قندوز میں طالبان کے خلاف کارروائی جاری، ’35 جنگجو ہلاک‘

،تصویر کا ذریعہ
افغانستان کی سکیورٹی فورسز کا کہنا ہے کہ ملک کے شمال مشرقی صوبے قندوز میں طالبان کے خلاف بڑی کارروائی میں کم از کم 35 جنگجو ہلاک کیے گئے ہیں۔
سرکاری بیان میں کہا گیا ہے کہ سکیورٹی فرسز کی کارروائی میں کئی دیہات طالبان کے قبضے سے چھڑا لیے گئے ہیں۔
قندوز میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ قندوز شہر کے کچھ ہی فاصلے پر لڑائی اب بھی جاری ہے۔
قندوز کے گورنر محمد عمر صافی کا کہنا ہے کہ قندوز میں طالبان کے شانہ بشانہ دولت اسلامیہ کے جنگجو بھی لڑ رہے ہیں۔
طالبان حال ہی میں ہونے والی جھڑپوں میں صوبائی دارالحکومت قندوز کے قریب پہنچ گئے تھے اور اس لڑائی کی وجہ سے ہزاروں افراد نے نقل مکانی بھی کی تھی۔
صوبائی گورنر محمد عمر صافی کے مطابق اب تک 18 غیرملکی جنگجوؤں کی لاشیں مل چکی ہیں جن میں دو خواتین بھی شامل ہیں۔
طالبان نے قندوز میں اپریل کے آخر میں حملوں کا آغاز کیا تھا جس کے بعد سے ان کی افغان فوج سے جھڑپیں جاری ہیں۔
نامہ نگاروں کے مطابق طالبان کی یہ پیش قدمی گذشتہ کئی برس کے دوران دارالحکومت کو لاحق ہونے والا سب سے بڑا خطرہ ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہ
طالبان کا مقابلہ کرنے کے لیے افغان فوجی اور پولیس اہلکار تو میدان میں ہیں لیکن انھیں غیر ملکی افواج کی جانب سے کوئی قابلِ ذکر مدد نہیں مل رہی۔
فی الوقت افغانستان میں نیٹو کے چند ہزار فوجی ہیں موجود ہیں اور ان میں سے اکثریت دسمبر 2014 میں عسکری مشن کے خاتمے کے بعد اب تربیتی کاموں میں مصروف ہے۔
قندوز میں لڑائی سے متاثر ہونے والے افراد نے دارالحکومت کے علاوہ صوبے کے دیہی علاقوں کا بھی رخ کیا ہے۔
ان افراد کی امداد کے لیے عالمی ادارے کوشاں ہیں۔
عالمی ادارۂ خوراک کے افغانستان میں ترجمان وحید اللہ امینی نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ آٹے، دالوں، خوردنی تیل اور قوت بخش بسکٹوں پر مشتمل امدادی پیک تیار کیے گئے ہیں جو 500 خاندانوں کو دیے جائیں گے۔
تاہم قندوز سے بی بی سی کے ڈیوڈ لیون کا کہنا ہے کہ اگر لڑائی طول پکڑ گئی تو اس کے نتیجے میں علاقے میں فصلوں کی کٹائی کا عمل متاثر ہو سکتا ہے جس سے مقامی افراد کی مشکلات میں اضافہ ہو جائے گی۔







