بھارت میں مودی کے چائے کے سٹال کا تفریحی سفر

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ مودی کی شخصیت کا سحر پھیل رہا ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشننامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ مودی کی شخصیت کا سحر پھیل رہا ہے

بھارت میں ایک نجی ٹور آپریٹر نے وزیرِ اعظم نریندر مودی کی جائے پیدائش اور ان کی چائے بیچنے والے سٹال کے یومیہ تفریحی سفر کروانے کا منصوبہ بنایا ہے۔

فروری میں شروع ہونے والے ایک دن پر محیط اس سفر میں گجرات کے ویدنگر علاقے نے کافی زیادہ سیاحوں کو متوجہ کیا ہے۔

آپریٹر کو توقع ہے موسم گرما میں یہاں دسیوں ہزار افراد آئیں گے۔

بی جے پی کے رہنما کی جائے پیدائش کے اس سفر میں جن مقامات کی سیر شامل ہے ان میں وہ گلیاں جہاں وہ کبھی رہا کرتے تھے، ان کا سکول، وہ ریلوے سٹیشن جہاں وہ چائے بیچا کرتے تھے، اور وہ چھوٹی سی جھیل شامل ہے جہاں اطلاعات کے مطابق انھوں نے ایک بار مگرمچھ کا بچہ پکڑا تھا۔

ٹور آپریٹر منشین شرما نے بی بی سی ہندی کے انکور جیئن کو بتایا کہ اس سفر کے اخراجات 600روپے فی کس ہیں۔

منیش شرما کے بقول ’اس تفریحی سفر کے آغاز سے اب تک تقریباً دس ہزار افراد نے سیر کی ہے۔‘

لوگوں کو زیادہ اشتیاق اس ریلوے سٹیشن کو دیکھنے کا ہوتا جہاں کبھی مودی چائے بیچا کرتے تھے۔ وہ وہاں بہت سے تصاویر بناتے ہیں۔ ان گرمیوں میں ہمیں امید ہے کہ 40 ہزار افراد آئیں گے‘۔

اوائل میں ہفتے میں ایک بار کروایا جانے والا یہ ٹور لوگوں کے مطالبے پر اب روزانہ کی بنیاد پر کر دیا گیا ہے۔

اس میں سیاحوں کو یہاں سے 99 کلومیٹر دور احمد آباد شہرسے لایا جاتا ہے۔

اس ریلوے سٹیشن پر مودی اپنے والد کے ساتھ چائے فروخت کیا کرتے تھے

،تصویر کا ذریعہANKUR JAIN

،تصویر کا کیپشناس ریلوے سٹیشن پر مودی اپنے والد کے ساتھ چائے فروخت کیا کرتے تھے

گجرات کے سیاحت کے محکمے کے سربراہ سنجے کول کا کہنا ہے کہ بی جے پی کی حکومت اس نجی ٹور کو فروغ دے رہی ہے۔

وید نگر نامی یہ علاقہ اس وقت توجہ کا مرکز بنا تھا جب نریندر مودی سنہ 2001 میں گجرات کے وزیرِ اعلیٰ بنے۔

اس کے بعد یہاں بالی وڈ کی فلموں کی عکس بندی کی گئی۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ مودی کی شخصیت کا سحر پھیل رہا ہے۔

رواں برس کے اوائل میں ان کے مداحوں نے اس وقت ان کے نام کا مندر تعمیر کرنے کا منصوبہ ترک کیا تھا جب مودی نے کہا کہ وہ اس خیال پر حیران ہیں۔

وزیر اعظم کی مورتی والا یہ مندر فروری میں کوتھاری نامی گاؤں میں کھلنے والا تھا۔

اس کے بعد فروری میں ہی ہیروں کے ایک تاجر نے مودی کے نام کے پرنٹ والا متنازع سوٹ چار کروڑ تیس لاکھ روپے سے زیادہ میں خریدنے کی پیشکش کی تھی۔

امریکی صدر سے ملاقات کے دوران پہنے جانے والے اس سوٹ پر اس وقت تنقید کی گئی جب یہ سامنے آیا کے اس پر بنی دھاریوں میں دراصل نریندر مودی کا نام پرنٹ کیا گیا ہے۔