افغانستان سے ہزاروں جنگجو یمن جا سکتے ہیں: گلبدین حکمت یار

،تصویر کا ذریعہAFP
افغانستان کے سابق وزیر اعظم اور شدت پسند تنظیم حزب اسلامی کے سربراہ گلبدین حکمت یار نے کہا ہے کہ وہ یمن میں ایران کی مداخلت کو روکنے کے لیے ’ہزاروں جنگجو‘ یمن بھیجنے کے لیے تیار ہیں۔
گلبدین حمکت یار نے ایک آن لائن بیان میں کہا ہے کہ ایران نے افغانستان، عراق، شام اور لبنان کے بعد اب یمن میں بھی مداخلت شروع کر دی ہے اور وہ وہاں ’غیر مسلم اور مرتد فوجیوں‘ کی حمایت کر رہا ہے۔
گلبدین حکمت یار کی جماعت حزب اسلامی کا شمار افغانستان کے ان بڑے جنگجو گروہوں میں ہوتا ہے جنہوں نے سوویت یونین کے خلاف جنگ میں بھرپور حصہ لیا تھا۔ خیال کیا جاتا ہے کہ حزب اسلامی کے پاکستان کی سکیورٹی اداروں سے اچھے تعلقات رہے ہیں۔
گلبدین نے کہا کہ اگر یمن اور عراق میں جا کر لڑنا ممکن ہوا تو ہزاروں جنگجو ’مسلمان بھائیوں‘ کے شانہ بشانہ لڑنے کے لیے وہاں جانے کو تیار ہیں۔
افغانستان پر سوویت یونین کی یلغار کے بعد حزب اسلامی ان مجاہدین تنظیموں کے اتحاد میں شامل تھا جن کو پاکستان کےذریعے سعودی عرب اور امریکہ سے امداد ملتی تھی۔
یمن میں حوثی باغیوں نے رواں برس سابق صدر عبداللہ صالح کی حامی فوج کے ساتھ مل کر یمنی صدر عبد ربہ منصور ہادی کو ملک سے فرار ہونے پر مجبور کیا اور دارالحکومت صنعا پر قبضے کےبعد اب وہ عدن پر قبضہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
سعودی عرب کا الزام ہے کہ ایران یمن کے حوثی باغیوں کی حمایت کر رہا ہے۔ صدر منصور ہادی کی یمن سے فرار ہونے کے بعد سے سعودی عرب اور خلیجی عرب ممالک نے یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف فضائی کارروائیاں شروع کر رکھی ہیں۔ سعودی عرب نے پاکستان سے بھی فوجی مدد طلب کی ہے۔
سعودی عرب کی درخواست کے بعد پاکستان کی سویلین اور فوجی قیادت نے ایک بیان میں کہا تھا کہ وہ سعودی عرب کی جغرافیائی سالمیت کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے بھرپور کارروائی کرے گا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
البتہ پاکستان کی سیاسی جماعتوں نے یمن میں پاکستانی فوج بھیجنے کی مخالفت کی ہے اور ان موقف ہے کہ پاکستان کو کسی ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت سے پرہیز کرنا چاہیے۔







