دہلی میں ’آپ‘ کی جیت عام آدمی کی جیت

،تصویر کا ذریعہAP
بدعنوانی کے خلاف جدوجہد کرنے والے رہنما اروِند کیجریوال کی دہلی کے ریاستی انتخابات میں بھاری اکثریت سے کامیابی بھارتی دارالحکومت میں ہر ایک کی زبان پر ہے۔
اروِند کیجریوال کے ہزاروں حامیوں نے پارٹی کے دفتر کے باہر جشن منایا، مٹھایاں بانٹیں، گانے گائے اور رقص کے ساتھ آتش بازی بھی کی۔
بہت سے بھارتی شہریوں نے سوشل میڈیا خصوصاً ٹوئٹر پر اس کامیابی کے بارے میں رائے دینے کو ترجیح دی اور AAPSweep# کے علاوہ DehliDecides# اور KiskiDehli# کے ہیش ٹیگ استعمال کیے جو بھارت میں ٹاپ ٹین ٹرینڈز میں شامل ہو گئے ہیں۔
ایک دن قبل وزیراعظم نریندر مودی نے ٹوئٹر پر شکست تسلیم کرتے ہوئے ٹویٹ کی۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
اس کے بعد مرکز میں حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی کی امیدوار کرن بیدی نے بھی ٹوئٹر پر اپنی شکست کو تسلیم کرتے ہوئے ٹویٹ کی۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
دوسرے کئی سیاست دانوں، سماجی کارکنوں، صحافیوں اور عام شہریوں نے ٹوئٹر پر اروند کیجریوال کو مبارکباد دی جن میں کشمیر کے سابق وزیرِاعلیٰ عمر عبداللہ بھی شامل تھے۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
بھارت کے سابق چیف الیکشن کمشنر ایس وائے قریشی نے عام آدمی پارٹی کے رہنما کو آگے آنے والے چیلنج یاد دلائے۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
دہلی کی سڑکوں پر رکشہ چلانے والے پون بسواس نے کہا کہ انھوں نے بھارتیہ جنتا پارٹی کو ووٹ دیا مگر خوش ہیں کہ عام آدمی پارٹی جیتی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
پون نے بی بی سی ہندی کو بتایا کہ ’میں نے بی جے پی کو ووٹ اس لیے دیا کیونکہ میں نے سوچا کہ جب تک مرکزی حکومت کی حمایت نہ ہو، دہلی کے بنیادی ڈھانچے میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔ مگر میں خوش ہوں کہ میرے ووٹ نے بی جے پی کو کامیابی نہیں دلائی۔ عام آدمی پارٹی کی کامیابی میرے جیسے عام آدمی کی کامیابی ہے میں اپنی خوشی بیان نہیں کر سکتا۔‘
انھوں نے کہا کہ ’اگلے پانچ سال تک کیجریوال کو دہلی کے عوام کی خدمت کرنی چاہیے اور شہر سے بدعنوانی کا خاتمہ کر کے مہنگائی کم کرنی چاہیے۔‘
ڈولی دارالحکومت کی میونسپل کارپوریشن کے لیے خاکروب کے طور پر کام کرتی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ عام آدمی پارٹی کی جیت میرے جیسے ’جھاڑو پھیرنے والے‘ لوگوں کی کی جیت ہے۔ عام آدمی پارٹی کا انتخابی نشان جھاڑو تھا جس کے بارے میں پارٹی کا کہنا تھا کہ یہ شہر سے بدعنوانی کے خاتمے کی علامت ہے۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
ڈولی نے کہا کہ ’مجھے بہت خوشی ہے کہ عام آدمی پارٹی نے دہلی کی اسمبلی میں اکثریتی نشستیں جیتی ہیں اور مجھے یقین ہے کہ وہ ہمارے مسائل کے لیے کام کریں گے جیسا کہ بجلی، پانی اور رہائش کے مسائل۔ انھوں نے وعدے کیے ہیں اور ہمیں یقین ہے کہ وہ وعدے پورے کریں گے۔ ہم تبدیلی کی تلاش میں ہیں، کانگریس یا بھارتیہ جنتا پارٹی کے علاوہ کسی اور جماعت کی تلاش میں جو اب ہمارے پاس ہے۔‘
ڈولی نے امید ظاہر کی کہ ’وہ یقینی بنائیں گے کہ شہر میں بدعنوانی پر مکمل پابندی ہو۔ مگر ہمیں محتاط رہنے کی ضرورت ہے کہ نئی حکومت دہلی کو کیسےچلائے گی۔‘
دہلی حکومت کے ملازم جیون سنگھ نے کہا کہ انتخابات کے نتائج ’وزیراعظم مودی اور بی جے پی کے لیے بہت بڑا دھچکہ تھا مگر کیا اسی کو ہی جمہوریت نہیں کہتے؟‘

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
یونیورسٹی کی 19 سالہ طالبہ یاشیکا شرما کو کیجریوال سے بڑی امیدیں وابستہ ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’کیجریوال دہلی کو خواتین کے لیے محفوظ بنانے کے وعدے کو پورا کریں گے۔ میں شہر میں مزید سی سی ٹی وی کیمرے چاہتی ہوں، خواتین کے لیے مخصوص بسیں، خواتین کے لیے مزید بیت الخلا اور بہتر پولیسنگ بھی۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’سکولوں اور کالج میں داخلہ لینا مصیبت سے کم نہیں۔ بہت کم کالج ہیں اور بہت سارے طلبہ ہیں۔ امید ہے کالجوں میں داخلہ لینے کے عمل کوآسان بنایا جائے گا کیونکہ کیجریوال نے مزید کالج کھولنے کا وعدہ کیا ہے۔ مجھے ان کے تصورات پر پکا اعتماد ہے۔‘
جے مشرا کی عمر 21 سال ہے۔ انھوں نے کہا کہ وہ خوش ہیں کہ عام آدمی پارٹی جیت گئی ہے کیونکہ یہ ’نوجوانوں کو بنیاد بنانے‘ والی پارٹی ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’جماعت میں بہت سی توانائی ہے اور اس کے زیادہ تر امیدوار پڑھے لکھے ہیں۔ عام آدمی پارٹی کی جیت نے ہمیں امید دلائی ہے کہ اب حالات بہتری کی طرف جائیں گے۔ شہر کو ایک دیانت دار اور شفاف حکومت کی ضرورت ہے۔‘
بی بی سی ہندی کے نامہ نگاروں شالو یادو، نتن سری واستوا اور سلمان روی کی رپورٹنگ۔







