ایک لڑکی نے چھپ کر طالبان کی ویڈیو بنائی

طالبان سے ملاقات اور اس کا ویڈیو سوشل میڈیا پر موضوع بحث

،تصویر کا ذریعہd

،تصویر کا کیپشنطالبان سے ملاقات اور اس کا ویڈیو سوشل میڈیا پر موضوع بحث

افغانستان کی سب سے محفوظ شاہراہ پر طالبان سے ایک ملاقات کی موبائل فون سے تیار بنائے جانے والے ویڈیو سے پتا چلتا ہے کہ اس ملک میں مسافروں کو کس قدر خطرات درپیش ہیں۔

ایک نوجوان طالبہ اپنے گھر مزار شریف سے کابل یونیورسٹی کی جانب سفر کر رہی تھی کہ اس کی بس کو ایک جگہ روک لیا گيا۔

اپنے فون کو چھپاتے ہوئے اس نے طالبان بندوق بردار اور مسافروں کی مختصر گفتگو ریکارڈ کرلی اور بعد میں اسے سوشل میڈیا پر جاری کیا۔

طالبہ سعادت (مکمل نام نہیں ہے) نے شمالی شہر قندوز میں جاری جنگ کے پیش نظر خطرات باوجود کابل کے لیے صبح سویرے آٹھ گھنٹے طویل بس کا سفر شروع کیا۔

بلخ سے دارالحکومت تک کا راستہ میدان کے علاوہ پہاڑی راستوں پر مشتمل ہے جس میں معروف سلانگ درہ بھی شامل ہے۔ جنوب اور مشرقی علاقوں کے مقابلے میں اس راستے کو انتہائی محفوظ قرار دیا جاسکتا ہے۔

اس کا شمار مصروف راستوں میں ہوتا ہے اور باغلان صوبے تک سعادت کو بھی یہ سڑک چلتی پھرتی نظر آئی۔

مزار شریف سے کابل کا بس سے سفر اور طالبان سے ملاقات
،تصویر کا کیپشنمزار شریف سے کابل کا بس سے سفر اور طالبان سے ملاقات

انھوں نے بعد میں بی بی سی کو دیے جانے والے ایک انٹرویو میں کہا: ’میری چھٹی حس کہہ رہی تھی کہ کچھ نہ کچھ ہونے والا ہے۔‘ اس نے اپنے موبائل فون پر فلمبندی شروع کردی۔

سعادت کی پرورش طالبان کے دور حکومت میں بیرون ملک ہوئی تھی اور ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے کبھی نہ کسی طالبان کو دیکھا تھا اور نہ ہی ان سے روبرو ہونے کا کوئی خیال بھی گزرا تھا۔

لیکن جیسے ہی بس کو روکا گیا تو یکایک سب کچھ بدل گیا۔ انھوں نے بتایا کہ ’چیک پوائنٹ کو بھاری بھرکم ہتھیاروں سے لیس لوگوں نے گھیر رکھا تھا۔ ان میں سے ایک بس میں داخل ہوا اور مسافروں سے مخلوط فارسی اور پشتو زبان میں بات کرنے لگا۔‘ یہ دونوں ملک کی دو اہم زبانیں ہیں۔

سعادت نے تمام گفتگو ریکارڈ کرلی۔ اس میں طالبان جنگجو کا چہرہ نیچے سے نظر آتا ہے کیونکہ سعادت نے فون کو اپنی گود میں رکھ لیا تھا لیکن مکمل گفتگو ریکارڈ ہوئی ہے۔

جنگجو کا لہجہ مسافروں سے نرم ہے جو ان کی خیریت چاہتا ہے اور لوگ جواب میں اس کی خیریت چاہتے ہیں۔

گفتگو اس وقت شدت اختیار کرلیتی ہے جب ایک خاتون سے بات ہوتی ہے جس نے برقع نہیں پہن رکھا ہے۔ طالبان جب اقتدار میں تھے تو برقع خواتین کے لیے لازمی تھا۔

طالبان کے دور حکومت میں خواتین کو برقع پہننا ضروری تھا
،تصویر کا کیپشنطالبان کے دور حکومت میں خواتین کو برقع پہننا ضروری تھا

جب اس سے پوچھا جاتا ہے کہ کیا وہ پشتون ہے تو وہ جواب دیتا ہے ’نسل کوئی معنی نہیں رکھتی۔ وہ کہتا ہے: ’اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ کوئی پشتو، فارسی یا ازبک یا ترک نہیں ہے۔ میں صرف اس ملک کا ہوں۔‘ اور لوگ اس کی ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے نظر آتے ہیں۔

وہ کہتا ہے: ’تمام مسلمان بھائی بھائی ہیں چاہے وہ روسی ہی کیوں نہ ہوں جب تک وہ مسلمان ہے وہ ہمارا بھائی ہے۔ کوئي مسئلہ نہیں ہے۔‘

اس کے بعد وہ پوچھتا ہے کہ کیا بس میں کوئی فوجی یا سرکاری جنگجو تو سوار نہیں ہے۔ ایک خاتون کی آواز ابھرتی ہے کہ سب عام شہری ہیں اور ان میں سے بہت سے لوگ علاج کے لیے کابل جا رہے ہیں۔

اس کے بعد طالبان کو یہ کہتے سنا جا سکتا ہے کہ حکومت کے لیے کام کرنے والوں کو حکومت کا ساتھ چھوڑ دینا چاہیے اور اگر وہ ایسا کريں گے تو انھیں نقصان نہیں پہنچے گا۔

جب وہ بس سے اترتا ہے تو وہ کہتا ہے کہ طالبان کو ظالم کہا جاتا ہے اور یہ درست نہیں ہے۔

وہ کہتا ہے ’بعض لوگ کہتے ہیں کہ طالبان آدم خور ہیں۔‘ لوگ ہنستے ہیں۔ ’میں ایک طالبان ہوں اور میں آدم خور نہیں ہوں۔ ہاں لیکن میں امریکیوں کے سر ضرور کھاؤں گا۔‘

موبائل فون سے سعدات نے یہ ویڈیو بنائی تھی
،تصویر کا کیپشنموبائل فون سے سعدات نے یہ ویڈیو بنائی تھی

جب وہ بس سے اتر جاتا ہے تو ایک شخص کو یہ کہتے ہوئے سنا جاتا ہے ’خدا کا شکر ہے کہ وہ چلا گیا۔‘ سعادت بتاتی ہیں کہ اس کے اترنے سے لوگوں کو اطمینان کا احساس ہوا لیکن وہ صرف چند سیکنڈ پر مبنی تھا۔ بس کو پھر روکا گیا۔ سعادت کو خوف نے گھیر لیا کہ کہیں طالبان نے اسے ریکارڈنگ کرتے تو نہیں دیکھ لیا۔

ایک دوسرا طالبان بس میں سوار ہوا جس نے اس کی جانب اشارہ کیا اور کمبل کی جانب اشارہ کیا جس پر ایک نیم برہنہ خاتون کی تصویر بنی تھی اور اسے ہٹانے کا حکم دیا۔

اس کے بعد وہ مزید کسی خطرے کے بغیر کابل پہنچ گئیں اور ویڈیو کوپوسٹ کیا۔ بعض لوگوں نے ان کی تعریف کی جبکہ بعض نے کہا کہ سعادت نے اپنی اور لوگوں کی جان کو خطرے میں ڈال دیا تھا اور اسے ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا۔