’شاستری کی موت سے متعلق دستاویزات عام کی جائیں‘

بھارتی وزیراعظم لال بہادر شاستری سنہ 56 کی جنگ کے بعد پاکستان کے ساتھ جنگ بندی کے معاہدے کے لیے تاشقند میں تھے اور معاہدے کے فورا بعد وہیں ان کا انتقال ہوگیا تھا

،تصویر کا ذریعہANIL SHASTRI

،تصویر کا کیپشنبھارتی وزیراعظم لال بہادر شاستری سنہ 56 کی جنگ کے بعد پاکستان کے ساتھ جنگ بندی کے معاہدے کے لیے تاشقند میں تھے اور معاہدے کے فورا بعد وہیں ان کا انتقال ہوگیا تھا

بھارت کے سابق وزیراعظم لال بہادر شاستری کے بیٹے اور کانگریسی رہنما انیل شاستری نے مطالبہ کیا ہے کہ ان کے والد کی موت سے متعلق خفیہ دستاویزات کو منظر عام پر لایا جائے۔

بی بی سی سے بات چیت میں انیل شاستری نے کہا کہ سابق وزیر اعظم کی موت سے متعلق دستاویزات ڈيكلاسيفائیڈ کر دیے جائیں تاکہ عوام کو یہ پتہ چل سکے کہ ان کی موت کن حالات میں ہوئی تھی۔

انھوں نے کہا کہ لال بہادر شاستری کی موت کے وقت ہی کچھ لوگوں نے اس پر شکوک و شبہات ظاہر کیے تھے اور اس میں ان کی ماں بھی شامل تھیں۔

انیل شاستری کے مطابق اس کی کئی وجوہات تھیں، جیسے کہ لال بہادر شاستری کی موت کے بعد ان کا پورا چہرہ نیلا ہو گیا تھا، ان کے منہ پر سفید دھبے پائے گئے تھے۔

ان کا کہنا تھا ’ان کے پاس ہمیشہ رہنے والی سرخ رنگ کی ڈائری غائب تھی۔ وہ تھرمس بھی نہیں پایا گیا تھا جسے شاستري جي ہمیشہ اپنے پاس رکھتے تھے۔ اس کے علاوہ شاستري جي کی لاش کا پوسٹ مارٹم نہیں کیا گیا تھا۔‘

انیل شاستری کے مطابق لال بہادر شاستری کی موت کے بعد ان کا پورا چہرہ نیلا ہو گیا تھا اور ان کے منہ پر سفید دھبے پائے گئے تھے

،تصویر کا ذریعہPHOTODIVISION.GOV.IN

،تصویر کا کیپشنانیل شاستری کے مطابق لال بہادر شاستری کی موت کے بعد ان کا پورا چہرہ نیلا ہو گیا تھا اور ان کے منہ پر سفید دھبے پائے گئے تھے

انیل شاستری کہتے ہیں کہ ملک میں بہت سے لوگوں نے شاستري جي کی موت پر سوال اٹھایا تھا اور میڈیا میں یہ بات چھائی رہی تھی کہ ان کی موت مشکوک حالات میں ہوئی۔

معلومات دینے سے انکار

انیل شاستری کے مطابق، تقریبا پانچ برس پہلے کسی نے آر ٹی آئی کے تحت درخواست میں حکومت سے پوچھا تھا کہ شاستری کی موت سے متعلق دستاویزات عام کیوں نہیں کیے جا سکتے۔

حکومت نے اس کے جواب میں کہا تھا کہ ایسا کرنے سے کسی ملک سے دوستانہ تعلقات پر برا اثر پڑ سکتا ہے اور یہ دستاویز ڈي كلاسيفائی نہیں کیے جا سکتے۔

انیل شاستری کا کہنا ہے کہ اس سے لوگوں کے شک و شبہات کو تقویت ملی اور واضح ہو گیا کہ حکومت کچھ چھپانا چاہتی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ جب مغربی بنگال کی حکومت نیتا جی سبھاش چندر بوس سے منسلک دستاویز عام کر سکتی ہے، تو مرکزی حکومت کو بھی شاستری کی موت سے متعلق معلومات لوگوں کو دینی چاہیے۔

لیکن انھوں نے یہ بھی واضح کیا کہ وہ خود وزیر اعظم سے مل کر اس سے متعلق کوئی مطالبہ نہیں کریں گے۔

انیل شاستری نے کہا کہ ان کے بھائی سنیل شاستری حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی میں ہیں اور وہ ایسا کر سکتے ہیں۔