انڈیا: گرین پیس کو غیر ملکی فنڈز لینے سے روک دیا گیا

،تصویر کا ذریعہAFP
ماحولیاتی تحفظ کے لیے کام کرنے والی تنظیم گرین پیس نے کہا ہے کہ انڈیا نے اس کا بیرون ممالک سے چندہ اکٹھا کرنے کا لائسنس منسوخ کر دیا ہے۔
تنظیم نے کہا ہے کہ یہ تنقید کرنے والوں کا منھ بند کرنے کا ایک اور طریقہ ہے۔
اپریل میں حکومت نے تنظیم کے بینک اکاؤنٹ منجمد کر دیے تھے اور اس پر ٹیکس کے قوانین کی خلاف ورزی اور انڈیا کے اقتصادی مفادات کے خلاف کام کرنے کا الزام لگایا تھا۔
مئی میں دہلی کی ہائی کورٹ نے حکم دیا تھا کہ تنظیم کے دو اکاؤنٹ بحال کیے جائیں اور اس کے ساتھ ساتھ ملک کے اندر سے چندہ اکٹھا کرنے کی بھی اجازت دے دی گئی تھی۔
وزارتِ داخلہ کے ایک ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ بیرون ملک سے فنڈنگ کا لائسنس جمعرات کو منسوخ کیا گیا ہے۔
حکومت کا یہ حکم حالیہ دور میں گرین پیس اور کئی دیگر تنظیموں کے خلاف کارروائیوں کا حصہ ہے جو حکام کے مطابق ملک کے مفادات کے خلاف کام کر رہی ہیں۔
گرین پیس نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا کہ ’یہ حکومت کی پائیدار مستقبل اور عوامی معاملات میں شفافیت کی مہم کو روکنے کرنے کی ایک اور کوشش ہے۔‘
بیان میں کہا گیا ہے کہ غیر ملکی فنڈنگ تک رسائی ختم کرنا ’ہمیں اپنے کام سے روکنے کی ایک مایوس کن کوشش ہے۔‘ لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی کہا گیا کہ کیونکہ تنظیم کی زیادہ تر فنڈنگ انڈین شہری دیتے ہیں اس لیے ان کے زیادہ تر پروجیکٹ جاری رہیں گے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
گرین پیس نے، جو انڈیا میں 14 برسوں سے موجود ہے اور جس کے 340 ملازمین ہیں، کہا ہے کہ اسے اس لیے نشانہ بنایا گیا ہے کہ اس نے آلودگی اور مضر کیڑے مار ادویات کے خلاف مہم چلائی تھی۔
اپریل کو گرین پیس کے اکاؤنٹ منجمد کرتے ہوئے حکومت نے تنظیم پر الزام لگایا تھا کہ وہ یہ بات درست طریقے سے نہیں بتا رہی کہ وہ کتنے غیر ملکی فنڈز ملک میں لا رہی ہے۔
انڈیا نے اس ماحولیاتی تنظیم پر اس بات کا بھی الزام لگایا ہے کہ وہ بڑے تعمیری ڈھانچوں کے منصوبوں کے خلاف احتجاج کر کے ترقیاتی کاموں کے منصوبوں میں رکاوٹ ڈال رہی ہےے۔
گذشتہ برس مئی میں اقتدار سنبھالنے کے بعد وزیرِ اعظم نریندر مودی کی حکومت نے کئی غیر سرکاری تنظیموں کے خلاف مہم شروع کی تھی۔
اس سال کے آغاز میں انڈیا نے غیر ملکی فنڈز سے چلنے والے 9,000 تنظیموں کا اندراج یہ کہہ کر منسوخ کیا تھا کہ وہ ملک کے ٹیکس کے ضوابط پر پورے نہیں اترتیں۔







