بھی اپنی جگہ سے نہیں ہلا۔
مظاہرین سڑک پر بیٹھے رہے اور نعرے بازی شروع کر دی اور پولیس ان کو دیکھتی رہی۔
چند ہی منٹ میں چند افراد نے سڑک پر کھڑے باقی ٹرکوں کے ٹائروں میں سے ہوا نکالنی شروع کر دی تاکہ ان کو سڑک سے نہ ہٹایا جا سکے۔

اس پر پولیس پیچھے ہٹ گئی۔
پولیس کے پیچھے ہوتے ہی شامیانے کو دوبارہ لگایا گیا اور مزید ٹرکوں کو لا کر سڑک ایک بار پھر بند کردی گئی۔
مظاہرین میں سے ایک شخص نے نام نہ بتاتے ہوئے کہا ’ہم اس جگہ سے نہیں ہٹیں گے۔‘
یہ مظاہرین اس خبر سے بالکل مطمئن نہیں کہ حکومت نے رعایت دینے کا فیصلہ کیا ہے۔
’ہمیں حکومت پر اعتبار نہیں ہے۔ ہمیں تحریری طور پر سب کچھ چاہیے اور واضح الفاظ میں چاہیے۔‘
یہ جگہ دہلی کے بالکل قریب ہے۔ ایک دہائی قبل یہاں کھیت ہوا کرتے تھے لیکن اب یہاں بلند عمارتیں ہیں اور کچھ زیر تعمیر عمارتیں ہیں۔
سخرم نے کہا ’ہم کسان ہیں۔ لیکن اب زمین ہی نہیں بچی جہاں کھتی باڑی کر سکیں۔ تمام زمین تو ان ڈیویلپرز نے لے لی ہے۔ اسی لیے ہمیں سرکاری نوکریاں چاہیئیں۔‘







