’آلِ سعود شیعوں اور سنّیوں میں خانہ جنگی چاہتے ہیں‘

حسن نصر اللہ نے لبنان میں تقریر کے دوران آلِ سعود مردہ باد کے نعرے بھی لگوائے
،تصویر کا کیپشنحسن نصر اللہ نے لبنان میں تقریر کے دوران آلِ سعود مردہ باد کے نعرے بھی لگوائے

ایران اور عراق کے اعلیٰ مذہبی رہنماؤں کے بعد اب لبنان کی شیعہ عسکریت پسند تنظیم حزب اللہ کے سربراہ حسن نصر اللہ نے بھی ممتاز سعودی شیعہ عالم شیخ نمر باقر النمر کو سزائے موت دینے پر سعودی شاہی خاندان کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

ادھر ایران کے صدر حسن روحانی نے ایرانی مظاہرین کی جانب سے تہران اور مشہد میں سعودی سفارتخانوں پر حملوں کی مذمت کی ہے۔

لبنانی دارالحکومت بیرون میں اپنے خطاب میں حسن نصر اللہ کا کہنا تھا کہ ’آلِ سعود دنیا بھر میں شیعہ اور سنّی مسلمانوں میں خانہ جنگی کی آگ بھڑکانا چاہتے ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ شیخ النمر کا خون ’یومِ حساب تک آلِ سعود کے لیے تباہی لائے گا۔‘

حسن نصر اللہ کا کہنا تھا کہ سعودی حکومت کو دنیا بھر کے ان کروڑوں مسلمانوں کے جذبات کی پرواہ نہیں ہے جو اس اقدام سے مجروح ہوئے ہیں۔

تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ شیعوں کو ایسا ردعمل نہیں دکھانا چاہیے کہ وہ شیخ النمر کے قاتلوں کے ہاتھ میں کھیلتے دکھائی دیں۔

اس سے قبل ایران کے روحانی پیشوا آیت اللہ علی خامنہ ای نے کہا تھا کہ شیخ نمر کو موت کی سزا دیے جانے پر سعودی عرب کو ’انتقام الہی‘ کا سامنا کرنا پڑے گا۔

شیخ نمر ان 47 افراد میں شامل ہیں جنھیں سنیچر کو سعودی حکام نے دہشت گردی کے جرم میں سزائے موت دی ہے۔

تاہم اتوار کوآیت اللہ خامنہ ای نے شیخ نمر النمر کے بارے میں کہا کہ انھیں ’سعودی عرب کے سنی حکمرانوں کی مخالفت کرنے پر موت کی سزا دی گئی ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’وہ شہید ہیں جو کہ پر امن رہے۔‘

علی خامنہ ای نے اپنی ایک ٹویٹ میں لکھا کہ ’شیعہ عالم نے نہ تو کبھی کسی مسلح مہم کے لیے لوگوں کو اکھٹا کیا اور نہ ہی کسی مخفی منصوبے کا حصہ رہے۔‘

ایران کے روحانی پیشوا نے مزید کہا کہ ’شیخ النمر نے جو واحد کام کیا وہ تنقید تھی، یہ جو ناحق خون بہایا گیا ہے اس کا اثر جلد ہوگا اور سعودی سیاست دانوں کو انتقام الہی گھیرے گا۔‘

یہ جو ناحق خون بہایا گیا ہے اس کا اثر جلد ہوگا اور سعودی سیاست دانوں کو انتقام الہی گھیرے گا: علی خامنہ ای
،تصویر کا کیپشنیہ جو ناحق خون بہایا گیا ہے اس کا اثر جلد ہوگا اور سعودی سیاست دانوں کو انتقام الہی گھیرے گا: علی خامنہ ای

عراق کے سرکردہ شیعہ عالم آیت اللہ علی سیستانی نے شیخ النمر کی سزا کو ’غیرمنصفانہ جارحیت‘ قرار دیا ہے۔

دریں اثنا ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ سنیچر کی شب تہران میں سعودی سفارتخانے پر دھاوا بولنے والے 40 افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔

اتوار کو بھی کئی سو افراد سعودی سفارتخانے کے سامنے احتجاج کے لیے جمع ہوئے تاہم کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا۔

ایرانی حکام نے تہران کی اس سڑک کو بھی شیخ النمر سے منسوب کر دیا ہے جس پر سعودی سفارتخانہ واقع ہے۔

شیخ النمر کی ہلاکت پر احتجاج کرنے والے مظاہرین نے سنیچر کی شب سعودی سفارتخانے پر چڑھائی کے بعد عمارت کو آگ لگنے کی کوشش کی تھی تاہم اس منصوبے پر عملدرآمد سے قبل ہی پولیس نے انھیں پیچھے دھکیل دیا تھا۔

ایران میں مظاہرین نے سنیچر کی شب سعودی سفارتخانے کو آگ لگانے کی کوشش بھی کی

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنایران میں مظاہرین نے سنیچر کی شب سعودی سفارتخانے کو آگ لگانے کی کوشش بھی کی

اس سلسلے میں اپنے بیان میں اتوار کو ایرانی صدر حسن روحانی نے کہا ہے کہ ایرانیوں کو شیخ نمر کی ہلاکت کو غیرقانونی اقدامات کا بہانہ نہیں بننے دینا چاہیے تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ آیت اللہ النمر کی سزائے موت سے فرقہ وارانہ کشیدگی بڑھے گی۔

جہاں ایران کے علاوہ جہاں لبنان اور عراق میں شیخ النمر کو سزائے موت دیے جانے پر شدید ردعمل سامنے آیا ہے وہیں امریکہ نے بھی اس سزائے موت پر تشویش کا اظہار کیا ہے

امریکہ کی جانب سے کہا گیا کہ اس سزا سے مشرقِ وسطیٰ میں فرقہ ورانہ دشمنی مزید شدت اختیار کر سکتی ہے۔ امریکہ محکمہ خارجہ نے خطے کے ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ کشیدگی کے خاتمے کے لیے اپنی کوششوں کو دگنا کریں۔

اتوار کو ایرانی اخبارات میں بھی شیخ نمر کی سزائے موت پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا گیا ہے۔

ایرانی اخبارات نے خبردار کیا ہے کہ یہ سزائے موت سعودی شاہی خاندان کے زوال کا باعت بن سکتی ہے، لیکن سعودی اخبارات نے اصرار کیا کہ سعودی حکام کو پورا حق حاصل ہے کہ ان لوگوں کو سزا دیں جو حکمرانوں کی حکم عدلی کرتے ہیں۔

عراق کے سرکردہ شیعہ عالم آیت اللہ علی سیستانی نے شیخ النمر کی سزا کو ’غیرمنصفانہ جارحیت‘ قرار دیا ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنعراق کے سرکردہ شیعہ عالم آیت اللہ علی سیستانی نے شیخ النمر کی سزا کو ’غیرمنصفانہ جارحیت‘ قرار دیا ہے

ایران کے سخت گیر موقف کے حامل اخبار ’وطنِ امروز‘ کا کہنا تھا کہ شیخ نمر کی ہلاکت نے’سعودی عرب کی خون کی پیاسی حکومت کی کمزور بنیادوں کو ہلا کے رکھ دیا ہے۔‘

قدامت پسند روزنامہ ’حمایت‘ کا کہنا تھا کہ سعودی حکام کو اب یہ حقیقت قبول کرنا پڑے گی کہ خطے میں شیخ نمر کے حمایتی ان سے ’بدلہ لے کر رہیں گے۔‘

لیکن اعتدال پسند ایرانی اخبار ’شرق‘ کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کے اس ’غیر ذمہ دارانہ‘ اقدام سے خطے میں فرقہ وارانہ کشیدگی میں اضافہ ہونے کا خطرہ ہے اور ایران کو چاہیئے کہ وہ اُس خطرناک کھیل سے دور رہے جو سعودی عرب کھیل رہا ہے۔