ہلمند کا ضلع سنگین طالبان کے ’قبضے میں‘

افغانستان سے اطلاعات کے مطابق طالبان نے ہلمند کے ضلع سنگین کے مرکز پر قبضہ کر لیا ہے۔
حکام نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ طالبان نے ایک سرکاری عمارت اور پولیس سٹیشن کا کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔
طالبان کا کہنا ہے کہ ان کے جنگجوؤں نے پورے ضلع پر قبضہ کر لیا ہے۔
تاہم افغانستان کی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ علاقے میں لڑائی جاری ہے اور پولیس اور فوجیوں کے لیے فوجی رسد پہنچائی گئی ہے۔
ضلعے کے گورنر حاجی سلیمان شاہ نے بی بی سی کو بتایا کہ انھیں بدھ کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے ضلعی ہیڈکوارٹر سے لشکر گاہ میں ایک فوجی اڈے پر پہنچایا گیا تھا۔ ان کے مطابق ان کے ہمراہ پندرہ زخمی سکیورٹی اہلکار بھی تھے۔
<link type="page"><caption> سنگین ضلعے کی اہمیت کیوں ہے؟</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/regional/2015/12/151222_sangin_situation_as.shtml" platform="highweb"/></link>
<link type="page"><caption> افغان فورسز کو سنگین پر قبضہ قائم رکھنےمیں مشکلات</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/regional/2015/12/151221_taliban_halmand_sangin_update_rwa.shtml" platform="highweb"/></link>
سنگین سے سات کلومیٹر دور افغان فوج کے ساتھ موجود ایک پولیس اہلکار اشفاق اللہ نے بی بی سی کو بتایا کہ ’پورا‘ علاقہ شدت پسندوں کے کنٹرول میں ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پولیس اہلکار کا کہنا تھا ’مدد کے لیے آنے والے دستوں کو ایک فاصلے پر اتارا گیا ہے۔۔۔ لیکن تمام سڑکیں بلاک ہیں اور شدت پسندوں کے کنٹرول میں ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہMOD
بی بی سی کے نامہ نگار جوناتھن مارکس کا کہنا ہے کہ سنگین کا معرکہ ہلمند صوبے پر قبضے کی وسیع لڑائی کا صرف ایک حصہ ہے۔
ہمارے نمائندے کے کہنا ہے کہ اگر یہ شہر طالبان کے ہاتھوں میں چلا جاتا ہے تو صوبے میں یہ حکومت کے لیے بڑی ناکامی ہوگی کیونکہ یہ علاقہ طالبان کی جنگ کا مرکز رہا ہے اور ہیروین کی تجارت کا اہم راستہ ہے اور پاکستان سے اس کی قربت اسے جنگی لحاظ سے اہم بناتی ہے۔
گذشتہ سال افغانستان سے نیٹو افواج کے بڑے پیمانے پر نکل جانے سے قبل یہ افغانستان میں اتحادی افواج کی سرگرمیوں کا اہم مرکز تھا۔
بی بی سی پشتو سروس کے ایک نامہ نگار کا کہنا ہے جس کا بھی اس پر قبضہ ہوگا پوست کی غیر قانونی تجارت کے ٹیکس پر اس کا کنٹرول ہوگا۔
اطلاعات کے مطابق منگل کے روز سارے دن جنگ جاری رہی اور پولیس ہیڈکوارٹر کو بچانے کے لیے افغان فوجی کوشاں نظر آئے جبکہ کہ اس ضلعے کے بارے میں متضاد خبریں آ رہی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty
خیال رہے کہ سنگین کئی مرتبہ طالبان کے قبضے میں جا چکا ہے اور اس پر قبضے کی جنگ میں بہت سے افغان اور بین الاقوامی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں۔
اس سے قبل گذشتہ روز برطانیہ کی وزارت دفاع نے کہا تھا کہ برطانیہ کے ایک فوجی دستے کو ’مشاورتی کردار‘ میں افغانستان کے ہلمند صوبے کے شورا بیک کیمپ میں تعینات کیا گیا ہے۔
جبکہ افغانستان میں غیرملکی فوجیوں کے جانے کے بعد اب بھی 12 ہزار غیر ملکی فوجی ہیں جو نیٹو کی قیادت میں ’ریزولیوٹ سپورٹ‘ کے تحت ہیں۔







