بھارت میں ’چار سال کے دوران بدترین سیلاب‘

،تصویر کا ذریعہEPA
- مصنف, سہیل حلیم
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دہلی
بھارت کی کئی ریاستوں میں سیلاب سے بڑے پیمانے پر تباہی کا سلسلہ جاری ہے اور مرنے والوں کی مجموعی تعداد 150 سے تجاوز کر گئی ہے۔ مغربی بنگال میں صورت حال سب سے زیادہ خراب ہے جہاں ہزاروں گاؤں سیلابی پانی کی زد میں ہیں۔
مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کے مطابق یہ گذشتہ چار برسوں کا بدترین سیلاب ہے۔
بھارت کی شمالی ریاستوں میں کئی روز سے موسلادھار بارش ہو رہی ہے، ہزاروں گاؤں سیلاب کے پانی کی زد میں آگئے ہیں اور دس لاکھ سے زیادہ لوگوں نے کیمپوں میں پناہ لے رکھی ہے۔
مغربی بنگال اور شمال مشرقی ریاست منی پور میں تباہی کی اصل تصویر اب سامنے آنا شروع ہوئی ہے۔ سیلاب کے پانی کی وجہ سے بہت سے مقامات پر سڑکیں اور پل بہہ گئے ہیں اور مواصلات کا نظام متاثر ہوا ہے۔
بعض اطلاعات کے مطابق مرنے والوں کی مجموعی تعداد تقریباً 180 ہے اور ان میں سے زیادہ تر اموات ڈوبنے کی وجہ سے ہوئی ہیں۔
برما کی سرحد کے قریب منی پور کا ایک گاؤں زمین کھسکنے کی وجہ سے مٹی کے نیچے دب گیا ہے اور خدشہ ہے کہ وہاں چار لوگ ہلاک ہو گئے ہیں۔
مغربی ریاست گجرات میں کئی مقامات پر پانی کی سطح کم ہوئی ہے جس کے بعد مزید لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔
گجرات میں مجموعی طور پر تقریباً 17 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ شمالی گجرات میں فصلوں کو بھاری نقصان پہنچا ہے اور بڑی تعداد میں مویشیوں کے مارے جانے کی بھی اطلاعات ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہAP
صرف مغربی بنگال میں ایک کروڑ لوگ سیلاب سے متاثر ہوئے ہیں۔ وہاں مرنے والوں کی تعداد کم سے کم 69 ہے۔
مغربی بنگال کے ریاستی وزیر جاوید احمد خان کے مطابق سکولوں اور سرکاری عمارتوں میں 1600 ریلف کیمپ قائم کیے گئے ہیں جہاں تقریباً 12 لاکھ لوگوں نے پناہ لے رکھی ہے۔
مغربی بنگال میں تباہی کا سلسلہ جمعے کو سمندری طوفان ’کومن‘ سے شروع ہوا تھا اور اب ڈیموں سے پانی چھوڑے جانے کی وجہ سے صورت حال اور خراب ہوئی ہے۔ 13 اضلاع میں اب بھی دریاؤں کا پانی خطرے کے نشان سے اوپر ہے۔

،تصویر کا ذریعہbbc
مغربی ریاست راجستھان میں 35 اور شمالی ساحلی ریاست اڑیسہ میں پانچ افراد کے ہلاک ہو جانے کی خبر ہے۔
راجستھان کے ریاستی وزیر گلاب سنگھ کٹاریا کے مطابق راجسھتان میں بارشوں کا زور کم ہوا ہے اور اب امدادی سرگرمیوں پر توجہ مرکوز کی جارہی ہے۔









