ملا محمد عمر زندہ یا مردہ؟

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
- مصنف, رفعت اللہ اورکزئی
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
افغان طالبان کے سربراہ ملا محمد عمر دنیا بھر کی شدت پسند تنظیموں کے لیے ’امیر المومنین’ کا درجہ رکھتے ہیں تاہم گذشتہ کئی سالوں سے مسلسل روپوشی کی زندگی گزانے کی وجہ سے اب عسکری تنظیموں میں ان کے زندہ ہونے یا مرنے کے حوالے سے کئی سوالات جنم لینے لگے ہیں۔
افغانستان میں طالبان حکومت کے قیام کے بعد سنہ 1996 میں ملا عمر کو ’ امیر المومنین’ کا خطاب دیا گیا تھا۔
اس خطاب کے بعد عالمی شدت پسند تنظیم القاعدہ سمیت پاکستان اور افغانستان کی تمام چھوٹی بڑی عسکری تنظمیں اور مسلح گروہ ملا عمر کو اپنا امیر مانتے رہے ہیں۔
طالبان کے سربراہ ملا عمر گذشتہ 14 سالوں سے روپوشی کی زندگی گزار رہے ہیں۔
سنہ 2001 میں امریکہ کے افغانستان پر حملے کے بعد سے ملا عمر کو کسی نہیں دیکھا ہے اور نہ وہ کبھی منظر عام پر آئے ہیں۔ وہ اپنی زندگی میں ذرائع ابلاغ کو اپنا انٹرویو اور تصویر دینے سے بھی گریز کرتے رہے ہیں۔
گذشتہ کچھ عرصہ سے عسکری تنظیموں میں ملا عمر کے زندہ ہونے یا مرنے کے حوالے سے کئی سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ بالخصوص عراق اور شام میں دولت اسلامیہ کے سرگرم ہونے اور ابوبکر بغدادی کی جانب سے خلافت کے اعلان کے بعد سے یہ سوالات مزید زور پکڑنے لگے ہیں۔
پاکستان میں دولت اسلامیہ کی جانب سے اس سال کے اوائل میں کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان سے منحرف ہونے والے ایک کمانڈر حافظ سعید خان کو امیر مقرر کیا گیا تھا جس کے بعد سے کئی طالبان کمانڈر دولت اسلامیہ میں شامل ہو چکے ہیں۔
چند دن پہلے باجوڑ ایجنسی میں تحریک طالبان کے سربراہ اور اہم کمانڈر مولانا ابوبکر نے اپنے تمام ساتھیوں سمیت دولت اسلامیہ میں شمولیت اختیار کرنے کا اعلان کیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مولانا ابوبکر کے نائب قاری زاید نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ باجوڑ میں تقربناً ایک ہزار کے قریب جنگجوؤں نے دولت اسلامیہ میں شمولیت اختیار کی تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ ملا عمر عرصہ دراز سے منظر عام پر نہیں آئے اور ان کی امارت بھی صرف افغانستان تک محددو ہے جبکہ ابوبکر بغدادی پورے عالم اسلام کے ’ امیر‘ سمجھے جاتے ہیں۔
افغانستان میں بھی بعض طالبان کمانڈروں نے ملا عمر کے منظر عام پر نہ آنے کی وجہ کو جواز بناتے ہوئے دولتِ اسلامیہ میں شمولیت کا اعلان کیا تھا۔
افغان طالبان کی جانب سے حال ہی میں ملا عمر کی ایک سوانحی عمری بھی شائع کی گئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ یہ کوئی نہیں جانتا کہ ملا عمر کہاں ہیں لیکن وہ افغانستان اور دنیا بھر میں روزانہ کی بنیاد پر ہونے والے واقعات سے مطلع رہتے ہیں۔
ابھی تک یہ واضح نہیں کہ طالبان حکومت کے خاتمے کے کئی سال گزر جانے کے بعد آخر اس وقت ملاعمر کی سوانحی عمر شائع کرنے کی ضرورت کیوں محسوس کی گئی؟ تاہم بعص تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ یہ افغانستان میں دولت اسلامیہ کے بڑھتے ہوئے اثر کو کم کرنے کی ایک کوشش ہو سکتی ہے۔
ذرائع ابلاغ میں اکثر اوقات طالبان سربراہ کی مرنے یا پاک افغان سرحدی علاقوں میں روپوشی سے متعلق خبریں آتی رہی ہیں تاہم کسی ملک یا ادارے کی جانب سےاس حوالے سے کوئی مصدقہ اطلاع سامنے نہیں آئی ہے۔
افغانستان میں عسکری تنظیموں پر گہری نظر رکھنے والے سینئیر افغان صحافی سمیع یوسف زئی کا کہنا ہے ’کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ ملا عمر ہلاک ہوچکے ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ ان کے زندہ ہونے کا کوئی ثبوت بھی پیش نہیں کیا گیا ہے۔
ان کے بقول ’ ایسی صورت میں دونوں باتوں کا امکان موجود ہے۔‘







