’شاستری کی موت سے متعلق دستاویزات عام کی جائیں‘

،تصویر کا ذریعہANIL SHASTRI
بھارت کے سابق وزیراعظم لال بہادر شاستری کے بیٹے اور کانگریسی رہنما انیل شاستری نے مطالبہ کیا ہے کہ ان کے والد کی موت سے متعلق خفیہ دستاویزات کو منظر عام پر لایا جائے۔
بی بی سی سے بات چیت میں انیل شاستری نے کہا کہ سابق وزیر اعظم کی موت سے متعلق دستاویزات ڈيكلاسيفائیڈ کر دیے جائیں تاکہ عوام کو یہ پتہ چل سکے کہ ان کی موت کن حالات میں ہوئی تھی۔
انھوں نے کہا کہ لال بہادر شاستری کی موت کے وقت ہی کچھ لوگوں نے اس پر شکوک و شبہات ظاہر کیے تھے اور اس میں ان کی ماں بھی شامل تھیں۔
انیل شاستری کے مطابق اس کی کئی وجوہات تھیں، جیسے کہ لال بہادر شاستری کی موت کے بعد ان کا پورا چہرہ نیلا ہو گیا تھا، ان کے منہ پر سفید دھبے پائے گئے تھے۔
ان کا کہنا تھا ’ان کے پاس ہمیشہ رہنے والی سرخ رنگ کی ڈائری غائب تھی۔ وہ تھرمس بھی نہیں پایا گیا تھا جسے شاستري جي ہمیشہ اپنے پاس رکھتے تھے۔ اس کے علاوہ شاستري جي کی لاش کا پوسٹ مارٹم نہیں کیا گیا تھا۔‘

،تصویر کا ذریعہPHOTODIVISION.GOV.IN
انیل شاستری کہتے ہیں کہ ملک میں بہت سے لوگوں نے شاستري جي کی موت پر سوال اٹھایا تھا اور میڈیا میں یہ بات چھائی رہی تھی کہ ان کی موت مشکوک حالات میں ہوئی۔
معلومات دینے سے انکار
انیل شاستری کے مطابق، تقریبا پانچ برس پہلے کسی نے آر ٹی آئی کے تحت درخواست میں حکومت سے پوچھا تھا کہ شاستری کی موت سے متعلق دستاویزات عام کیوں نہیں کیے جا سکتے۔
حکومت نے اس کے جواب میں کہا تھا کہ ایسا کرنے سے کسی ملک سے دوستانہ تعلقات پر برا اثر پڑ سکتا ہے اور یہ دستاویز ڈي كلاسيفائی نہیں کیے جا سکتے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انیل شاستری کا کہنا ہے کہ اس سے لوگوں کے شک و شبہات کو تقویت ملی اور واضح ہو گیا کہ حکومت کچھ چھپانا چاہتی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ جب مغربی بنگال کی حکومت نیتا جی سبھاش چندر بوس سے منسلک دستاویز عام کر سکتی ہے، تو مرکزی حکومت کو بھی شاستری کی موت سے متعلق معلومات لوگوں کو دینی چاہیے۔
لیکن انھوں نے یہ بھی واضح کیا کہ وہ خود وزیر اعظم سے مل کر اس سے متعلق کوئی مطالبہ نہیں کریں گے۔
انیل شاستری نے کہا کہ ان کے بھائی سنیل شاستری حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی میں ہیں اور وہ ایسا کر سکتے ہیں۔







