’اندازہ لگائیں مودی کے علاوہ اور کون ہے لاہور میں‘

،تصویر کا ذریعہTwitter
- مصنف, طاہر عمران
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام
بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی لاہور آمد کے بارے میں اچانک ٹویٹ نے جمعہ کو دونوں ملکوں میں ایک ہلچل مچا دی اور اسی شور شرابے میں خاموشی سے بھارت میں سٹیل کے بڑے سرمایہ کار ساجن جندل نے بھی نواز شریف کی سالگرہ کے موقع پر اپنی لاہور میں موجودگی کا اعلان کیا۔
جندل خاندان کے جے ایس ڈبلیو گروپ کے چیئر مین اور مینیجنگ ڈائریکٹر ساجن جندل نے پاکستانی وقت کے مطابق نو بج کر نو منٹ پر ٹویٹ کی کہ ’وزیراعظم نواز شریف کی سالگرہ کی مبارکباد دینے کے لیے میں لاہور میں ہ‘ جس کے ساتھ انھوں نے اپنی اور اہلیہ کی تصویر شائع کی۔
اسی ٹویٹ کے تقریباً ایک گھنٹہ قبل کابل سے نریندر مودی نے ٹویٹ کیا کہ وہ دہلی جاتے ہوئے لاہور میں رک کر نواز شریف سے ملاقات کرنے والے ہیں۔
یاد رہے کہ بھارتی صحافی برکھا دت نے حال ہی میں شائع ہونے والی اپنی کتاب میں اس خاندان کے پاکستان بھارت تعلقات میں کردار کا ذکر کیا ہے۔ ان کےبقول مودی کی حلف برداری کی تقریب میں نواز شریف کے دورۂ بھارت کے دوران نوین جندل نے نواز شریف کے صاحبزادے کی دعوت بھی کی تھی۔
برکھا دت نے ہی آج ٹویٹ کی کہ’اندازہ لگائیں نریندر مودی کے علاوہ اور کون ہے لاہور میں؟ نوین جندل! اب میری باری ہے کہنے کی کہ ’میں نے کہا نہیں تھا کیا‘ سارک کانفرنس کے دوران نیپال میں وزارئے اعظم میں ملاقات کا۔‘
نیپال میں سارک سربراہ کانفرنس کے دوران مودی اور نواز شریف کے دوران ایک گھنٹہ طویل خفیہ ملاقات بھی برکھا دت کے بقول جین جندل نے ہی کروائی تھی۔ لیکن برکھا دت کے اس دعوے کو دونوں ممالک نے بڑی شد و مد سے رد کر دیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہTwitter
برکھا دت نے مزید لکھا تھا کہ ’نوین جندل ہیں جن کے توسط سے کھٹمنڈو میں سارک سربراہ کے موقع پر مودی اور نواز شریف کی ایک گھنٹہ طویل ملاقات ہوئی تھی۔
بھارت کے درمیان سڑک کے راستے کھولنے اور اس میں پاکستان کے کردار اور بیک چینل سفارت کاری پر نو دسمبر کو بی بی سی اردو نے ایک فیچر <link type="page"><caption> ’تعلقات کی بحالی میں سٹیل کی سرمایہ کاری‘</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/pakistan/2015/12/151209_india_pak_link_fz" platform="highweb"/></link> شائع کیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
برکھا دت کی ٹویٹ پر پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما اسد عمر نے ٹویٹ کی کہ ’برکھا دت کا کہنا ہے کہ بھارتی سٹیل میگنیٹ مودی کے ساتھ مل کر نواز شریف سے ملاقات کے لیے آ رہے ہیں۔ جس پر سوال اٹھتا ہے کہ مودی کے اس دورے کا ایجنڈہ کیا ہے۔‘
یاد رہے کہ پاکستان کے زمینی راستے سے گزر کر افغانستان اور اس سے بھی آگے وسطی ایشیا کی ریاستوں تک پہنچنا بھارت کا ایک دیرینہ خواب رہا ہے لیکن گذشتہ دس برس میں بھارت کے افغانستان میں بڑھتے ہوئے معاشی مفادات نے اس خواہش کو اور بھی شدید کر دیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہTwitter
دوسری جانب چند سال قبل سٹیل اتھارٹی آف انڈیا کی سربراہی میں قائم بھارتی کمپنیوں کے افغان آئرن اینڈ سٹیل نامی کنسورشیم نے جس میں جندل گروپ کے سب سے زیادہ شیئر ہیں، افغانستان کے صوبے بامیان میں خام لوہا نکالنے کی کامیاب بولی لگائی تھی۔
یاد رہے کہ جندل گروپ بھارت میں سٹیل کے شعبے کے بڑے سرمایہ کار ہیں اور ان کا بھارت کے اقتدار کے ایوانوں میں بھی بڑا اثر و رسوخ ہے۔







