ہریانہ میں احتجاج، دہلی میں پانی کا بحران

ہریانہ میں جاٹ برادری کی جانب سے سرکاری نوکریوں اور اداروں میں ریزرویشن کے مطالبے پر جاری احتجاج کے نتیجے میں دہلی میں پانی کا بحران پیدا ہو گیا ہے۔

ہریانہ میں جاٹ برادری کی جانب سے سرکاری نوکریوں اور اداروں میں ریزرویشن کے مطالبے پر جاری احتجاج کے نتیجے میں دہلی میں پانی کا بحران پیدا ہو گیا ہے۔
،تصویر کا کیپشنہریانہ میں جاٹ برادری کی جانب سے سرکاری نوکریوں اور اداروں میں ریزرویشن کے مطالبے پر جاری احتجاج کے نتیجے میں دہلی میں پانی کا بحران پیدا ہو گیا ہے۔
ہریانہ میں کئی دنوں سے جاری احتجاج اور مظاہروں میں پولیس اور فوجیوں کے ساتھ تصادم میں کم از کم 11 افراد ہلاک اور 150 سے زیادہ زخمی ہوئے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنہریانہ میں کئی دنوں سے جاری احتجاج اور مظاہروں میں پولیس اور فوجیوں کے ساتھ تصادم میں کم از کم 11 افراد ہلاک اور 150 سے زیادہ زخمی ہوئے ہیں۔
دہلی میں پانی کا بحران دہلی کو پانی سپلائی کرنے والی مونک نہر کو بند کیے جانے سے پیدا ہوا ہے۔
،تصویر کا کیپشندہلی میں پانی کا بحران دہلی کو پانی سپلائی کرنے والی مونک نہر کو بند کیے جانے سے پیدا ہوا ہے۔
مظاہرین نے بڑے پیمانے پر توڑ پھوڑ کی ہے اور املاک کو نقصان پہنچایا ہے۔
،تصویر کا کیپشنمظاہرین نے بڑے پیمانے پر توڑ پھوڑ کی ہے اور املاک کو نقصان پہنچایا ہے۔
دہلی کے شمالی علاقے میں پانی کا بہران شدید ہے۔ سکولوں چھٹی کر دی گئی ہے۔
،تصویر کا کیپشندہلی کے شمالی علاقے میں پانی کا بہران شدید ہے۔ سکولوں چھٹی کر دی گئی ہے۔
دوسری جانب ہریانہ کے بچے تک مظاہرے میں شامل ہیں سڑک کو بند کیے بیٹھے دیکھے جا سکتے ہیں۔
،تصویر کا کیپشندوسری جانب ہریانہ کے بچے تک مظاہرے میں شامل ہیں سڑک کو بند کیے بیٹھے دیکھے جا سکتے ہیں۔
پانی کی فراہمی کے لیے سینکڑوں ٹینکرز جگہ جگہ پہنچائے جا رہے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنپانی کی فراہمی کے لیے سینکڑوں ٹینکرز جگہ جگہ پہنچائے جا رہے ہیں۔
دہلی کے وزیر اعلی نے بتایا ہے کہ فوج نے نہر پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے لیکن ابھی یہ پتہ نہیں چل سکا ہے کہ پانی کو دہلی تک آنے میں کتنا وقت لگے گا۔
،تصویر کا کیپشندہلی کے وزیر اعلی نے بتایا ہے کہ فوج نے نہر پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے لیکن ابھی یہ پتہ نہیں چل سکا ہے کہ پانی کو دہلی تک آنے میں کتنا وقت لگے گا۔