بھارت میں سوائن فلو سے سات سو ہلاکتیں

عام لوگ بیماری سے بچنے کے لیے تمام احتیاط برت رہے ہیں

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنعام لوگ بیماری سے بچنے کے لیے تمام احتیاط برت رہے ہیں

بھارت میں صحت عامہ کے حکام سوائن فلو پر قابو پانے کے لیے کوششیں کر رہے ہیں جس میں مبتلا ہو کر گذشتہ دسمبر سے اب تک ملک میں سات سو افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

سوائن فلو میں مبتلا مریضوں کی تعداد گزشتہ ایک ہفتے میں دگنی ہوگئی ہے اور اس وقت مجموعی طور پرگیارہ ہزار افراد اس بیماری کا شکار ہیں۔

حکومت پر اس مرض سے بچنے کی ادویات وقت پر مہیا نہ کرنے کے الزام میں تنقید کی جا رہی ہے جب کہ حکام کا دعویٰ ہے کہ حالات قابو میں ہیں۔

سنہ 2010 کے بعد سے ملک میں سوائن فلو کا یہ سب سے خطرناک حملہ ہے۔ یہ فلو ایچ ون این ون وائرس سے پھیلتا ہے جو سنہ 2009 میں پہلی مرتبہ میکسیکو میں سامنے آیا تھا اور بہت تیزی سے دنیا میں پھیل گیا۔

سوائن فلو سے بچاؤ کی احتیاطی تدابیر کی جا رہی ہیں

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنسوائن فلو سے بچاؤ کی احتیاطی تدابیر کی جا رہی ہیں

بھارت کی ریاست راجستھان سب سے زیادہ متاثرہ علاقہ ہے۔

صحت عامہ کے حکام نے ملک بھر میں ٹی وی اور ریڈیو پر لوگوں میں اس بیماری سے بچاو کے بارے میں آگہی پیدا کرنے کے لیے مہم شروع کر دی ہے۔

صحت کے وزیر جے پی نادا نے دواوں کی قلت کے بارے میں خبروں کی تردید کی ہے۔

انھوں نے کہا کہ اگر کوئی سٹور یہ دوا دینے سے انکار کرے تو اس کی اطلاع فوری طور پر متعلقہ حکام کو کی جائے۔

انھوں نے مزید کہا کہ پریشانی کی کوئی بات نہیں ہے اور حکومت صورت حال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ کم درجہ حرارت کی وجہ سے یہ بیماری پھیلی ہے۔