افضل گورو کی برسی: کشمیر کے کئی علاقوں میں کرفیو

،تصویر کا ذریعہAFP
بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں حکام نے افضل گورو کو دی جانے والی پھانسی کی پہلی برسی کے موقعے پر مظاہروں کو روکنے کے لیے کئی علاقوں میں کرفیوں نافذ کر دیا ہے۔
بھارت کے زیر انتظام کشمیر سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق سری نگر میں تمام دکانیں اور دفاتر بند ہیں۔
کشمیر میں کئی علیحدگی پسند تنظیموں نے افضل گورو کو پھانسی دی جانے کی پہلی برسی کے موقعے پر ہڑتال کا اعلان کیا تھا۔
واضح رہے کہ افضل گورو کو پچھلے برس نو فروری کو 2001 میں بھارتی پارلیمنٹ پر حملے کے جرم میں پھانسی دی گئی تھی۔
افضل گورو نے ہمیشہ اس جرم سے انکار کیا جبکہ انسانی حقوق کے لیے کام کرنی والی تنظیموں کا کہنا ہے کہ افضل گورو کا مقدمہ منصفانہ نہیں تھا۔
افضل گورو کا تعلق بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کے شمالی قصبے سوپور سے تھا۔
50 سالہ افضل گورو کو 13 دسمبر 2001 کو بھارتی پارلیمان پر ہونے والے حملے کا منصوبہ ساز یا ماسٹر مائنڈ قرار دیا گیا تھا اور 10 برس سے زائد عرصہ پہلے دسمبر 2002 میں انہیں اس جرم میں سزائے موت سنائی گئی تھی۔
ابتدائی طور پر 20 اکتوبر 2006 کو اس سزا پر عملدرآمد ہونا تھا لیکن ان کی اہلیہ کی جانب سے صدر سے رحم کی اپیل پر یہ معاملہ زیرِ التوا تھا۔ تاہم بھارتی صدر یہ درخواست مسترد کردی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
محمد افضل گورو دہلی کی تہاڑ جیل کے مخصوص وارڈ میں قید تھے اور پھانسی کے بعد انھیں جیل کے احاطے میں ہی دفنا دیا گیا۔







