بھارت کینیڈا سے تین ہزار میٹرک ٹن یورینیئم خریدے گا

،تصویر کا ذریعہGetty
بھارت نے کینیڈا سے تین ہزار میٹرک ٹن یورینیئم کی خریداری کا معاہدہ کیا ہے جس کی فراہمی رواں برس ہی شروع ہو جائے گی۔
یہ معاہدہ بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی کے دورۂ کینیڈا کے موقع پر ہوا ہے۔
1973 میں سابق وزیر اعظم اندرا گاندھی کے بعد کسی بھی بھارتی وزیر اعظم کا کینیڈا کا یہ پہلا دورہ ہے.
معاہدے کے تحت کینیڈین کمپنی آئندہ پانچ برس میں بھارت کو یہ یورینیئم دے گی جسے جوہری ری ایکٹرز چلانے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔
یورینیئم کی فراہمی کا یہ معاہدہ 2013 میں کینیڈا اور بھارت کے درمیان سول نیوکلیئر معاہدے کے دو سال بعد ہوا ہے۔
کینیڈا دنیا کا تیسرا ملک ہے جو بھارت کو یورینیئم دے گا۔ اس سے قبل روس اور قزاقستان جوہری توانائی کے عالمی نگران ادارے آئی اے ای اے کی زیرِ نگرانی اسے یہ تابکار دھات فراہم کرتے رہے ہیں۔
بھارت نے یورینیئم کے حصول کے لیے کینیڈا کی كمیكو نامی کمپنی کے ساتھ معاہدہ کیا ہے اور کمپنی کے عہدیدار کے مطابق اس معاہدے کی مالیت اندازاً 25 کروڑ 40 لاکھ ڈالر ہوگی۔
معاہدے کے بعد کینیڈا کے وزیر اعظم سٹیفن ہارپر نے کہا ہے کہ یہ دونوں ممالک کے درمیان کاروبار کو بڑھانے کے ارادوں کا نتیجہ ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بھارتی وزیراعظم مودی نے کہا ہے کہ کروڑوں ڈالر کے اس معاہدے سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ دونوں ممالک میں باہمی اعتماد اور بھروسہ کس بلندی پر ہے۔







