نیپال میں وقت رکا ہوا ہے

یہ المیہ ان کےلیے سب سے زیادہ تباہ کن ہے جن کا گھر بھی منہدم ہو گیااور جن کے اپنے اچانک اس قدرتی آفت میں دنیا سے چلے گئے

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنیہ المیہ ان کےلیے سب سے زیادہ تباہ کن ہے جن کا گھر بھی منہدم ہو گیااور جن کے اپنے اچانک اس قدرتی آفت میں دنیا سے چلے گئے
    • مصنف, شکیل اختر
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کھٹمنڈو

نیپال میں زلزلے کو ایک ہفتہ ہو چکا ہے اورابھی تک متاثرہ علاقوں سے لاشیں نکل رہی ہیں ۔ زلزلے میں مرنے والوں کی تعداد سات ہزار قریب پہنچ چکی ہے۔

زلزلے سے ملک کے 12 اضلاع بری طرح متاثر ہوئے ہیں ۔ وزارت داخلہ کے مطابق تین لاکھ سے زیادہ عمارتیں پوری یا جزوی طور پر تباہ ہوئی ہیں ۔ اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ تباہ کن زلزلے سے 80 لاکھ لوگ متاثر ہوئے ہیں۔

عالمی ادارے کے مطابق 35 لاکھ لوگوں کو فوری طور پر کھانے اور پینے کے لیے پانی کی ضرورت ہے۔ نیپال ایک چھوٹا لیکن غریب ملک ہے ۔ اتنی شدید تباہی سے پورا ملک بے بس اور سکتے میں ہے ۔ ملک میں وسائل کی کمی ہے ۔لیکن پوری دنیا سے امداد بہت جلد نیپال پہنچی ہے ۔ نیپال کی فوج اب گورکھا اور سندھوپال چوک جیسے سب سےزیادہ متاثرہ اضلاع کے دور دراز کے گاؤں تک پہنچ چکی ہے ۔ رفتہ رفتہ امداد متاثرین تک پہنچنا شروع ہو گئی ہے ۔

کٹھمنڈو، بھکتا پور، للت پور اوردیگر اضلاع میں گنجان آبادیوں کے درمیان ہزاروں مکان انتہائی مخدوش اور خطرناک حالات میں کھڑے ہیں۔ بہت سی جگہوں سے تباہ شدہ عمارتوں کے ملبے ہٹائے نہیں جا سکے ہیں ۔

دارالحکومت کٹھمنڈو نیپال کی معیشت کی شہ رگ ہے ۔ یہاں لاکھوں لوگ ملازمت کےلیے دور دراز کے گاؤں سے آتے ہیں۔ زلزلے کےبعد بڑی تعداد میں یہ لوگ اپنے اپنے گاؤں کی طرف جا رہے ہیں ۔

شہر میں جن کےمکان گر چکے ہیں وہ اب سنبھلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ زلزلےکے جھٹکے ابھی تک آ رہے ہیں اور اب بھی بہت سے لوگ خوف سے گھروں کے بجائے باہر کھلے مقامات پر خیموں میں رہ رہے ہیں ۔

نیپال کی فوج اب گورکھا اور سندھوپال چوک جیسے سب سےزیادہ متاثرہ اضلاع کے دور دراز کے گاؤں تک پہنچ چکی ہے

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشننیپال کی فوج اب گورکھا اور سندھوپال چوک جیسے سب سےزیادہ متاثرہ اضلاع کے دور دراز کے گاؤں تک پہنچ چکی ہے

نیپال کےعوام کے اندر صبر وتحمل کا جذبہ بہت وسیع ہے ۔ وہ اپنی زندگی کے غالباً سب سے بڑے سانحے کا بڑی بہادری سےمقابلہ کر رہے ہیں ۔ ریلیف کیمپوں میں ابتدائی طور پر افراتفری کے باوجود لوگوں نے اپنے طور پر صفائی ستھرائی کا خیال رکھا۔ ہر جگہ لوگ انتہائی تنظیم کےساتھ پیش آتے ہیں۔ نیپالی عوام ناراضگی کا اظہار بھی انتہائی مہذب اور نرمی کے ساتھ کرتے ہیں۔

یہ المیہ ان کےلیے سب سے زیادہ تباہ کن ہے جن کا گھر بھی منہدم ہو گیا اور جن کے اپنے اچانک اس قدرتی آفت میں دنیا سے چلے گئے۔ بہت سےلو گ ابھی تک اس اچانک صدمے سے نکل بھی نہیں پائے ہیں۔ ہزاروں لوگ ہسپتالوں میں زیر علاج ہیں ۔

کٹھمنڈو اور اس کے پڑوسی اضلاع میں جا بجا ٹوٹے اور تباہ شدہ مکان بکھرے پڑے ہیں ۔ ہر طرف قدرت کی تباہ کن طاقت کا پتہ چلتا ہے۔

ہزاروں برس سے انسان سیلاب، سونامی، تباہ کن آندھی و طوفان اور زلزلوں کا سامنا کرتا آیا ہے۔

قدرت کی طاقت کے آگے انسان بےبس ضرورہے لیکن انسانی جذبہ بھی ناقابل شکست ہے۔