افغانستان میں امن کے لیے بات چیت کرنا ’جائز‘ ہے: ملا عمر

افغان طالبان تحریک کے امیر ملا محمد عمر نے عید الفطر کے موقع پر ایک پیغام میں ’افغانستان میں امن کے لیے بات چیت کرنا جائز‘ قرار دیا ہے تاہم انھوں نے پچھلے ہفتے پاکستان میں افغان حکومت اور طالبان رہنماؤں کے مذاکرات کا براہ راست کوئی ذکر نہیں کیا ہے۔

اپنے معمول کے عید کے طویل پیغام میں ملا محمد عمر نے کہا کہ بات چیت کا مقصد افغانستان پر ’قبضے کو ختم کرنا‘ ہے۔

انھوں نے مزید کہا ’اگر ہم مذہبی اصولوں کو دیکھیں تو ان میں دشمنوں کے ساتھ امن مذاکرات منع نہیں ہیں۔ اس لیے ہماری سیاسی کوششوں کا مقصد افغانستان میں قبضے کو ختم کرنا ہے اور ملک میں اسلامی نظام لانا ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’تمام مجاہدین اور عوام کو یقین ہونا چاہیے کہ اس عمل میں میں ہم اپنے قانونی حق اور موقف سے دستبردار نہیں ہوں گا۔‘

’ہم نے سیاسی امور کے لیے ’سیاسی دفتر‘ قائم کیا ہے جس کو سیاسی سرگرمیوں کی نگرانی کا کام سونپا گیا ہے۔‘

یاد رہے کہ پچھلے ہفتے افغان حکومت اور تحریک طالبان افغانستان کے درمیان پاکستان کے سیاحتی مقام مری میں مذاکرات ختم ہوئے تھے۔

ان مذاکرات کے اختتام پر افغان طالبان نے ایک قدرے مبہم بیان میں کہا تھا کہ ان کی تنظیم نے اپنی پالیسیوں میں وقت کے ساتھ ساتھ تبدیلیاں لائے ہیں۔

ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ’سیاسی دفتر‘ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا ان کی تنظیم کا سیاسی دفتر اس بات کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے کہ حالات و واقعات کو دیکھتے ہوئے جب اور جہاں چاہیں اندرونی اور بیرونی عناصر کے ساتھ اسلامی اصولوں اور قومی مفاد میں مذاکرات کرسکتا ہے۔

یہ مذاکرات ایک ایسے وقت ہوئے جب پاکستان اور افغانستان میں سرحدی کشیدگی اور قندہار میں ایک اہلکار کی حراست کے بعد تلخی میں اضافہ ہوا تھا۔ دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے سفیر طلب کر کے احتجاج کیا تھا۔

ملا عمر نے اپنے پیغام میں کہا کہ کچھ عناصر ’مجاہدین‘ کو پاکستان اور ایران کا ایجنٹ کہتے ہیں۔

’یہ بالکل غلط ہے کیونکہ نہ تو ماضی میں اور نہ ہی موجودہ صورتحال اس قسم کا تاثر دیتی ہے۔ تاہم یہ حقیقت ہے کہ ہم پاکستان اور ایران کے ساتھ اچھے تعلقات کے خواہاں ہیں جیسے کہ دیگر ممالک کے ساتھ ہم تعلقات رکھنا چاہتے ہیں۔‘