چین میں طاقت ور زلزلے: کم از کم 50 افراد ہلاک

زلزلے سے کئی عمارتیں منہدم ہو گئی ہیں
،تصویر کا کیپشنزلزلے سے کئی عمارتیں منہدم ہو گئی ہیں

حکام نے بتایا ہے کہ چین کے شمال مغربی صوبے گانسو میں ایک طاقت ور زلزلہ آیا ہے جس سے کم از کم 50 افراد ہلاک اور 300 سے زائد شدید زخمی ہو گئے ہیں۔

امریکی ارضیاتی سروے کے مطابق ڈنگشی شہر کے قریب آنے والے اس زلزلے کی شدت ریکٹر سکیل پر 5.98 تھی، لیکن زلزلے کا مرکز سطحِ زمین سے خاصا قریب، یعنی 9.8 کلومیٹر کی گہرائی پر تھا۔

اس کے ایک گھنٹے بعد اسی علاقے میں ایک اور زلزلہ آیا جس کی شدت 5.6 تھی۔

من کاؤنٹی میں ایک مزدور نے خبررساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ اس نے شدید جھٹکے محسوس کیے اور وہ فوراً دوڑ کر فیکٹری کے صحن میں پہنچ گیا:

’ہماری فیکٹری دوسری منزل پر ہے۔ جب میں صحن میں آیا تو میں نے دیکھا کہ فیکٹری کی 18 منزلہ عمارت بری طرح لرز رہی ہے، خاص طور پر اس کی آخری منزل۔‘

گانسو صوبے کے محکمۂ زلزلہ نے کہا ہے کہ اس کے بعد سے اب تک 371 جھٹکے محسوس کیے جا چکے ہیں۔

محکمے نے مزید بتایا ہے کہ صوبے کی ژانگ شیان کاؤنٹی میں کم از کم 5600 مکانات کو شدید نقصان پہنچا ہے، جب کہ 380 منہدم ہو چکے ہیں۔ کچھ علاقوں میں بجلی چلی گئی ہے اور موبائل کی سروس متاثر ہوئی ہے۔

ڈنگشی کی مقامی حکومت نے مائیکروبلاگنگ ویب سائٹ وائبو پر اطلاع دی ہے کہ کم از کم 54 افراد ہلاک اور 337 زخمی ہوئے ہیں۔

ڈنگشی کے مقامی حکام نے کہا کہ زلزلے سے کئی مکانات منہدم ہو گئے ہیں۔

2008 میں سچوان صوبے میں آنے والے زلزلے سے 90 ہزار کے لگ بھگ افراد ہلاک اور لاکھوں بے گھر ہو گئے تھے۔

چین کے سرکاری خبررساں ادارے شن ہوا نے خبر دی ہے کہ زلزلے سے مٹی کے تودے گرنے کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔

گانسو کی فوجی پولیس نے 500 فوجی تعینات کر دیے ہیں اور خیمے اور دوسرا امدادی سامان متاثرہ علاقے میں پہنچایا جا رہا ہے۔

ڈنگشی پارٹی کی ویب سائٹ کے مطابق مواصلات، شہری امور اور زلزلے کے محکمے کے عہدے دار موقعے پر پہنچ کر نقصان کا تخمینہ لگانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

بیجنگ میں بی بی سی کی نامہ نگار سیلیا ہیٹن کہتی ہیں کہ فائر فائٹر اور امدادی کتے بھی متاثرہ علاقوں میں پہنچ گئے ہیں۔

نامہ نگار نے بتایا ہے کہ زلزلہ سطحِ زمین سے جتنا قریب ہو، اس کا نقصان اتنا ہی زیادہ ہوتا ہے۔

خبررساں ادارے اے ایف پی نے زلزلے کے مرکز سے 40 کلومیٹر دور ایک شخص کا بیان نقل کیا ہے جنھوں نے بتایا: ’زلزلے سے فانوس لڑکھڑانے لگے اور کھڑکیاں لرزنے لگیں، تاہم دیواروں میں دراڑیں نہیں پڑیں۔‘

انھوں نے مزید کہا: ’جب زمین ہلنا شروع ہوئی تو دکان دار دکانوں سے نکل کر باہر گلیوں میں آ گئے۔‘