دولت اسلامیہ سے تعلق کا شبہ، چار بھارتی شہری ملک بدر

،تصویر کا ذریعہReuters
بھارت کی جنوبی ریاست کیرالہ سے تعلق رکھنے والے چار نوجوانوں کو شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کے ساتھ مبینہ تعلق کی وجہ سے متحدہ عرب امارات سے منگل کو واپس بھیج دیا گیا ہے۔
بھارت کی سرکاری نیوز ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق چار مزید افراد کو متحدہ عرب امارات سے واپس بھارت بھیجے جانے کی بات کی جا رہی ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ ریاست کیرالہ کے کوزیکوڈ اور تھیرو وننتھاپورم ہوائی اڈوں پر اترنے کے بعد ان نوجوانوں کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔
بھارتی اخبار دا ہندو کے مطابق ان چار نوجوانوں میں ایک ہندو بھی شامل ہے جس پر دولت اسلامیہ کا حامی ہونے کا شبہ ظاہر کیا گیا ہے۔
خبررساں ادارے کے مطابق ان نوجوانوں کی واپسی 37 سالہ افشاں جبیں عرف ’نکی جوزف‘ کی وطن واپسی کے بعد ہوئی ہے جنھیں دولت اسلامیہ کے لیے نوجوانوں کی مبینہ تقرری کے لیے بھارت واپس بھیجا گیا تھا۔
پی ٹی آئی کے مطابق یہ اقدام دہشت گردی کے خلاف بھارت اور متحدہ عرب امارات کے تعاون کے نتیجے میں ممکن ہو سکا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ واپس بھیجے جانے والے چاروں نوجوانوں کا ابھی تک دولت اسلامیہ سے براہ راست کوئی تعلق نظر نہیں آیا ہے تاہم ان پر ’دولت اسلامیہ کے انقلابی لٹریچر کو فیس بک پر حاصل کرنے اور اس کی ترسیل کرنے‘ کا الزام ہے۔

،تصویر کا ذریعہREUTERS
ذرائع کے مطابق متحدہ عرب امارات کے حکام نے ان کے فیس بک پر انقلابی مواد دیکھا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اطلاعات کے مطابق وطن واپس بھیجے جانے والے ان چار افراد کا آن لائن پر ایک 10 افراد کے نیٹ ورک سے تعلق تھا جس کا ایک رکن ایک 20 سالہ لڑکا ہے اور جس کا تعلق کیرالہ سے ہے اور وہ پولیس کے مطابق اپریل میں راس الخیمہ سے غائب ہو گیا تھا۔
اس سے قبل ستمبر کے اوائل میں تین افراد کو متحدہ عرب امارات سے واپس بھیجا گیا گیا تھا۔
’دا ہندو‘ نے وزارت داخلہ کے ایک اہلکار کے بیان کے حوالے سے لکھا ہے کہ ’یہ تمام افراد 19 سال سے 24 سال کی عمر کے درمیان ہیں اور یہ کیرالہ میں رہنے والے لوگوں کی دوسری نسل ہیں اور یہ موبائل کی مرمت کرنے اور سم کارڈ بیچنے جیسے چھوٹے موٹے کام کرتے تھے۔‘
متحدہ عرب امارات نے مئی سے اب تک کم از کم آٹھ نوجوانوں کو دولت اسلامیہ کے ساتھ مبینہ تعلق کے لیے بھارت واپس بھیجا ہے۔







