ایرانی صدر تجارتی معاہدوں کے لیے یورپ کے دورے پر

ایرانی صدر حسن روحانی ایک برے وفد کی سربراہی میں یورپ کا دورہ کر رہے ہیں

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنایرانی صدر حسن روحانی ایک برے وفد کی سربراہی میں یورپ کا دورہ کر رہے ہیں

ایران کے صدر حسن روحانی یورپ کے دورے کے پہلے مرحلے میں اٹلی پہنچ رہے ہیں جہاں وہ اہم تجارتی معاہدوں پر دستخط کریں گے۔

یہ دورہ جوہری معاہدے کے بعد ایران پر سے عائد بین الاقوامی پابندیوں کے ہٹنے کے ایک ہفتے بعد ہو رہا ہے۔

<link type="page"><caption> ایران بوئنگ سے بھی مسافر طیارے خریدنے کا خواہشمند</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/regional/2016/01/160124_iran_plane_purchase_sq.shtml" platform="highweb"/></link>

اطلاعات کے مطابق صدر حسن روحانی اطالوی کمپنیوں سے تقریباً 18 ارب امریکی ڈالر کا معاہدہ کریں گے۔

جبکہ اپنے یورپی سفر کے دوسرے مرحلے میں وہ فرانس میں طیاروں کے متعلق ایک اہم معاہدہ کرنے والے ہیں۔

صدر روحانی تاجروں اور حکومت کے وزرا پر مشتمل ایک 120 رکنی وفد کی سربراہی میں روم اور پیرس کے پانچ دنوں کے دورے پر ہیں۔

اٹلی میں وہ اپنے ہم منصب سرجیؤ میٹریلا اور وزیر اعظم میٹیو رینزی کے ساتھ بات چیت کریں گے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ایران کے ایک سینيئر اہلکار نے کہا کہ ’یہ انتہائی اہم دورہ ہے۔ یہ صفحہ پلٹنے اور مختلف شعبوں میں ہمارے ملک کے ساتھ تعاون کا دروازہ کھولنے کا وقت ہے۔‘

ایران کے طیارے بہت پرانے ہو گئے ہیں جن کی وجہ سے مسافروں کو مشکلات کا سامنا رہتا ہے

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنایران کے طیارے بہت پرانے ہو گئے ہیں جن کی وجہ سے مسافروں کو مشکلات کا سامنا رہتا ہے

صدر روحانی دوسرے مرحلے کے دوران پیرس میں یورپی کمپنی ایئربس کے ساتھ 114 طیارے کی خرید کے معاہدے کو حتمی شکل دیں گے۔

اس کے علاوہ تہران امریکی کمپنی بوئنگ سے بھی طیارے خریدنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

سنہ 1979 میں ’اسلامی انقلاب‘ کے بعد سے ایران مغربی ممالک سے طیارے خریدنے کے لیے جدوجہد کرتا نظر آیا ہے۔ ایران میں مسافر پرانے طیاروں کی وجہ سے گھنٹو ایئرپورٹ پر انتظار کرتے ہیں۔

روم میں بی بی سی کے نمائندے جیمز رینولڈز کے مطابق عام ایرانیوں کے لیے نئے طیارے جوہری معاہدے کے ضمن میں ہونے والی پیش رفت کی فوری علامت کے طور پر سامنے آئیں گے۔

سنیچر کو ایران اور چین نے 17 معاہدوں پر دستخط کیے جن میں توانائی سمیت تجارت کے فروغ کے لیے 60 کھرب کے معاہدے ہوئے۔

خیال رہے کہ گذشتہ ہفتے ایران کی جانب سے جوہری پروگرام کو ختم کرنے کے معاہدے کے بعد بین الاقوامی پابندیاں ہٹائی گئی ہیں۔