فیسوں میں بلاجواز اضافہ قابلِ قبول نہیں: وزیرِ تعلیم

- مصنف, طاہر عمران
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
وزیرِ مملکت برائے وفاقی تعلیم بلیغ الرحمان نے کہا ہے کہ نجی سکولوں کی جانب سے فیسوں میں حالیہ بلاجواز اضافہ کسی کے لیے بھی قابلِ قبول نہیں۔
انھوں نے مختلف نجی سکولوں کے مالکان اور انتظامیہ کے ساتھ ایک اجلاس کے بعد کہا ہے کہ نجی سکولوں نے بغیر اجازت کے فیسوں میں اضافہ کیا جسے انھیں واپس لے لینا چاہیے کیونکہ اس کا بچوں کی تعلیم اور ان کے خاندانوں پر برا اثر ہوا ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ ’فیسوں میں اضافہ افراطِ زر کی موجودہ شرح سے زیادہ نہیں ہونا چاہیے اور اسی کسی مربوط اور مروجہ نظام کے بغیر لاگو نہیں کیا جانا چاہیے۔‘
<link type="page"><caption> ’والدین اے ٹی ایم نہیں ہیں‘</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/pakistan/2015/09/150908_private_schools_parents_protest_tim.shtml" platform="highweb"/></link>
<link type="page"><caption> نجی سکولوں کا نگراں ادارہ، چیئرمین کی تقرری کا انتظار</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/pakistan/2015/09/150909_private_schools_competition_tim.shtml" platform="highweb"/></link>
یاد رہے کہ گذشتہ روز وفاقی حکومت کے کیپیٹل ایڈمنسٹریشن اینڈ ڈویلپمنٹ ڈویژن نے نجی سکولوں کے مالکان اور انتظامیہ سے مذاکرات کے ابتدائی دور کے بعد جاری کیے گئے اعلامیے میں تین نکات کے بارے میں لکھا تھا۔
تین نکات درج ذیل ہیں:
- تمام مالکان اور انتظامیہ طلبہ کے والدین کے تحفظات دو ہفتے کے اندر دور کرے گی۔
- ماہانہ فیسوں میں اضافہ واپس لے کر تمام مدوں میں فیس 31 اگست تک کی حد تک منجمد رہے گی۔
- کوئی بھی سکول کسی بھی طالبعلم کو اضافی فیس کی عدم ادائیگی پر سکول سے فارغ نہیں کرے گا۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ وزیراعظم نے اُنھیں یہ ذمہ داری سونپی ہے کہ وہ اس مسئلے کو حل کریں اور یہ کہ فیسوں میں اضافہ حکومت کا اختیار ہے اور نجی سکولوں نے حالیہ اضافہ قانونی طریقے سے نہیں کیا گیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس اجلاس کے دوران نجی سکولوں کے مالکان اور انتظامیہ نے ان محرکات کا ذکر کیا جن کی بنیاد پر انھیں فیسوں میں اضافہ کرنا پڑا۔
سکولوں کی انتظامیہ کے مطابق اس کی وجوہات افراطِ زر کی شرح، ایڈوانس ٹیکس، سی پی آئی اور عمارتوں کے کرایوں میں اضافہ ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ وہ اپنے اساتذہ کو اچھی تنخواہیں دیتے ہیں اور بچوں کی سکیورٹی پر خصوصی توجہ دیتے ہیں۔
تاہم والدین اور بعض نجی سکولوں کی اساتذہ کی جانب سے نجی سکولوں کے مالکان اور انتظامیہ پر غیر منصفانہ تنخواہوں اور انھیں دس مہینے کے کنٹریکٹ پر ملازمت دینے کے الزامات عائد کیے جاتے ہیں۔
وزیرِ مملکت نے مالکان اور اساتذہ کے تحفظات سن کر کہا کہ انھیں فیسوں میں اضافہ کرنے سے قبل نجی سکولوں کی ریگولیٹری اتھارٹی یعنی PEIRA سے پیشگی اجازت لینی چاہیے تھی اور یہ کہ سکولوں کو فیسوں میں اضافہ کرتے وقت موجودہ کم شرح افراطِ زر کو مدِ نظر رکھا جائے۔
یہ علیحدہ بات ہے کہ حکومت نے گذشتہ کئی سالوں سے پرائیویٹ ایجوکیشن انسٹی ٹیوشن ریگولیٹری اتھارٹی کے چیئرمین ہی کا تقرر نہیں کیا ہے اور یہ ادارہ صرف دو ارکان کے ساتھ کام کر رہا ہے اور چیئرمین کے تقرر کے لیے کیبنٹ ڈویژن اور کیڈ ڈویژن فی الحال خط و کتابت میں مصروف ہیں۔







