’مندر میں جانا ہے تو ساڑھی پہننا ہوگی‘

کاشی یا بنارس یا ورانسی ہندوؤں کے لیے صدیوں سے قابل احترام شہر رہا ہے

،تصویر کا ذریعہTHINKSTOCK

،تصویر کا کیپشنکاشی یا بنارس یا ورانسی ہندوؤں کے لیے صدیوں سے قابل احترام شہر رہا ہے

بھارت میں سکول اور کالجوں کے بعد اب مندروں میں بھی ’ڈریس کوڈ‘ کا نفاذ عمل میں آنے لگا ہے۔

وارانسی یا بنارس کے مشہور کاشی وشووناتھ مندر کی انتظامیہ نے غیر ملکی زائرین کے لیے مخصوص لباس پہننے کی ہدایات جاری کی ہیں۔

بی بی سی کے ساتھ بات چیت کے دوران کاشی وشوناتھ مندر کی ایگزیکٹیو آفیسر پی این دویدی نے کہا کہ ’یہ قوانین سنیچر سے ہی نافذ کر دیے گئے۔‘

دویدي کے مطابق عقیدت مند زائرین کی شکایات کے بعد ہی نئے ضابطے نافذ کیے گئے ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ غیر ملکی مردوں اور خواتین کے لیے دھوتی اور ساڑھی کا انتظام کیا گیا ہے جو مندر کے احاطے میں موجود کاؤنٹر پر دستیاب ہوں گے۔

دوویدی نے بتایا کہ ڈریس کوڈ سنیچر سے ہے نافذ کر دیا گيا ہے

،تصویر کا ذریعہRoshan Jaiswal

،تصویر کا کیپشندوویدی نے بتایا کہ ڈریس کوڈ سنیچر سے ہے نافذ کر دیا گيا ہے

انتظامیہ کے مطابق نئے ’ڈریس كوڈ‘ سے مندر میں آنے والے تمام زائرین کے پاؤں مکمل طور ڈھکے ہوں گے اور اسے پہننے میں کوئی دقت نہیں ہوگی۔

تاہم انھوں نے کہا کہ یہ شرائط بھارت کے شہریوں پر نافذالعمل نہیں ہے۔

ایک سوال کے جواب میں انتظامیہ کا کہنا تھا کہ بھارتی باشندے پہلے سے ہی پورے بدن کو ڈھکنے والے کپڑوں میں مندر آتے ہیں۔

کاشی وشوناتھ مندر کی انتظامیہ کے اس فیصلے پر حیرت انگیز طور پر غیر ملکی سیاح ناراض نہیں ہیں بلکہ اس کے برعکس وہ پرجوش اور خوش نظر آ رہے ہیں۔

پولینڈ کی سیاح روسا کہتی ہیں: ’مجھے اس کے لیے ساڑھی پہننا قبول ہے۔ بھارتی خواتین کا ساڑھی پہن کر مندر جانا یقینی طور پر قابل احترام عمل ہے. میں بہت خوش ہوں کہ مجھے ساڑھی پہننے کا موقع ملے گا۔‘

پولینڈ کی روسا کے لیے اس سے انھیں ساڑھی پہننے کا نادر موقع ہاتھ آيا ہے

،تصویر کا ذریعہRohan Jaiswal

،تصویر کا کیپشنپولینڈ کی روسا کے لیے اس سے انھیں ساڑھی پہننے کا نادر موقع ہاتھ آيا ہے

وہیں سویڈن کے ڈیوڈ کو بھی اس ڈریس کوڈ سے کوئی شکایت نہیں ہے۔ ان کے مطابق ’یہ عزت و احترام ظاہر کرنے کا طریقہ ہے۔‘

جبکہ ٹوئٹر پر بعض لوگ مندر میں داخلے کے لیے کسی قسم کے ڈریس کوڈ کے خلاف نظر آئے۔

کاشی وشوناتھ مندر میں تقریبا 50 ہزار افراد روزانہ زیارت کے لیے پہنچتے ہیں جن میں بیرون ملک کے سیاحوں کی بھی قابل ذکر تعداد ہوتی ہے۔

سویڈن کے سیاح ڈیوڈ اسے اظہار عقیدت قرار دیتے ہیں

،تصویر کا ذریعہRohan Jaiswal

،تصویر کا کیپشنسویڈن کے سیاح ڈیوڈ اسے اظہار عقیدت قرار دیتے ہیں