نیپال زلزلے میں 1800 سے زائد ہلاک، امدادی کارروائیاں تیز

،تصویر کا ذریعہAFP
نیپال میں سنیچر کی صبح آنے والے شدید زلزلے کے نتیجے میں حکام نے 18 سو سے زائد ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے۔
یہ گذشتہ 80 سالوں میں نیپال میں آنے والا بدترین زلزلہ ہے۔
نیپال کی وزارتِ داخلہ کی جانب سے جاری ہونے والےتازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق زلزلے کے نتیجے میں 1805 افراد ہلاک جبکہ ساڑھے چار ہزار سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔
امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق زلزلے کی شدت ریکٹر سکیل پر سات اعشاریہ آٹھ ریکارڈ کی گئی اور اس کا مرکز نیپال کے ضلع کاسکی کے ہیڈکواٹر پوکھرا کے مشرق میں 80 کلومیٹر دور کا علاقہ بتایا جاتا ہے۔ یہ علاقہ دارالحکومت کھٹمنڈو کے مغرب میں واقع ہے۔
خیال رہے کہ زلزلے کے مرکز کے علاقے میں ہونے والی تباہی کی بہت ہی کم معلومات حاصل ہو سکی ہیں۔
حکام نے اس کہا ہے کہ اب بھی ملبے تلے دبے بہت سے افراد کی تلاش کا کام جاری ہے اور خدشہ ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد مزید بڑھ سکتی ہے۔
سنہ 1934 میں نیپال میں 8.3 شدت کا جو زلزلہ آیا تھا اس میں تقریباّ دس ہزار افراد ہلاک ہو گئے تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
زلزلے سے متاثرہ ہزاروں افراد نے پوری رات کھلے آسمان تلے بسر کی۔
زلزلے سے بنگلہ دیش، بھارت اور چین میں تبت کے علاقے کے لوگ بھی متاثرہ ہوئے ہیں۔
بین الاقوامی امداد
پاکستان، بھارت، چین اور امریکہ سمیت متعدد ممالک اور امدادی اداروں نے نیپال کو قدرتی آفت سے نمٹنے کے لیے مدد فراہم کرنے کی پیشکش کی ہے۔
بھارت نے ہوائی جہازوں کے ذریعے ادویات، موبائل ہسپتال اور قدرتی آفات سے نمٹنے والے ادارے کے 40 اہلکار بھیجے ہیں۔ پاکستان نے چار سی ون تھرٹی طیاروں میں 30 بستروں کا فیلڈ ہسپتال، طبی عملہ اور امدادی سامان نیپال روانہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ امریکہ نے بھی دس لاکھ ڈالر اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے والی ٹیم روانہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔
نیپال کے وزیرِ اطلاعات میریندرا ریجال نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ زلزلے کے مرکز کے اردگرد کے علاقوں میں ہونے والے نقصانات کے بارے میں جاننے کی کوششیں کر رہے ہیں۔
وزیر اطلاعات کا مذید کہنا تھا کہ ’ ہمیں اس وقت جس ناگہانی صورتحال کا سامنا ہے اس سے نمٹنے کے لیے ہمیں مختلف بین الاقوامی تنظیموں کی مدد درکار ہے کیونکہ ان کے پاس بہتر معلومات اور آلات موجود ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہEPA
امدادی ٹیمیں دارالحکومت کھٹمنڈو میں تباہ شدہ عمارتوں کے ملبے میں پھنسے ہوئے لوگوں کو نکانے میں مصروف ہیں جہاں کئی تاریخی عمارتیں بھی تباہ ہوئی ہیں۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کا کہنا ہے کہ خدشہ ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد اس سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے کیونکہ کھٹمنڈو میں بے شمار عمارتیں خستہ حال ہیں اور گنجان آباد تنگ گلیوں میں ہرگھر میں کئی افراد رہتے ہیں۔ سنہ 1934 میں نیپال میں 8.3 شدت کا جو زلزلہ آیا تھا اس میں تقریباّ دس ہزار افراد ہلاک ہو گئے تھے۔
اطلاعات کے مطابق کھٹنڈو کے مرکزی ہسپتال میں زخمیوں کو مسلسل لایا جا رہا ہے جن میں سے کئی ایک کی ٹانگیں اور بازو ٹوٹے ہوئے ہیں، تاہم ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ زلزلے میں کتنے لوگ زخمی ہوئے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہReuters
نیپالی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ کھٹمنڈو شہر میں ایک قدیم تاریخی عمارت بھی منہدم ہوئی ہے جس میں خدشہ ہے کہ کم از کم 50 افراد پھنس گئے ہیں۔
سماجی رابطوں کی ویٹ سائٹس پر قدیم مندروں اور دیگر عمارتوں کی تباہی کی تصاویر جاری کی جارہی ہیں، تاہم نقصانات کی مجموعی تصویر سامنے آنے میں ابھی وقت لگے گا۔
زلزلے سے کھٹمنڈو کے ایئر پورٹ کو بھی نقصان پہنچا ہے اور اسے پروازوں کے لیے بند کر دیا گيا ہے۔
نیپال ریڈیو نے لوگوں سے گھروں سے باہر رہنے کی اپیل کی ہے کیونکہ مزید جھٹکوں کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے اور مقامی وقت کے مطابق صبح گیارہ بجے کے بعد سے گاہے بگاہے زلزلے کے کئی جھٹکے محسوس کیے جا چکے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہEPA
عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ لوگ ادھر ادھر بھاگ رہے ہیں ایمبولینس کے سائرن کی آوازیں سنائی دے رہیں جبکہ سرکاری ہیلی کاپٹر فضا میں پرواز کر رہے ہیں۔
خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس سے بات کرتے ہوئے ایک زخمی مزدور نے بتایا کہ ’ یہ ایک بہت خوفناک تجربہ تھا۔ میں اپنی مرہم پٹی کا انتظار کر رہا ہوں لیکن ہسپتال کا عملہ زخمیوں کی بہتات کی وجہ سے تمام لوگوں کا علاج کرنے سے قاصر ہے۔‘
کھٹمنڈو سے صحافی فوٹوگرافر پیٹرک ایڈمز کا کہنا تھا کہ انھوں نے شہر کے مرکزی ہسپتال میں لاشوں اور زخمیوں سے بھرے ہوئے ٹرک آتے دیکھے ہیں۔
زلزلے کے جھٹکے پاکستان سمیت بنگلہ دیش اور بھارت میں بھی محسوس کیے گئے۔
بھارتی سرکاری اہلکاروں کے مطابق بھارت میں کم از کم 22 افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ بنگلہ دیش سے بھی ہلاکتوں کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہEPA
زلزلے کے فوراّ بعد دہلی میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار مرزا عبدالباقی نے بتاتا تھا کہ شہر میں زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس کیے گئے۔
انھوں نے بتایا کہ نیپال سے ملحق بھارتی ریاستوں میں دو بار زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے۔
’دہلی کے کناٹ پلیس میں لوگ اونچی عمارتوں کو چھوڑ کر سڑکوں پر نکل آئے، تاہم ابھی ابھی کسی جانی و مالی نقصانات کی اطلاعات نہیں ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہEPA
بھارتی رکن پارلیمان اور بی جے پی کے رہنما راجیو پڑتاپ روڈھی نے کہا ہے کہ بہار کے سیتا مڑھی ضلعے میں دو افراد کی موت کی تصدیق ہوئی ہے جبکہ بہار میں حفاظتی اقدام کے تحت بجلی کی فراہمی منقطع کر دی گئی ہے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق ریاست مغربی بنگال کے جلپائی گوڑی ضلعے میں دو افراد کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں۔ جبکہ بہار کے مغربی چمارن کے بیتیا شہر سے ایک شخص کے دیوار کی زد میں آجانے سے موت کی خبر ہے۔
زلزلے کی خبر کے فوراّ بعد بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر بھارت اور نیپال میں متاثرین کو امداد فراہم کرنے کا کہا تھا۔
ادھر پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف نے نیپالی حکومت کو ہر ممکن مدد فراہم کرنے کا وعدہ کیا ہے۔
پاکستان کے میٹرولوجیکل آفس کے مطابق زلزلے کے جھٹکے آزاد کشمیر، گلگت بالتستان، پیشاور اور لاہور میں بھی محسوس کیے گئے۔







