چین: قومی سلامتی کے نام پر سخت قانون کی منظوری

بیجنگ کے عظیم ہال میں چین کی سلامتی سے متعلق قانون کو منظوری دی گئی ہے

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنبیجنگ کے عظیم ہال میں چین کی سلامتی سے متعلق قانون کو منظوری دی گئی ہے

چین کے قانون سازوں نے قومی سلامتی کے ایک متنازع وسیع قانون کی منظوری دی ہے جس میں کئی شعبوں میں حکومت کی گرفت سخت بنا دی گئی ہے۔

اس قانون کے تحت قومی سلامتی کی تعریف اس قدر وسیع ہے کہ اس میں مالیات سے لے کر سائبر سکیورٹی اور مذہب تک ہر چیز شامل ہے۔

سرکاری میڈیا کا کہنا ہے کہ اس میں ’لوگوں کے بنیادی مفادات کا تحفظ ہو گا۔‘

یہ وزیر اعظم شی جن پنگ کی پالیسیوں کا حصہ ہے جس کی بیرونی حکومتوں، کاروباری اداروں اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے تنقید ہوئی ہے۔

ایک مبہم الفاظ والے قانون میں حکومت کو چین کی خودمختاری کے تحفظ کے لیے ’تمام ضروری اقدامات کے اختیارات‘ دیے گئے ہیں۔

نیشنل پیپلز کانگریس کی سٹینڈنگ کمیٹی کے ذریعے منظور شدہ اس قانون کا مقصد نیٹ ورک انفراسٹرکچر اور معلومات کے نظام کو ’محفوظ بنانا اور قابو میں رکھنا ہے۔‘

تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ اس سے چین میں ٹیکنالوجی کی بیرونی کمپنیوں کے کام میں رکاوٹ آئے گی۔

چینی خبررساں ادارے شن ہوا کے مطابق چینی پیپلز پارٹی کے ایک سینیئر اہلکار شینگ زونا نے کہا کہ ’چین کی قومی سلامتی کی صورتِ حال بہت شدید ہو گئی ہے۔‘

بیجنگ میں ایک پریس کانفرنس میں انھوں نے کہا کہ چین کو اپنی خودمختاری اور مفادات کا دفاع کرنا ہے اور اس کے ساتھ اسے سیاسی اور سماجی استحکام بھی برقرار رکھنا ہے۔

صدر شی جن پنگ حال ہی میں قائم ہونے والی نیشنل سکیورٹی کمیشن کے سربراہ ہیں اور انھوں نے پہلے کہہ رکھا ہے کہ چین کی سکیورٹی کثیر جہتی ہے جس میں تہذیب و ثقافت، سیاست، فوج، معیشت، ٹیکنالوجی اور ماحولیات سب شامل ہیں۔