’سالگرہ اور شادی نےخوشی کودوبالا کردیا‘

،تصویر کا ذریعہEPA

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے پاکستان کے مختصر دورے کے بعد نئی دہلی پہنچنے پر لاہور میں اپنے مختصر قیام اور پاکستانی وزیراعظم نواز شریف کے ساتھ ملاقات کا احوال سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر بیان کیا ہے۔

<link type="page"><caption> ’نریندر مودی کا دورہ خیرسگالی کے لیے تھا‘</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/pakistan/2015/12/151225_foreign_sec_modi_visit_fz.shtml" platform="highweb"/></link>

<link type="page"><caption> لاہور کا سفر: واجپئی سے مودی تک</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/regional/2015/12/151225_pak_india_timeline_talks_ra" platform="highweb"/></link>

<link type="page"><caption> مودی کے دورے سے میڈیا میں ہلچل</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/pakistan/2015/12/151225_media_reaction_india_pakistan_sh.shtml" platform="highweb"/></link>

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے دہلی پہنچنے پر اپنے ٹوئٹر پیغام میں کہا ہے کہ انھوں نے شریف خاندان کے ساتھ شام کا اچھا وقت گزارا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’نواز صاحب کی سالگرہ اور ان کی نواسی کی شادی نے خوشی کو دگنا کر دیا۔‘

،تصویر کا ذریعہTwitter

وزیراعظم مودی نے ایک اور ٹویٹ میں کہا کہ ’نواز شریف صاحب کا میرے استقبال کے لیے اور میرے واپس جاتے وقت لاہور ہوائی اڈے پر آنے سے میں ذاتی طور پر متاثر ہوا ہوں۔‘

پاکستان کی طرح بھارت میں بھی سوشل میڈیا پر نریندر مودی کی لاہور آمد کا چرچا رہا، اس کا اندازہ اس امر سے لگایا جاسکتا ہے کہ بھارت میں ٹوئٹر پر ’وزیراعظم نریندر مودی‘ اور ’لاہور‘ ٹرینڈ کرتا رہا۔

جبکہ ’مودی ان انڈیا‘ کا ہیش ٹیگ عالمی سطح پر ٹرینڈ ہوتا رہا۔

وزیراعظم نریندر مودی لاہور سے دہلی پہچنے پر سابق بھارتی وزیراعظم اٹل بہاری واجپئی سے ملاقات کے لیے ان گھر بھی گئے جہاں انھوں نے اٹل بہاری واجپئی کو سالگرہ کی مبارک باد بھی دی۔

،تصویر کا ذریعہTwitter

خیال رہے کہ سابق بھارتی وزیراعظم اٹل بہاری واجپئی اور وزیراعظم نواز شریف کی تاریخ پیدائش 25 دسمبر ہے۔

نریندر مودی نے اس حوالے سے کہا کہ ’نواز شریف صاحب کی اٹل جی کے لیے شفقت بہت زیادہ متاثر کن ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف نے اٹل بہاری واجپئی کے ساتھ اپنی ملاقاتوں کو یاد کیا اور ’مجھ سے ان کی جانب سے اٹل جی کو نیک خواہشات کا کہا۔‘

،تصویر کا ذریعہTwitter

واضح رہے کہ نواز شریف نے سنہ 1998 میں امریکہ میں ملاقات کے دوران بھارتی وزیراعظم اٹل بہاری واجپئی کو پاکستان آنے کی دعوت دی تھی جسے قبول کرتے ہوئے وہ 20 فروری 1999 کو بذریعہ دوستی بس لاہور پہنچے اور معاہدۂ لاہور پر دستخط کیے جس میں دونوں ممالک نے علاقائی امن کے لیے ایٹمی ہتھیاروں کے حصول کی دوڑ روکنے پر اتفاق کیا تھا۔

بھارتی وزارت برائے خارجہ امور کے ترجمان نے آج کے دن کو بھارتی سفارت کاری کا منفرد دن قرار دیا ہے۔