دہلی ریپ کیس میں نابالغ مجرم کی رہائی کے خلاف اپیل مسترد

،تصویر کا ذریعہGetty
بھارت کی عدالت عظمیٰ نے تین سال قبل دہلی میں چلتی بس میں ہونے والے ریپ معاملے میں سزا پانے والے نابالغ مجرم کی رہائی کے خلاف مقدمہ خارج کر دیا ہے۔
دہلی خواتین کمیشن کی صدر سواتی ماليوال اس سزایافتہ شخص کی رہائی کے خلاف ہفتے کو رات گئے بھارت کے چیف جسٹس کے گھر پہنچی تھیں اور گینگ ریپ کے نابالغ مجرم کی رہائی کو روکنے کے لیے درخواست دائر کی تھی جس پر پیر کو سماعت کی گئی۔
عدالت نے اس اپیل کو یہ کہتے ہوئے خارج کر دیا کہ بھارت میں سزا پوری کر لینے والے مجرم کو روکنے کے لیے کوئی قانون نہیں ہے۔
اتوار کو حکام نے بتایا کہ دہلی گينگ ریپ معاملے میں نابالغ مجرم کو سزا مکمل کر لینے کے بعد رہا کر دیا گیا ہے اور ایک خیراتی ادارے کے حوالے کر دیا گيا ہے۔
جبکہ اس مقدمے میں ملوث چار مجرم اپنی اپنی موت کی سزاؤں کے خلاف اپیلیں کر رہے ہیں اور پانچویں نے مبینہ طور پر جیل میں خود کشی کر لی تھی۔

،تصویر کا ذریعہAFP
مجرم کو اگست سنہ 2013 میں ایک اصلاح خانے میں تین سال گزارنے کی سزا سنائی گئی تھی جو ایسے معاملے میں کسی نابالغ مجرم کے لیے بھارت میں سب سے سخت سزا ہے۔
تین سال قبل پیش ہونے والے واقعے کے وقت مجرم نابالغ تھا۔ ہر چند کہ اب وہ بالغ ہو چکا ہے تاہم اس پر مقدمہ نابالغ کے طور پر ہی چلایا گیا تھا اور اس نے اپنی سزا بھی مکمل کر لی ہے۔
ریپ اور اس کے بعد ریپ کا شکار لڑکی کی موت پر پوری دنیا میں غم و غصے کا اظہار کیا گیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہAFP
سپریم کورٹ کے فیصلے سے قبل جووینائل جسٹس ایکٹ پر بحث چھڑ گئی ہے۔ سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس وی این کھرے کا کہنا ہے کہ نابالغ مجرم کی رہائی سے قبل ایک سند جاری ہونی چاہیے کہ اس میں کس حد تک اصلاح ہوئی ہے۔
انھوں نے کہا کہ مجرم کو اصلاح خانہ بھیجنے کا مقصد تو یہ ہوتا ہے اس سے سدھرنے کا پورا موقع دیا جائے تاکہ وہ پھر سے عام زندگی شروع کر سکے۔
اس لیے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ مجرم کو اپنے کیے پر کتنا پچھتاوا ہے اور وہ اپنے آپ میں اصلاح چاہتا ہے یا نہیں۔







