بھارت کی نصابی کتابوں کے پانچ عجیب سبق

،تصویر کا ذریعہKirtish Bhatt
عالمی اوسط سے کافی کم شرحِ خواندگی کے ملک بھارت نے تعلیم کے شعبے میں اپنی کوششیں بڑھا دی ہیں۔ 2012 میں ملک نے ’رائٹ ٹو ایجوکیشن ایکٹ‘ کی منظوری دی تھی جس کے تحت 14 سال کی عمر سے کم تمام بچوں کے لیے مفت اور لازمی تعلیم فراہم ہے۔
لیکن ملک بھر میں کچھ نصابی کتابوں میں کچھ ایسے ’حقائق‘ ملے ہیں جن سے بھارت کی تعلیم پر قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں۔
مقامی میڈیا میں اکثر نصابی کتابوں میں ملنے والی فاش غلطیوں اور غلط بیانیوں کا ذکر آتا رہتا ہے۔
یہ رجحان خاص طور پر پریشان کن ہے کیونکہ بھارت کا نظام تعلیم تجزیاتی سوچ کے بجائے رٹا لگانے کے عمل کو فروغ دیتا ہے۔
ذیل میں بی بی سی کی عائشہ پریرا بھارتی نصابی کتابوں میں پانچ موجود مثالیں پیش کر رہی ہیں جو حالیہ دنوں میں سرخیاں بن گئی تھیں:
1 بےروزگاری کی وجہ خواتین
چھتیس گڑھ کی ریاست نے حال ہی میں ایک ایسی نصابی کتاب کی شکایت کی جس کے مطابق آزادی کے بعد بےروزگاری میں اضافہ اس لیے ہوا ہے کیونکہ خواتین مختلف شعبوں میں کام کرنے لگی ہیں۔
جب تعلیمی تحقیق اور تربیت کے لیے ریاستی کونسل کے ڈائریکٹر سے اخبار ٹائمز آف انڈیا نے اس اقتباس کے بارے میں پوچھا تو انھوں نے کہا: ’یہ بحث کا معاملہ ہے۔ مصنف نے اپنے ذاتی تجربے کے بعد اپنا نقطۂ نظر پیش کیا تھا۔ اب یہ استاد کی ذمہ داری ہے کہ وہ طلبہ کو چیزیں کیسے سمجھائیں اور ان سے ان کی رائے پوچھیں کہ وہ اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ نہیں۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہKIRTISH BHATT
2 گوشت خور دھوکےباز
11 سال کی عمر کے بچوں کی ایک قومی نصابی کتاب نے سنہ 2012 میں ہنگامہ مچا دیا۔ کتاب کے مطابق گوشت کھانے والے لوگ ’آسانی سے دھوکہ دیتے ہیں، جھوٹ بولتے ہیں، برے الفاظ بولتے ہیں، چوری کرتے ہیں، لڑتے ہیں، تشدد کرتے ہیں اور جنسی جرائم کا ارتکاب کرتے ہیں۔‘
اس واقعے کے بعد سیکنڈری ایجوکیشن کے لیے مرکزی بورڈ کے ڈائریکٹر نے خبروں کے چینل این ڈی ٹی وی سے کہا کہ ملک بھر کے سکولوں میں استعمال ہونے ولی نصابی کتابوں کے مواد کی نگرانی نہیں کی جاتی۔

،تصویر کا ذریعہkirtish bhatt
3 بیوی = گدھا
سنہ 2006 میں انکشاف کیا گیا تھا کہ شمالی ریاست راجستان میں 14 سال کی عمر کے بچوں کے لیے ایک نصابی کتاب نے گھر میں رہنے والی بیویوں کو گدھوں کے برابر قرار دیا تھا۔
ٹائمز آف انڈیا کے اخبار نے ہندی میں لکھی ہوئی نصابی کتاب کا حوالہ دے کر کہا ’گدھا گھر میں رہنے والی بیوی کے برابر ہوتا ہے۔ گدھے کی طرح بیوی کو سارا دن محنت کرنا پڑتی ہے اور کبھی کبھی کھانے اور پانی سے بھی محروم ہونا پڑتا ہے۔ بلکہ گدھا تو بیوی سے بھی بہتر ہوتا ہے کیونکہ جہاں بیوی کبھی کبھی شکایت کر کے اپنے والدین کے گھر جا سکتی ہے وہاں گدھا کبھی اپنے مالک کے ساتھ غداری نہیں کر سکتا۔‘
ایک اہلکار نے اخبار سے کہا کہ یہ مثال ’مزاحیہ‘ طور پر دی گئی تھی۔
4 جاپان نے امریکہ پر ایٹم بم گرایا
سماجی سائنس کی ایک نصابی کتاب میں ایک ایسی بات بتائی گئی جسے صرف تاریخ کی مکمل مسخ شدہ شکل ہی کہا جا سکتا ہے۔ یہ کتاب گجرات کی ریاست میں 50 ہزار بچوں کو پڑھائی گئی جس کے مطابق دوسری عالمی جنگ کے دوران جاپان نے امریکہ پر جوہری حملہ کیا تھا۔
5 گاندھی کے قتل کی غلط تاریخ
انہی کتابوں میں مہاتما گاندھی کے قتل کی تاریخ بھی غلط لکھی گئی تھی۔
اہلکاروں کا کہنا تھا کہ ان کتابں کو درست کیا جائے گا، لیکن انھوں نے ساتھ میں یہ بھی کہا کہ موجودہ کتابیں فی الحال بچوں سے واپس نہیں لی جائیں گی۔







