افضل گورو کی برسی پر کشمیر میں ہڑتال

کشمیری شہری افضل گورو کی دوسری برسی پر کشمیر میں احتجاج
،تصویر کا کیپشنکشمیری شہری افضل گورو کی دوسری برسی پر کشمیر میں احتجاج
    • مصنف, ریاض مسرور
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، سری نگر

بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر سے تعلق رکھنے والے محمد افضل گورو کو سنہ 2013 میں نو فروری کی صبح خفیہ طور پر دہلی کی تہاڑ جیل میں پھانسی دی گئی۔ انھیں جیل احاطے میں ہی دفنا دیا گیا۔ اس واقعے سے کشمیر میں سنسنی پھیل گئی اور دو ہفتوں تک مظاہروں کا سلسلہ جاری رہا جس کے دوران پولیس کارروائی میں کئی نوجوان مارے گئے۔

علیحدگی پسندوں نے اسے بھارتی جمہوریت اور اس ملک کے آئین کا بہیمانہ قتل قرار دیا اور اعلان کیا کہ اگر افضل کی باقیات واپس نہِیں کی گئیں تو ہمہ گیر تحریک چھیڑ دی جائے گی۔ لیکن یہ معاملہ چند ہفتوں میں ٹھنڈا پڑ گیا۔علیحدگی پسند ذاتوں کے ٹکراو سے پیدا شدہ مسائل کو سلجھانے میں مصروف ہوگئے، یہاں تک کہ حریت کانفرنس کا ایک اور دھڑہ الگ ہوگیا جس کی قیادت شبیر احمد شاہ کے حصے میں آئی۔

اس حیرت انگیز پھانسی کی دوسری برسی پر نوفروری کو علیحدگی پسندوں نے ہڑتال اور مظاہروں کی کال دی، لیکن حکومت نے درجنوں علیحدگی پسند رہنماؤں اور ان کے ساتھیوں کو قید کرلیا اور سرینگر کے حساس علاقوں کی ناکہ بندی کرلی۔

افضل گورو کی پھانسی پر مسلسل کئی دنوں تک احتجاج کیے جاتے رہے

،تصویر کا ذریعہ

،تصویر کا کیپشنافضل گورو کی پھانسی پر مسلسل کئی دنوں تک احتجاج کیے جاتے رہے

ہندنواز رکن اسمبلی انجینیئر عبدالرشید شیخ نے لال چوک میں اپنے کارکنوں کے ہمراہ مظاہرہ کیا اور مطالبہ کیا کہ افضل کی باقیات کو واپس کیا جائے۔

پھانسی کے وقت افضل گورو کی عمر 44 برس تھی۔ وہ جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے ایک سابق عسکریت پسند تھے، جنھوں نے سنہ 1990 کی دہائی کےدوران ہی والدین اور اہلیہ کے کہنے پر مسلح تحریک کا راستہ ترک کرکے اعلی تعلیم حاصل کی اور نئی دہلی میں ہی ایک دواساز کمپنی کے مینیجر بن گئے تھے۔

سنہ 2001 میں 13 دسمبر کو بھارتی پالیمان پر مسلح حملہ کیاگیا اور دو روز بعد افضل، اس کے بھائی اور ان کی اہلیہ افشاں گورو سمیت کئی لوگوں کو گرفتار کر لیا گیا۔

جس غیرضروری رازداری اور بے مروتی کے ساتھ افضل کو پھانسی دی گئی، اس نے کشمیر میں بھارتی جمہوریت اور انصاف کے اداروں کو بے وقعت بنادیا ہے۔ افضل کو قانونی پیروی کا موقع نہیں دیا اور انھیں پارلیمنٹ حملے کی سازش کا محض حصہ جتلا کر ’قومی ضمیر کے اطمینان کی خاطر‘ پھانسی کا مستحق قرار دیا گیا اور اس میں جلدبازی کا عالم یہ تھا کہ پھانسی کے مستحق افراد کی فہرست میں ان کا نمبر 19 واں تھا لیکن بھارت میں انتخابات سے عین قبل انہیں اہل خانہ سے ملاقات کی اجازت کے بغیر ہی ابدی نیند سلادیا گیا۔

افضل گورو کی اہلیہ تبسم کا کہنا ہے کہ انھیں انصاف نہیں ملا

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنافضل گورو کی اہلیہ تبسم کا کہنا ہے کہ انھیں انصاف نہیں ملا

کشمیر میں ایسی ہی ایک پھانسی کا واقعہ 11 فروری 1984 کو رونما ہوا۔ لبریشن فرنٹ کے رہنما اور کشمیر میں مسلح تحریک کے بانی محمد مقبول بٹ کو اسی روز پھانسی دی گئی۔ اس واقعے کے تین سال بعد کشمیر میں پاکستانی سرحدوں سے روسی ساخت کی بندوق اے کے-47 وارد ہوئی اور کشمیریوں نے مسلح مزاحمت کا استقبال کیا۔ لیکن یہ مزاحمت داخلی انتشار اور حکومت ہند کی طرف سے جنگی پیمانے پر کی جانے والی انسدادی کاروائیوں کے باعث چند برس میں ہی کمزور پڑگئی۔ 25 سالہ مسلح شورش اب ہلاکتوں اور اندوہناکیوں کا ایک طویل دفتر ہے۔

لبریشن فرنٹ کے رہنما محمد یاسین ملک کہتے ہیں: ’آج کل کشمیر کے تعلیم یافتہ نوجوان مرنے مارنے پر آمادہ ہیں۔ وہ اب پولیس والوں پر حملے کرکے ان سے ہتھیار چھینتے ہیں۔ یہ اسی ہمالیائی ناانصافی کا نتیجہ ہے جو نو فروری 2013 کو ہوئی۔‘

دریں اثنا کانگریس پارٹی کے مقامی رکن اسمبلی نے ایک بیان میں اعتراف کیا ہے کہ افضل کی پھانسی ایک ’قومی غلطی‘ تھی۔ لیکن یہ بیان ایک آزاد رکن اسمبلی انجنیر عبدالرشید کے اصرار کے بعد اُس وقت دیا گیا جب ان سے کانگریس نے راجیہ سبھا کے انتخابات میں حمایت کی درخواست کی۔

کئی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ کشمیری نوجوانوں میں بھارت کے خلاف غم و غصہ بڑھتا جا رہا ہے

،تصویر کا ذریعہ

،تصویر کا کیپشنکئی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ کشمیری نوجوانوں میں بھارت کے خلاف غم و غصہ بڑھتا جا رہا ہے

مبصرین کا کہنا ہے کہ علیحدگی پسند عالمی برادری تو دُور افضل کے معاملے میں پاکستان کو بھی اس بات کا قائل نہ کرسکے کہ باقیات کی واپسی کے لیے عالمی اداروں میں مہم چھیڑ دے۔ لہِذا افضل گورو کا معاملہ اب ہندنوازوں کی مقامی سیاست اور اقتدار کی رسہ کشی میں لہجہ سازی کا محض ایک ذریعہ بن گیا ہے۔ افضل کی بیوہ تبسم گورو اپنے بیٹے غالب کے ہمراہ اب سوپور کے اُسی مکان میں رہتی ہیں جس کا راستہ ایک وسیع فوجی کیمپ کے بیچوں بیچ سےگزرتا ہے۔

تبسم کہتی ہیں: ’ہندوستان کی نفرت اب میرا مذہب ہے۔ میرے ساتھ جو ہوا اس پر ہندوستان کی پوری آبادی کو شرم آنی چاہیے۔ لاش تو دوُر، افضل کی تحریریں، ان کا چشمہ اور ان کے کپڑے تک نہیں دیے گئے ابھی مجھے۔ آپ کس جمہوریت کی بات کرتے ہیں؟‘