افغانستان میں یرغمال فوجی کا سر قلم

کابل میں بی بی سی کے نامہ نگار ڈیوڈ لوئن کا کہنا ہے کہ اِن عسکریت پسندوں کی جانب سے ایسی ویڈیو پہلی مرتبہ سامنے آئی ہے جس میں کسی کا سر قلم کرتے دکھایا گیا ہو

،تصویر کا ذریعہ

،تصویر کا کیپشنکابل میں بی بی سی کے نامہ نگار ڈیوڈ لوئن کا کہنا ہے کہ اِن عسکریت پسندوں کی جانب سے ایسی ویڈیو پہلی مرتبہ سامنے آئی ہے جس میں کسی کا سر قلم کرتے دکھایا گیا ہو

افغانستان میں فروری میں ایک بس سے 31 افراد کو اغوا کرنے والے عسکریت پسندوں نے ایک ویڈیو جاری کی ہے جس میں ایک یرغمالی کا سر قلم کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

وڈیو میں دو نقاب پوش بندوق بردار اپنے سامنے گھٹنوں کے بل بیٹھے ایک آدمی سے بات کر رہے ہیں۔

ویڈیو میں اس آدمی کو قتل کرنے کے بعد بندوق بردار کہہ رہے ہیں کہ اگر حکومت نے ان کے مطالبات نہ مانے تو وہ باقی یرغمالیوں کو بھی قتل کر دیں گے۔

عسکریت پسندوں کے مطالبات ابھی تک واضح نہیں ہیں۔ وہ خود کو ازبکستان اسلامی تحریک یا ’اسلامک موومنٹ آف ازبکستان‘ کا حصہ بتاتے ہیں جو طالبان کی حلیف تنظیم ہے۔

اس سے قبل خدشات ظاہر کیے جا رہے تھے کہ ان یرغمالیوں کو جن میں سے بیشتر کا تعلق شیعہ ہزارہ اقلیت سے ہے، دولتِ اسلامیہ کے عسکریت پسندوں نے براستہ صوبہ زابل ایران سے کابل جاتے ہوئے اغوا کر لیا تھا۔

ازبکستان اسلامی تحریک کو 90 کی دہائی کے اواخر میں تشکیل دیا گیا اور اس نے جون سنہ 2014 میں کراچی ایئرپورٹ پر حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔

افغانستان میں ہزارہ برادری کی شرح کل آبادی کا نو فی صد ہے اور اس برادری کو طالبان اور سنی انتہا پسندوں کے تشدد کا سامنا رہتا ہے

،تصویر کا ذریعہfb

،تصویر کا کیپشنافغانستان میں ہزارہ برادری کی شرح کل آبادی کا نو فی صد ہے اور اس برادری کو طالبان اور سنی انتہا پسندوں کے تشدد کا سامنا رہتا ہے

کابل میں بی بی سی کے نامہ نگار ڈیوڈ لوئن کا کہنا ہے کہ اِن عسکریت پسندوں کی جانب سے ایسی ویڈیو پہلی مرتبہ سامنے آئی ہے جس میں کسی کا سر قلم کرتے دکھایا گیا ہو۔

وڈیو میں بندوق بردار اس شخص سے پوچھتے ہیں کہ اس کا پیشہ کیا ہے جس کے جواب میں وہ کہتا ہے کہ وہ فوجی ہے۔

مقامی خبر رساں اداروں کے مطابق اغواکار افغانستان کی جیلوں سے اپنے ساتھیوں کو چھڑوانا چاہتے ہیں۔

کراچی ایئرپورٹ پر حملے کے بعد دیگر طالبان دھڑوں کی طرح ازبکستان اسلامی تحریک کو بھی پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان سے آرمی آپریشن کے بعد باہر دھکیل دیا گیا تھا۔

افغانستان میں ہزارہ برادری کی شرح کل آبادی کا نو فی صد ہے اور اس برادری کو طالبان اور سنی انتہا پسندوں کے تشدد کا سامنا رہتا ہے۔