جنسی ہراس کے خلاف فولاد کے لباس میں احتجاج

- مصنف, ڈیوِڈ لوئن
- عہدہ, بی بی سی نیوز، کابل
افغانستان کے دارالحکومت کابل میں ایک آرٹسٹ کبریٰ خادمی کو اس وقت دھمکیاں ملیں جب انھوں نے جنسی ہراس کے خلاف فولادی لباس پہن کر کابل کی سڑکوں پر چہل قدمی شروع کر دی۔
کبریٰ خادمی کو دھمکیاں موصول ہونے کے بعد روپوش ہونا پڑا۔
ان کو امید تھی کہ کابل کی سڑکوں پر دس منٹ تک گھوم پھر سکیں گی لیکن آٹھ منٹ بعد ہی ان کو اس وقت گاڑی میں بیٹھ کر اپنی جان بچانی پڑی جب وہاں موجود لوگ مشتعل ہو گئے۔ لوگوں نے ان پر چیزیں بھی پھینکیں۔
کبریٰ نے بتایا کہ لوگوں نے کہا: ’یہ فاحشہ ہے۔ یہ کیا کر رہی ہے؟ کیا یہ غیرملکی ہے؟ یہ ہے کون؟‘

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
کبریٰ کا کہنا ہے کہ انھوں نے ایسا اس لیے کیا کہ افغان عورتیں خاموشی سے اذیت برداشت کر رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ برقعہ بھی ان کو محفوظ نہیں رکھتا اور برقعے کے باوجود ان کو جنسی ہراس کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
ایک خفیہ مقام سے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ان کو یہ فولادی لباس بنوانے میں کئی ہفتے لگے۔ انھوں نے کہا کہ لوہار پہلے تو ان کو دیکھ کر پریشان ہوئے لیکن انھوں نے جب سینے اور کولھوں کی پیمائش کے نشان لگائے تو انھوں نے لباس تیار کر دیا۔
کبریٰ نے کہا کہ یہ لباس انھوں نے اس لیے بنوایا ہے کہ ’مرد عورتوں میں صرف یہی چیزیں دیکھتے ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ لباس کا خیال ان کو اپنے ساتھ پانچ سال کی عمر میں جنسی ہراس کے تجربے کے باعث آیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

’اپنے ساتھ ہونے والے جنسی ہراس کے تجربے کے بعد میرے ذہن میں اپنی شناخت اور جنس کے بارے میں سوال ابھرے۔ مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے کسی نے ایک تتلی کو مار دیا ہو۔
’میں اب سوچتی ہوں کہ کاش اس وقت میرے پاس میرا فولادی انڈرویئر ہوتا۔‘
کبریٰ نے کابل کے علاقے کوٹ سنگی کی سڑک پر فولادی لباس پہن کر گھومنے پھرنے کرنے کا ارادہ کیا کیونکہ وہ اس علاقے میں 2008 میں کالج میں پڑھتی تھیں جہاں ان پر آوازے کسے جاتے تھے۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
’کالج میں جب میرے ساتھ یہ ہوا تو میں چیخی اور لوگ میری طرف متوجہ ہوئے اور مجھ پر چیخنے لگ گئے کہ فاحشہ تمہاری چیخنے کی ہمت کیسے ہوئی۔ کسی نے بھی میرا دفاع نہیں کیا۔‘

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
انھوں نے مزید کہا: ’مجھے پچھلے ہفتے فولادی لباس پہن کر گھومنے پر ہراس کا خدشہ تھا لیکن میرا خیال تھا کہ یہ ردِعمل کم ہو جائے گا۔ لیکن مجھ پر دباؤ روز بروز بڑھ رہا ہے۔‘







